محمد احمد قاسمی نے والد کی یاد میں کتاب شائع کر دی

محمد احمد قاسمی نے والد کی یاد میں کتاب شائع کر دی

  

پروفیسر قاضی اکرام بشیر

ٹی وی آرٹسٹ مدثر حسن قاسمی کو ہم سے بچھڑے ایک سال بیت گیا انہیں زمانہ ء طالب علمی سے ہی ٹی وی ڈراموں میں حصہ لینے کا شوق تھا کیونکہ ان کے والد مولانا جعفر قاسمی چونکہ بی بی سی لندن کے پروڈیوسر رہ چکے تھے اس لئے انہوں نے اپنے مذہبی تشخص کے باوجود اپنے صاحبزادے کو ٹی وی ڈراموں میں حصہ لینے کی ناصرف اجازت دی بلکہ ہمیشہ ان کی سرپرستی بھی کی۔مدثر حسن قاسمی نے بے شمار ڈراموں میں کام کیا لیکن اندھیرا اجالا میں کام کرکے انہیں بے پناہ شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔اسی طرح انہوں نے بچوں کے ڈرامے علی بابا چالیس چور میں بھی کام کیا وہ بے شمار معروف ڈراموں نگاروں اور پروڈسرز کے ساتھ بطور ایک آرٹسٹ کام کر چکے تھے انہوں نے ڈاکٹر طارق عزیز کے ایک طویل ڈرامے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

 مدثر حسن قاسمی نے خود بھی کافی ڈرامے پروڈیوس کئے جو انہوں نے بعد میں مختلف چینلوں کو فروخت کر دیئے اور انہوں نے بطور ڈائریکٹر پروڈیوسر بھی بے پناہ شہرت حاصل کی۔مدثر حسن قاسمی نے اپنی کے آخری مہینوں میں سرکاری ملازمت سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی تھی تاکہ وہ یکسو ہو کر ڈراموں کے سلسلے میں اپنی دلچسپی اور شوق کو آگے بڑھا سکیں۔ بدقسمتی سے گزشتہ سال کورونا وائرس کی وجہ سے وہ شہادت کے مرتبے پر سرفراز ہوئے۔ان کے صاحبزادے محمد احمد قاسمی نے ان کی پہلی برسی کے موقع پر ان کی یاد میں ایک کتاب شائع کی ہے جو مدثر حسن قاسمی کے نام سے منسوب ہے اور جس میں ایک مختصر ناول اور 21نظمیں شامل کی گئیں ہیں یہ کتاب انگریزی زبان میں ہے اور اس میں مختلف نامور شخصیات کی طرف سے مدثر حسن قاسمی کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا ہے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ نا صرف یہ کہ ہم اپنے فنکاروں کو ان کی زندگی میں وہ اہمیت نہیں دیتے جو دیگر ممالک میں دی جاتی ہے۔اور صرف یہی نہیں بلکہ اس دارفانی سے چلے جانے کے بعد بھی انہیں یکسر بھلا دیتے ہیں۔یہ غنیمت ہے کہ جو چند چراغ آپ کو سسکتے ہوئے نظر آ رہے ہیں وہ ان کے لواحقین کی وجہ سے ہیں جو کہ مرحومین کی یاد کو تازہ رکھتے ہیں۔مدثر حسن قاسمی نے اپنی ابتدائی تعلیم لاہور کے ادبستان صوفیا سے حاصل کی اور بعدازاں ایف سی کالج میں داخل ہوئے لیکن جلد ہی ایف سی کالج کو چھوڑ کر اسلامیہ کالج چنیوٹ چلے گئے  جہاں سے انہوں نے گریجوایشن کی اور ایم اے عربی یونیورسٹی اورینٹل کالج لاہور سے کیا۔ انہیں ایف سی کالج کے زمانے سے ہی ٹی وی ڈراموں میں حصہ لینے کا موقع مل چکا تھا اور ایم عربی کرنے کے بعد انہیں لیکچرر شپ مل گئی جس کی وجہ سے ان کا چنیوٹ سے لاہور آنا اور واپس جانا ممکن ہو گیا کیونکہ تنخواہ کی صورت میں انہیں کافی معقول وسائل میسر آ گئے تھے۔ ٹی وی ڈراموں سے ان کی دلچسپی اتنی زیادہ تھی کہ انہوں نے ایک ایسی ملازمت سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی جو ریٹائرمنٹ لئے بغیر بھی جاری رکھی جا سکتی تھی اور اس میں بے پناہ سہولیات بھی تھیں لیکن مدثر قاسمی کسی ایسی منزل کی تلاش میں تھے جو انہیں اب تک حاصل نہ ہو سکی تھی۔

اگرچہ وہ تصوف کے سلسلہ الشازلیہ سے بھی وابستہ تھے اور اس ضمن میں وہ مختلف تقریبات کا انعقاد بھی کرتے رہتے تھے۔انہیں اپنے مرحوم والد مولانا جعفر قاسمی کے دوستوں کی شکل میں ایسے کافی احباب مل گئے تھے جو ان کی رہنمائی اور سرپرستی کرتے تھے۔ ان شخصیات میں بطور خاص جناب مجیب الرحمن شامی،ڈاکٹر امجد ثاقب،جاوید قریشی،تسنیم نورانی،چودھری محمد یعقوب،جی ایم سکندر، مہر ظفر عباس لک،شعیب بن عزیز اور عابد تہامی بھی شامل تھے۔ پاکستان ٹیلی ویژن نے ان کی سرپرستی کے لئے ان کے ایک کزن آصف قاضی بھی موجود تھے۔ جنہوں نے ہمیشہ ان کی رہنمائی کی۔

مدثر حسن قاسمی اپنی زندگی کے آخری سالوں میں گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز میں بطور صدر شعبہ عربی تعینات تھے جہاں وہ اپنے دوست احباب میں کافی ہردلعزیز تھے۔وہ کالج سے فراغت کے بعد آواری ہوٹل آ جاتے تھے جہاں ان کی نشست شام تک جاری رہتی تھی اور نماز مغرب کے قریب وہ اپنی رہائش گاہ واپڈا چلے جاتے تھے۔اس دوران بچوں کو سکول چھوڑنے کے لئے انہوں نے گاڑی اور ڈرائیور کا انتظام کر رکھا تھا اور بطور ایک آرٹسٹ کے وہ کسی مالی دشواری کا شکار نہیں تھے اور نہ ہی انہیں کبھی مالی وسائل کی کمی سے دوچار ہونا پڑا۔ وہ اپنے دوستوں کے سلسلے میں انتہائی فراخ دل تھے لیکن بحیثیت مجموعی کم آمیز تھے اور خاص و عام کی بجائے صرف خاص لوگوں سے ملنا پسند کرتے تھے۔البتہ کسی عام آدمی کو یہ احساس نہیں ہونے دیتے تھے کہ ان میں غرور و تکبر کا کوئی شائبہ بھی پایاجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلندکرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

 ٹی وی آرٹسٹ مدثر حسن قاسمی کی پہلی برسی پر خراج تحسین

اندھیرا اجالا میں کام کر کے انہیں بے پناہ شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی

مزید :

ایڈیشن 1 -