جماعت اسلامی کے مہنگائی کیخلاف مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے، ریلیاں 

      جماعت اسلامی کے مہنگائی کیخلاف مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے، ...

  

لاہور،کراچی،پشاور،سکھر(این این آئی) جماعت اسلامی سندھ کے تحت مرکزی امیر سراج الحق کی اپیل پر مہنگائی،بیروزگاری اور سودی نظام کے خلاف اعلانیہ ملک گیریوم احتجاج کی اپیل کے سلسلے میں اتوار کو جماعت اسلامی سندھ کے تحت بھی کراچی تا کشمور احتجاجی مظاہرے کئے گئے جن سے مرکزی، صوبائی اور ضلعی قیادت نے خطاب کیا،مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جن پر ”بجلی،گیس،پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نامنظور،آئی ایم ایف کی معاشی دہشتگردی نامنظور،عوام دشمن بجٹ نامنظور،حکمرانوایک کروڑ نوکریوں کے بدلے لاکھوں افراد کیوں بیروزگار،لاکھوں گھر دینے کی بجائے لوگوں کو بے گھرکرنے کا جواب دو“ کے نعرے درج تھے جبکہ مظاہرین حکومتی معاشی پالیسیوں اور مہنگائی کیخلاف فلک شگاف نعرے بھی لگارہے تھے۔ کراچی سکھر، حیدرآباد،لاڑکانہ،جیکب آباد،شکارپور،کندھ کوٹ،بدین، تھرپارکر،ٹھٹھہ،شہدادکوٹ،کنڈیارو،ٹنڈو الہیار،ٹنڈومحمدخان،ٹنڈوآدم ودیگرشہروں میں منعقدہ احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھاکہ جب سے موجودہ حکومت برسراقتدار آئی ہے بڑھتی ہوئی مہنگائی،بیروزگاری اور سودی معاشی دہشتگردی نے عوام کا جینا مشکل کردیا ہے،موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر تین سالوں میں بجلی،گیس،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور کھانے پینے کی اشیاء پر بے تحاشا ٹیکس عائد کرنے کی وجہ سے عام آدمی کیلئے دووقت کی روٹی حاصل کرنا بھی مشکل ہوچکا ہے،بجٹ کے فوری بعد بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ منی بجٹ کی ایک جھلک ہے، آئی ایم ایف اور سودی نظام معیشت سے نجات حاصل کئے بغیر ملکی ترقی اور قوم کی خوشحالی کا خواب کبھی سچا نہیں ہوسکتا۔اس سلسلے  میں جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر وسابق ایم این اے اسداللہ بھٹو نے حیدرآبادپریس کلب پر منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سودی نظام معیشت عالمی مالیاتی اداروں کا اہم ہتھیار ہے،موجودہ حکمران بھی آئی ایم ایف کے چیلے ہیں جن سے عوامی بھلائی کی امید نہیں کی جاسکتی،صنعتی اور زرعی شعبے پر چند لوگوں کا قبضہ جبکہ عام مزدور اور کسان کا خون چوسا جارہا ہے، جس ملک میں ظلم اور ناانصافی کانظام رائج ہو وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا،اسلئے جماعت اسلامی مہنگائی،بیروزگاری اور سودی نظام کیخلاف تحریک چلارہی ہے، ہماری تحریک تب تک جاری رہے گی۔