کسان اور حکومت

کسان اور حکومت
کسان اور حکومت

  

تمام شعبوں کی طرح عمران خان حکومت زراعت کے شعبوں میں بھی "look busy, doing nothing" کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ بڑے بڑے اعلانات، تقریریں، دعوے اور سچے جھوٹے اعدادو شمار۔ وزیر اعظم عمران خان جس audience کو خطاب کرتے ہیں، وہی ان کی ”پہلی ترجیح“ ہوتی ہے۔ مثلاً صنعت کاروں کے خطاب میں صنعت کی ترقی ان کی ”پہلی ترجیح“، برآمدکنندگان سے خطاب میں برآمدات،تارکین وطن سے ان کے مسائل ”پہلی ترجیح“ ، کسی ہسپتال کی تقریب میں صحت، یونیورسٹی یا تعلیمی ادارے میں تعلیم، تاجروں اور کاروباری افراد سے خطاب میں ease of doing business اور عوامی اجتماعات میں غربت کا خاتمہ، روزگار اور الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ روٹی، کپڑا، مکان وغیرہ ان کی ”پہلی ترجیح ہوتی ہے۔ گویا وزیر اعظم جن کے پاس خطاب کرتے ہیں، وہی ان کی پہلی ترجیح ہوتی ہے۔ اس لئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان کی دس، پندرہ یا شائد بیس ”پہلی ترجیح“ ہیں۔ بالکل ایسا ہی زراعت میں بھی ہے۔ یکم جولائی کو اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں کسانوں کے پیکیج کے لئے منعقدکی گئی تقریب میں انہوں نے کسانوں کو بھی بتایا کہ زراعت اور کسان ان کی ”پہلی ترجیح“ ہیں۔

زراعت کی ترقی اور کسان کی خوشحالی کے بارے میں حکومت بڑے بڑے دعوے پچھلے تین سال سے کر رہی ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ دھرتی کا سینہ چیر کر چوبیس کروڑ پاکستانی عوام کے لئے خوراک فراہم کرنے والے غریب کسان بدستور بد حالی کا شکار ہیں۔ افغانستان کی چار کروڑ آبادی بھی خوراک کی زیادہ تر ضروریات پاکستان سے ہی پورا کرتی ہے۔ عمران خان حکومت نے اپنے تین سال کے دوران کسانوں کے لئے جس پیکیج کا بھی اعلان کیا، اس میں کسی بھی پیکیج پر عمل در آمد نہیں کرا سکی اور اعلانات محض ڈھکوسلا ثابت ہوئے۔ گذشتہ سال بجٹ میں پہلے62 ارب اور پھر 50 ارب کے کسان پیکیج کا اعلان کیا گیا جس میں 37 ارب کھاد کے لئے اور 13 ارب دوسری مدوں میں رکھے گئے تھے۔ پچھلا بجٹ جون میں آیا تھا، لیکن دسمبر گذر جانے کے بعد، یعنی چھ ماہ کے بعد بھی جب کھاد کی سبسڈی کے لئے کوئی میکنزم نہیں بن سکا تو پھر حکومت نے چپکے سے پیکیج ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس سے پچھلے سال بھی ایسا ہی ہوا تھا اور حکومت کا اعلان کردہ 100 ارب کا پیکیج محض اعلان اور کسانوں کو جھوٹے سنہرے خواب دکھانے کی حد تک ہی رہ گیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کے دور میں وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کسانوں کے لئے جن پیکیجوں کے اعلان کئے تھے، ان تمام پر من وعن عمل درآمد ہوا کرتا تھا اور 2015ء سے 2018ء تک کھادوں، زرعی ادویات، ٹریکٹروں اور دوسرے زرعی آلات پر ہر سال پوری اعلان شدہ سبسڈی ملتی رہی۔ 

کسانوں کا اہم ترین مسئلہ مہنگے بیج، ادویات، کھاد، بجلی اور ڈیزل ہیں۔ ان کے مہنگے ہونے کی وجہ سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور فصل کی بظاہر زیادہ قیمت ملنے کے باوجود وہ نقصان اٹھاتا ہے۔ بجلی اور ڈیزل کی بار بار بڑھتی قیمتوں نے کسان کی کمر توڑ دی ہے۔ 

