عمران خان امریکہ کو فضائی راہداری دے چکے: فضل الرحمن، موقع ملا تو خیبر پختونخوا کو پنجاب سے آگے لے جائینگے: شہباز شریف

  عمران خان امریکہ کو فضائی راہداری دے چکے: فضل الرحمن، موقع ملا تو خیبر ...

  

سوات (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم عمران خان کو امریکی تہذیب کا نمائندہ قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ قومی سلامتی کمیٹی میں عمران خان کو کسی نے نہیں بلایا، پاکستان کی سیاست کا وہ غیر ضروری حصہ ہیں،وہ امریکا کو فضائی راہداری دے چکے ہیں اور قوم سے جھوٹ بول رہیہیں،پرویز مشرف کے جرائم میں وہ برابر کے شریک رہیہیں اس سے کیسے خود کو بری الذمہ قرار دے رہے ہیں؟ موجودہ حالات میں ہماری غلط پالیسیاں افغانستان کو ہم سے دور کرسکتی ہیں، ایران کو ہم سے دور ہوسکتا ہے، چین ہم سے دور ہو رہا ہے، بھارت تو ہمارا دشمن ہے، ہم ایشیا میں تنہا ہوتے جا رہے ہیں اور پنے مفادات کا تحفظ بھی نہیں کرسکیں گے۔ اتوار کو پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ طویل عرصے کے بعد سوات میں پی ڈی ایم کے زیرانتظام عوامی اجتماع کا ایک مرتبہ پھر آغاز کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں صوبہ خیبر پختونخوا کے نوجوانوں، بزرگوں، ماوں اور بہنوں اور بالخصوص سوات اور مالاکنڈ کے دوستوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے لمبے تعطل کے بعد دوبار آغاز کیا تو کامیاب جلسہ منعقد کیا۔انہوں نے کہاکہ اس کا مطلب یہ ہے عوام کا جذبہ سرد نہیں ہوا اور ملک میں سیاسی اور آئینی حکمرانی کیلئے پرجوش ہیں، ان شااللہ پاکستان سے اس ناجائز حکومت کا خاتمہ کرکے ہی دم لیں گے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میں بڑے عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ عمران خان پاکستان کی سیاست کا غیر ضروری حصہ ہے، آپ نے قومی سلامتی کے اجلاس میں ان کی اہمیت دیکھی، وزیراعظم ہوتے ہوئے ان کو شرکت کی ضرورت نہیں پڑی، نہ کسی نے بلایا، نہ کوئی آیا اور اس طرح پتہ چلا کہ پاکستان کی سیاست میں حکومت بنانے سے پہلے بھی اس کی اہمیت نہیں تھی اور حکومت بنانے کے بعد بھی اس کی اہمیت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسی ناجائز حکومتیں غلام قوموں پر حکومت کرتی ہیں، آزاد منش قوموں پر ایسی حکومتیں مسلط نہیں کی جاتیں، جنہوں نے، جن کے آبا و اجداد اور بزرگوں نے برطانوی سامراج کے خلاف آزادی کی جنگ لڑی ہوں وہ آج اس مغربی تہذیب کے پیداوار اس گماشتے کو اپنے اوپر مسلط نہیں دیکھ سکتے اور اس سے آزادی حاصل کرکے رہیں گے۔انہوں نے کہاکہ آج کے اس جانے کے دن قریب آگئے ہیں، کبھی امریکا، کبھی برطانیہ کے خلاف بات کردیتا ہے اور پاکستانی قوم کے اندر جو نعرے اور جو باتیں بڑی مقبول ہوتی ہیں، آج پھر ان کا سہارا لے رہا ہے۔وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں ان کو کہنا چاہتا ہوں کہ آپ آزمائے ہوئے ہو، چلے ہوئے کارتوس ہو، چلا ہوا کارتوس بندوق میں دوبارہ نہیں دیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ آج پھر امریکا اور جنرل پرویز مشرف کے خلاف بھی بول رہا ہے اور کہتا ہے جنرل پرویز مشرف نے غلط فیصلے کیے حالانکہ جب پرویز مشرف غلط فیصلے کرتا تھا تو آپ کہتے تھے کہ اس کے پاس اسے اچھا آپشن موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ تم پرویز مشرف کے سب سے بڑے ایجنٹ اور بڑے سپاہی تھے، تم نے ریفرنڈم میں ان کا ساتھ دیا تھا، امریکا خود کہتا ہے کہ پرویز مشرف ہمیں لوگ مہیا کرتا تھا اور ہم ان کو گوانتاموبے لے جاتے تھے تو اس وقت تم پرویز مشرف کے شانہ بشانہ کھڑے تھے اور ان کے جرائم میں شریک تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ تم آج بھی امریکا اور امریکی تہذیب کے نمائندے ہو اور برطانیہ میں تمھارے جائز اثاثے ہوں یا ناجائز اثاتے ہوں وہاں موجود ہیں۔سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ یہ باتیں اب نہیں چلیں گی، یہ ساری چیزیں ڈراما ہیں، امریکی کی دوستی اس کا اپنا ایک معیار ہے اور پاکستان میں اس معیار پر وہی اترتا ہے جو سی پیک کو متنازع بناتا ہے، سی پیک کا اتنا بڑا منصوبہ جس سے پاکستان کا روشن مستقبل وابستہ تھا اس کو تباہ کردیا۔انہوں نے کہا کہ آج چین کو ناراض کردیا گیا جس کے نتیجے میں وہ ایران میں جا کر 25،25 سال کے معاہدے کر رہا ہے، آپ کو چین کے ساتھ معاہدے یاد نہیں آرہے لیکن کہتے ہو2001 میں ہم نے معاہدہ کیا تھا کہ ہم امریکا کو ایئربیسز دیں گے، امریکا کو فضائی راہداری دیں گے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ایک دو دن پہلے جو انٹرویو آپ نے دیا کہ بالکل نہیں تو عمران خان سن لو کہ اس نے اڈے مانگے کب ہیں کہ تم انکار کر رہے ہو، اس نے فضا مانگی ہے، فضائی راہداری مانگی ہے اور وہ تم دے چکے ہو، قوم کے سامنے جھوٹ مت بولو۔انہوں نے کہا کہ جو وہ چاہتا تھا وہ تم دے چکے ہو، کراچی ایئرپورٹ پر ان کے طیارے اتر چکے ہیں، وہاں سے تیل بھر چکے ہیں اور تم کہتے ہوں ہم پاکستان کی سرزمین نہیں دیں گے، تم پاکستان کی سرزمین بھی دے چکے ہو۔انہوں نے کہاکہ تم پاکستان کی فضائیں بھی دے چکے ہو لیکن اس طرح کی حماقتیں کرنا پاکستان کو مشکل میں ڈالنے والی بات ہے، افغانستان میں حالات تبدیل ہورے ہیں، وہاں سے امریکا شکست کھا کر جا رہا ہے بلکہ تقریباً نکل چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کا 70،80 فیصد علاقہ تحریک طالبان کے ہاتھ میں دوبارہ آچکا ہے، وہاں مسلسل ان کو فتوحات مل رہی ہیں لیکن ان حالات میں ہماری غلط پالیسیاں افغانستان کو ہم سے دور کرسکتی ہیں سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز  شریف نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  ”ملک میں 20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ عمران خان نے سرکاری ہسپتالوں میں غریبوں کی مفت دوائیوں کا حق بھی چھین لیا، مہنگائیآسمان کو پہنچ گئی،  آج پاکستان بنانے والوں کی روحیں تڑپ رہی ہوں گی، ہمیں حکومت ملی تو خیبر پختون خوا کو پنجاب سے آگے لے جائیں گے، وہ کہتے ہیں گھبرانا نہیں، میں کہتا ہوں گھبرا ؤ اور اسے بھگا ؤ،۔   ان خیالات کا  اظہار انہوں نے  سوات میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پی ڈی ایم کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ شہباز شریف نے کہا  کہ  ملک میں بیس بیس گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی تاہم نواز شریف نے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا، 14 ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں داخل کی لیکن ا?ج ملک میں لوڈ شیڈنگ سے عوام کا برا حال ہے، عمران خان کہتے تھے سستی بجلی لاو?ں گا مگر ا?ج سستی بجلی تو دور کی بات مہنگی بجلی بھی نہیں مل رہی۔انہوں ں ے کہا کہ نواز شریف کے دور حکومت میں پنجاب کے تمام اسپتالوں میں دوائیں مفت ملتی تھیں ا?ج دوائیں بھی چھین لی گئیں، لیکن ا?ج مریض علاج کے لیے در بدر پھررہا ہے، عمران خان کے دور میں مہنگائی ا?سمان پر پہنچ گئی، ا?ج پاکستان بنانے والوں کی روحیں تڑپ رہی ہوں گی، بنی گالہ کے محل میں بیٹھے عمران نیازی کو سوات کے عوام کا کیا پتا؟مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ خیبر پختون خوا میں بھی عوام کا برا حال ہے، پشاور بی ا?ر ٹی میں اربوں روپے کمائے گئے، نواز شریف کی قیادت میں بی ا?ر ٹی کا پروجیکٹ بنتا تو ہزار گنا بہتر ہوتا اور ہم یہ پروجیکٹ لاہور کی میٹرو سروس سے پہلے مکمل کرلیتے، ہمیں حکومت کرنے کا موقع ملا تو خیبر پختون خوا کو پنجاب سے ا?گے لے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان پرانے پاکستان سے کئی سال پیچھے چلا گیا اس حکومت کا عوام نے اپنے ووٹ سے خاتمہ نہ کیا تو پاکستان کا مزید برا حال ہوجائے گا، مہنگائی اور کرپشن کے خلاف انقلاب ا?نا چاہیے، وزیراعظم کہتے ہیں گھبرانا نہیں لیکن میں عوام سے کہتا ہوں کہ ”گھبراو? اور اس کو بھگاو?“، اگر اپنی تقدیر بنانی ہے تو عمران نیازی کو مزید تقدیر سے کھیلنے نہیں دینا۔شہباز شریف نے کہا کہ مالم جبہ جانا چاہتا ہوں لیکن خوف ہے کسی اور  کی کرپشن پر نیب پھر نا پکڑ لے۔ صدر مسلم لیگ ن نے کہا کہ آج کے نئے پاکستان سے تو پرانا پاکستان بہتر تھا، نئے پاکستان میں غریب کو 2 وقت کی روٹی نہیں ملتی۔ قبل ازیں بارش کے سبب جلسے کے انتظامات درہم برہم ہوگئے۔ جلسے کے لیے سوات کے مختلف علاقوں، دیر، چترال، چارسدہ، صوابی، مردان سمیت دیگر اضلاع سے کارکنان پہنچے ہیں۔ شرکاء  کے لیے 10 ہزار کرسیاں لگائی گئی ہیں، جلسہ گاہ میں جمعیت علماء  اسلام کے 3 ہزار رضاکار سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں جب کہ جلسہ گاہ کے باہر 1600 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

پی ڈی ایم

مزید :

صفحہ اول -