شہداد کوٹ میں منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے صوبائی جنرل سیکریٹری کاشف سعید شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کا تسلسل اور کورونا کے دور میں بیروزگاری کی وجہ سے عام آدمی نہ جی سکتا ہے نہ مرسکتا ہے،نوکریاں،روزگار اور نئے گھر دینے کے دعوے کرنے والی تبدیلی حکومت کے دور میں آئے روز کھانے پینے کی اشیاء،بجلی،گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا تسلسل جاری ہے، عوام کو چاہئے کہ کرپٹ اور سودی نظام کے رکھوالوں کو اب گھر بھیجے ورنہ سودی معاشی نظام اور کرپشن کی وجہ سے ہمارا حال بھی صومالیہ جیسا ہوسکتا ہے۔دریں اثناء سکھر میں سلطان لاشاری،جیکب آباد میں عبدالحفیظ بجارانی،حاجی دیدار لاشاری،خیرپور مولاناحزب اللہ جکھرو،عبدالوحید قریشی کوٹری،عبدالقدوس احمدانی،سید علی مردان شاہ بدین،حافظ لعل محمد سولنگی، عامر شیخ ٹنڈومحمد خان،الطاف ملاح،آفتاب ملک مکلی،میرمحمد بلیدی،عبدالسبحان سمیجو مٹھی،تشکیل صدیقی ڈھرکی،جان گل خلجی،عبداللہ بلوچ کندھ کوٹ میں منعقدہ احتجاجی مظاہروں سے خطاب کیا۔خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں اضلاع اور تحصیلوں میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیروزگاری، لوڈشیڈنگ، گیس، بجلی، پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور سودی نظام کے خلاف مظاہرے کیے گئے جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پشاور میں مسجد محبت خان سے چوک یادگار تک احتجاجی مارچ کیا گیا جس کی قیادت امیر ظلع عتیق الرحمن، صدیق پراچہ اور حافظ حشمت خان کر رہے تھے۔ نوشہرہ میں پبی سٹیشن اور شوبرا چوک میں الگ الگ مظاہرے ہوئے جس کی قیادت امیر ضلع رافت اللہ خان، حاجی عنایت الرحمن، مولانا سمیع الرحمن نے کی۔ صوابی میں یار حسین چوک میں امیر ضلع صوابی میاں افتخار کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ دیر لوئر میں چکدرہ تحصیل، تیمرگرہ اور ثمر باغ میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جس کی قیادت امیر جماعت اسلامی دیر پائیں اعزاز الملک افکاری، سلطنت یار، ارشد زمان، سعید باچا اور دیگر کر رہے تھے۔ بونیر میں امیر جماعت اسلامی حلیم باچا اور انجنیئر ناصر علی نے ڈگر بازار میں احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے توپانوالہ بازار میں مظاہرہ ہوا جس کی قیادت امیر ضلع سلیم اللہ نے کی۔ لکی مروت میں احتجاجی مظاہرے کی قیادت امیر ضلع عزیز اللہ نے کی۔ کرک میں مظاہرے کی قیادت امیر جماعت اسلامی ضلع کرک ظہور خٹک نے کی۔ بنوں پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ہوا جس کی قیادت امیر جماعت اسلامی بنوں پروفیسر اجمل خان اور اختر علی شاہ نے کی۔

احتجاج

لاہور(این این آئی) امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہاہے کہ ملک میں وسائل کا نہیں، حکمرانوں کی اہلیت، صلاحیت اور وژن کا شارٹ فال ہے۔ وزیراعظم نے بائیس کروڑ عوام کو ہمیشہ دائیں دکھا کر بائیں ماری ہے۔ سینکڑوں دعوے، وعدے او ر اعلانات کیے لیکن عمل کا خانہ خالی ہے۔ اپوزیشن کا حکومت کے ساتھ فرینڈلی میچ عوام سے بے وفائی ہے۔حکومت نے غریب عوام کو مہنگائی و بے روزگاری کی زنجیر میں باندھ کر لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا کر دیا۔ بجلی، گیس، پٹرول کے بعدکھانے پینے کی اشیاء میں ہونے والا اضافہ حکمرانوں کے منہ پر طماچہ ہے۔ مافیاز کو نوازنے کا سلسلہ عروج پر ہے، اگر میرٹ پر احتساب کیا جاتا تو موجودہ اور سابقہ حکومتوں کے اعلیٰ عہدیداران جیل کی سلاخوں کی پیچھے ہوتے۔قوم دیکھ رہی ہے کہ احتساب کے نام پرپولیٹیکل انجینئرنگ ہو رہی ہے اور یہی نعرے لگ رہے ہیں کہ تیرا چورمردہ باد میرا چور زندہ باد۔ حقیقی احتساب صرف جماعت اسلامی کر سکتی ہے کیونکہ اس کا دامن کرپشن سے پاک ہے۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی کے پاس کوئی انقلابی ایجنڈا نہیں بلکہ یہ تینوں سامراجی نظام کے سٹیٹس کو کاسیمبل ہیں۔ گھریلو تشدد بل کی منظوری سے ان کی حقیقت مزیدکھل کر سامنے آگئی ہے۔ حکومت نے جو بل منظور کیا ہے اس سے پاکستان میں خاندانی نظام تباہ ہو جائے گا۔ مغرب یہی چاہتاہے کہ مسلم معاشرے کی خاندانی وحدت ختم ہو جائے۔جماعت اسلامی ہر محاذ پر ایسی تمام سازشوں کا مقابلہ کرے گی اور عوامی تائید کے ذریعے ایسے اقدامات کو واپس لینے پر مجبور کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی لاہور کی دو روزہ تربیت گاہ کے آخری روز منصورہ میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی لاہو ر ذکر اللہ مجاہد بھی موجود تھے۔سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی کا مقابلہ استعماری قوتوں اور ان کے ایجنٹوں سے ہے۔ ہمارے ملک میں انہی استعمارکے ایجنٹوں نے حکومت، معیشت، میڈیا، تعلیمی اور خاندانی نظام پر قبضہ کر رکھاہے، قوم کو اس سے نجات دلانی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک میں عدالتوں میں انصاف نہیں ملتا۔ عدالتوں میں پڑے لاکھوں کیس ہمارے عدالتی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ سراج الحق نے کہاکہ مہنگائی، بے روزگاری نے عوام کو مفلوک الحال بنادیاہے۔ حکمران ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر عوام کو خوشحال بنانے کے جو بیانیے دے رہے ہیں،وہ سفید جھوٹ ہے۔ وزیراعظم نے بائیس کروڑ عوام کو در اصل دائیں دکھ کر بائیں ماری ہے۔ عوام سے کیے گئے تمام وعدے نہ صرف پورے نہیں کیے بلکہ اس کے برعکس اقدامات کیے ہیں۔ ایک ماہ میں پٹرول کی قیمتوں میں دو مرتبہ اضافہ، اسی طرح بجلی، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مزید اضافے سے ان ظالم حکمرانوں نے عوام کے منہ سے روٹی کا نوالہ تک چھین لیا ہے۔ سراج الحق نے کہاکہ عوام کا احساس نہ کر نے والے احساس پروگرام کو کیسے چلاسکتے ہیں۔ زرعی اور معدنی وسائل سے مالا مال ملک میں لنگر خانے کھول کر پاکستان کی بے توقیری کی جارہی ہے۔ ملک میں وسائل کا نہیں بلکہ حکمرانوں کی اہلیت، صلاحیت اور وژن کا شارٹ فال ہے۔ مختلف پارٹیوں سے جمع شدہ ناکام لوگ ملک کو کسی صورت کامیابی سے نہیں چلا سکتے۔ پی ٹی آئی نے اپنے دعوے کے برعکس نئے پاکستان کے لیے پرانے مستریوں کا انتخاب کیا۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کو اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو وہ ملک کے عوام کو سودی نظام، آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے نجات دلائے گی۔ غریب طبقے کے لیے آٹا، گھی، چینی، دالوں پر تیس فیصد سبسڈی دے گی۔ سراج الحق نے کہاکہ غیور اور بہادر افغانوں نے امریکہ اور اس کے حواریوں کو عبرتناک شکست سے دوچار کردیاہے اب امریکہ اور سامراج افغانستان میں خانہ جنگی اور افغانوں کو تقسیم در تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انہیں اس میں ناکامی ہوگی۔

سراج الحق

مزید :

صفحہ آخر -