بھارت میں ٹیوب ویلوں کو برائے نام قیمت پر بجلی دی جاتی ہے، جبکہ ہمارے کسان انتہائی مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور ہیں۔ کسان کو اس سال فصلوں کی بہتر قیمتیں ضرور ملی ہیں،لیکن اس کی وجہ حکومت کی طرف سے دی گئی کوئی سہولت یا پالیسی نہیں ہے۔ اس کی جوہات میں دو فیکٹر اہم ہیں۔ پہلا، روپیہ کی قدر میں کمی اور دوسرا، کورونا کی وبا میں عالمی سطح پر زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ، بلکہ اصل صورت حال تو یہ ہے کہ”مقبولیت“ حاصل کرنے کے لئے حکومت زرعی اجناس کی قیمتوں کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جیسے گندم کی امدادی قیمت درآمد شدہ گندم کی مقرر کردہ قیمت سے بہت کم ہے۔ یہ کتنی ستم ظریفی ہے کہ روس سے 2500 روپے من گندم درآمد کر کے اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ روس بھیج دیا جاتا ہے، لیکن خون پسینہ ایک کئے ہوئے ہمارے کسان کے لئے قیمت 1800 روپے مقرر کی جاتی ہے۔ گندم کے علاوہ پاکستان کی اہم ترین نقد آور فصل کپاس کے حالات انتہائی خراب ہیں اور اس وجہ سے اس سال اپنی ضرورت کے لئے درکار کپاس کا نصف بھی نہیں پیدا ہو سکا۔ پاکستان کو ہر سال اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے 12 ملین گانٹھوں کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اس سال صرف ساڑھے 5 ملین گانٹھیں ہی پیدا ہو سکیں، کیونکہ غلط اور ناقص حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے کسانوں نے بہت کم کپاس بوئی۔

یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ ان کسان کش حالات میں بھی حکومت جھوٹے دعوے کرنے سے باز نہیں آ رہی اور وزارت اطلاعات کے جاری کردہ ایک اشتہار میں کپاس کے کاشکار کے منافع میں 44 فیصد اضافہ بتایا گیا ہے۔ تقریباً نصف گھنٹے کی تقریر میں کسانوں کے لئے کسی نئی رعائیت کا اعلان تو کیا نہیں گیا۔ البتہ ہمیشہ کی طرح ایک motivational speech ضرور سننے میں ملی، جس میں ہر موقع پر کئی گئی وہی باتیں دہرائی گئیں جو اقوام متحدہ سے لے کر قومی اسمبلی اور ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کے علاوہ ہر تقریب میں سننے کو ملتی ہیں۔ البتہ ایک خوش آئند اضافہ یہ ضرور تھا کہ عمران خان نے بتایا کہ وزیراعظم بننے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ دودھ میں ملاوٹ ہوتی ہے (گویا وزیر اعظم بننے سے پہلے کی 67 سالہ زندگی میں وہ دودھ میں ملاوٹ کے بارے میں نہیں جانتے تھے)۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ اس اہم ترین انکشاف کے بعد عوام کو درپیش اور بھی بہت سے مسئلے ان پر منکشف ہوں گے، جہاں تک زراعت اور کسانوں کا تعلق ہے، انہیں بدستور لالی پاپ پر ہی گذارہ کرنا پڑے گا، کیونکہ یہی ایک چیز عمران خان حکومت کے پچھلے تین سال سے انہیں دی جا رہی ہے۔ ویسے بھی پہلے کب کسی اعلان شدہ پیکیج پر عمل درآمد ہوا ہے کہ اس کی توقع رکھی جاتی۔ کیا یہ تبدیلی کم ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں پاکستان ہر سال گندم بر آمد کرتا تھا اور اب گندم کی درآمد کی ضرورت ہر پچھلے سال سے زیادہ ہوتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -