جھوٹ کا بیوپار عوام سے کھلواڑ

 جھوٹ کا بیوپار عوام سے کھلواڑ
 جھوٹ کا بیوپار عوام سے کھلواڑ

  

یہ کیوں سمجھ لیا گیا ہے سیاست میں سچ بولنے کی گنجائش نہیں ہوتی، جتنا زیادہ کوئی جھوٹ بول سکتا ہے وہ اتنا ہی بڑا سیاستدان بن جاتا ہے۔ جتنی تردیدیں سیاستدانوں کے بیانات کی ہوتی ہیں یا جتنی وضاحتیں وہ خود اپنے بیانات کی کرتے ہیں، اس کا حساب کتاب رکھا جائے تو یہی لگے گا کہ سیاست کے نام پر جھوٹ کا کاروبار ہو رہا ہے۔ اب بھلا وزیر اعظم کے ترجمان شہباز گل سے کوئی یہ پوچھے انہیں کیا امریکی صدر جوبائیڈن نے فون کر کے بتایا ہے بلاول بھٹو زرداری امریکہ یہ یقین دہانی کرانے آ رہے ہیں کہ امریکہ کو اڈے دیں گے بس انہیں وزیر اعظم بنا دیں۔ مسئلہ یہ ہے ایسے بیانات پر کوئی گرفت بھی نہیں ہوتی اور تکا بھی لگ جاتا ہے۔ کیا پاکستان میں کوئی وزیر اعظم تنہا ایسا بڑا فیصلہ کر سکتا ہے، کیا فوج اور اسٹیبلشمنٹ کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، کیا امریکہ ملک میں وزیر اعظم لگواتا ہے، تو کیا عمران خان نے بھی وزیر اعظم بننے کے لئے امریکہ سے چٹ لی تھی، ایسے فضول بیانات اس لئے میڈیا پر چل جاتے ہیں کہ کہنے والا حکومتی ترجمان ہوتا ہے، وگرنہ کوئی عام آدمی یہ بات کرے تو لوگ اسے پاگل خانے جمع کرا دیں اِدھر عظمیٰ بخاری جو مسلم لیگ (ن) کی ترجمان ہیں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار پر مسلسل الزامات لگا رہی ہیں، اب انہوں نے ان پر مہنگی گاڑی لینے کا الزام لگا دیا ہے۔ جسے پنجاب حکومت کی مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے یہ کہہ کر رد کر دیا ہے کہ گاڑی عثمان بزدار کو ان کے والد فتح محمد بزدار نے لے کر دی تھی۔ اب (ن) لیگی ترجمان سوال یہ اٹھائیں گی بزدار صاحب کے والد تو سوا سال پہلے وفات پا چکے ہیں، گاڑی تو اب لی گئی ہے کیا انہوں نے یہ گاڑی عالمِ بالا سے بھیجی ہے۔ غرض ایسی باتیں ہوتی رہیں گی اور سچ کبھی سامنے نہیں آئے گا۔ بس تردیدیں ہی سامنے آئیں گی اور وضاحتیں ہی جاری کی جائیں گی۔

یہ آج کی بات نہیں، ہمیشہ ہی الزامات لگتے ہیں، جھوٹے ہوں یا سچ، ان کی دھوم ضرور مچتی ہے ابھی چند روز پہلے مسلم لیگ (ن) کے جنرل سکریٹری احسن اقبال نے کہا وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات میں کئی سو گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اخراجات کے لئے آٹھ ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ منظور کی گئی ہے۔ دوسری طرف وزیر اعظم ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات میں ایک ارب سے زائد کی بچت کی گئی ہے۔ اب کوئی بتائے کہ عام آدمی کس کی بات کا یقین کرے۔ یہ بات طے ہے عام آدمی سے سچ کو چھپانا ہے، یہ اپوزیشن کا بھی اصول ہے اور حزبِ اقتدار کا بھی، کیونکہ یہ دونوں جانتے ہیں سچ تک عام آدمی کی رسائی ہے ہی نہیں، جو کچھ ہے ہمارے ہاتھ میں ہے، صبح کو شام کہہ دیں یا رات کو دن بتا دیں، کوئی ہمیں نہیں پوچھ سکتا۔ اسی رویئے کے سبب لوگوں کا سیاستدانوں سے اعتبار اٹھتا جا رہا ہے۔ ان کی باتیں بے اثر ہو رہی ہیں۔ آج کل تو ایک اپوزیشن رہنما کوئی الزام لگاتا ہے۔ درجن بھر حکومتی وزراء اور ترجمان اس کی تردید اور جوابی الزام کا پلندہ لے کر میدان میں آ جاتے ہیں ایک کے بعد ایک کی پریس کانفرنس عوام کی سمع خراشی کے لئے معمول کی نشریات روک کر چلائی جاتی ہے۔ مریم نواز کو تو حکومتی ترجمانوں نے نشانے پر رکھا ہوا ہے، ان کا کوئی بیان آ جائے کوئی الزام لگا دیں، کوئی پھلجھڑی چھوڑ دیں تو حکومتی ترجمانوں کی بند زبانیں اس طرح کھل جاتی ہیں جیسے تربیلا کے بند کھلتے ہیں پھر جو منہ میں آتا ہے بولتے چلے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں سیاست کے جھوٹ کو پھیلانے کا ایک طریقہ یہ بھی ایجاد ہوا ہے کہ جوابی الزامات لگا دو، سچ کو جھٹلانے کے لئے یہ کہنا تو معمول کی بات ہے ان کے دور میں اس سے زیادہ کرپشن ہوتی رہی ہے۔

اپوزیشن اور حکومت دونوں طرف سے جھوٹ کی یلغار کا مطلب یہ ہے کہ سیاستدان عوام کو بے وقوف سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک جو پکے منہ کے ساتھ اچھا جھوٹ بول سکتا ہے وہی بڑا سیاستدان ہے۔ یہ ایسی سوچ ہے جس نے ہماری سیاست کو زوال کی آخری حد تک پہنچا دیا ہے۔ اب یہی دیکھئے وزیر اعظم عمران خان یہ کہتے رہے امریکہ کو اڈے نہیں دیں گے مگر اپوزیشن کا یہی اصرار رہا نہیں وہ یوٹرن لیں گے اور اڈے دیں گے۔ جب تک قومی سلامتی کمیٹی میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ یقین نہیں دلا دیا کہ اڈے کسی صورت نہیں دیں گے، اس وقت تک اپوزیشن اڈے دینے کا پروپیگنڈہ ہی کرتی رہی۔ گویا سیاستدان اپنے سیاستدان بھائی کی بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں کیونکہ سیاست میں جھوٹ کی ملمع کاری اتنی زیادہ ہو چکی ہے اب اس کے سچ پر بھی جھوٹ کا گمان ہوتا ہے۔ آج تک یہ عقدہ بھی حل نہیں ہو سکا کیا واقعی اپوزیشن وزیراعظم سے این آر او مانگ رہی ہے۔ وزیراعظم نے بیسیوں بار اس کا ذکر کیا ہے اور اپوزیشن نے بیسیوں بار اس کی تردید کی ہے مگر سچ کیا ہے اس کا راز نہیں کھل سکا وزیر اعظم کبھی اس حوالے سے ٹھوس ثبوت سامنے لائے اور نہ اپوزیشن نے اپنی تردید کے حق میں شواہد پیش کئے بس جھوٹ کا سکہ چلتا رہا اور عوام ”ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم“ کی مثال بنے یہ سب تماشا دیکھتے رہے۔

ہماری سیاست میں جھوٹ کی فراوانی اس لئے بھی ہے کہ یہاں عدالتوں میں بھی الزامات ثابت نہیں ہوتے، اربوں روپے کی لوٹ مار کے الزامات حکومت اپوزیشن پر لگاتی ہے، مگر عدالتوں میں ثابت نہیں کئے جاتے، ملزمان بری ہو جاتے ہیں اور سیاسی انتقام کا واویلا کرتے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے آصف زرداری سے نیب 33 ارب روپے برآمد کر چکی ہے جبکہ پیپلزپارٹی والوں کا کہنا ہے آصف زرداری پر ایک پیسے کی کرپشن ثابت نہیں ہو سکی۔  فواد چودھری کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر چل رہی ہے جس میں وہ اپنے پیپلزپارٹی کے زمانے میں آصف زرداری کا دفاع کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں آصف زرداری گیارہ سال، بے نظیر بھٹو پانچ سال اور نصرت بھٹو پانچ سال جیل میں رہیں ان پر ایک الزام بھی ثابت نہیں ہوا اور انہیں با عزت بری کرنا پڑا۔ جہاں ایک ہی شخص پہلے کسی کی وکالت کرے اور بعد ازاں اس پر الزام لگائے تو سچ کیسے سامنے آ سکتا ہے۔

جہاں نیب میں دس دس سال تک ریفرنسوں کا فیصلہ نہ ہو سکے، جہاں انکوائری شروع ہو تو شیطان کی آنت بن جائے، جہاں احتساب کے معاملے میں نیب کچھوے کی چال چلے وہاں جھوٹ کو پنپنے سے کون روک سکتا ہے۔ آج عثمان بزدار اور عمران خان پر بھی اپوزیشن یہ الزام لگاتی ہے وہ ارب پتی ہو گئے ہیں اس حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کرتی۔ سندھ میں وزیر تعلیم سعید غنی یہ دہائی دیتے ہیں نیب حلیم عادل شیخ کے خلاف کارروائی نہیں کرتی حالانکہ تمام تر ثبوت موجود ہیں اور میں آواز اٹھاتا ہوں تو مجھے طلب کر لیتی ہے۔ اب ایسی باتوں سے ابہام بڑھتا ہے، سچ غائب اور جھوٹ نمایاں ہو جاتا ہے۔ ایک نیب ہی اگر ٹھیک ہو جائے، میرٹ پر کام کرنے لگے تو شاید جھوٹے الزامات لگانے کی روایت بھی ختم ہو جائے حالانکہ نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال اکثر یہی کہتے ہیں نیب فیس نہیں کیس دیکھتا ہے، کچھ ایسے واقعات بھی ہو جاتے ہیں جن سے واقعی یہ لگتا ہے نیب میرٹ پر کام کر رہا ہے۔

حال ہی میں نیب لاہور نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے پرنسپل سکریٹری طاہر خورشید کو ریکارڈ سمیت آٹھ جولائی کی پیشی کا نوٹس بھیجا ہے۔ اپوزیشن مطالبہ کر رہی ہے انکوائری مکمل ہونے تک طاہر خورشید کو عہدے سے ہٹایا جائے۔ یہ مطالبہ بے جا نہیں، خود عمران خان یہ کہتے رہے ہیں جس پر الزام ہے وہ خود کو کلیئر کرائے، دیکھنا یہ ہے اس کیس میں نیب کا رویہ کیا ہوتا ہے کیا طاہر خورشید کی گرفتاری عمل میں آتی ہے یا انہیں سرکاری منصب پر بیٹھ کے انکوائری بھگتنے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے کے لئے نیب نے یہ موقف اختیار کیا تھا ان کے باہر رہنے سے شہادتیں غائب ہو سکتی ہیں۔ طاہر خورشید تو ایک اہم ترین عہدے پر ہیں کیا ان کے باہر رہنے سے ایسا نہیں ہوگا۔ دوہرا معیار اختیار کیا جائے تو الزامات لگیں گے اور سچ انہی الزامات میں دب جائے گا۔ معاملہ کوئی بھی ہو سچ سامنے آنا چاہئے، اس وقت معاشرے پر جھوٹ کی جو چادر سی تن گئی ہے، اسے اتارنا ضروری ہے۔ سچ کی حکمرانی قائم ہو جائے تو ہمارے 90  فیصد مسائل بھی ختم ہو جائیں۔ مگر جن کا کام ہی جھوٹ کا بیوپار ہے وہ ایسا کیونکر ہونے دیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -