مقبوضہ کشمیر، فوجی کارروائیوں میں مدد کیلئے خواتین اہلکار تعینات 

مقبوضہ کشمیر، فوجی کارروائیوں میں مدد کیلئے خواتین اہلکار تعینات 

  

 سرینگر(این این آئی) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں قابض انتظامیہ نے ضلع گاندربل میں گاڑیوں کی چیکنگ کے دوران خواتین اوربچوں کی تلاشی لینے کے لئے آسام رائفلز کی خواتین فوجیوں کو تعینات کیا ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق یہ خواتین فوجی جن کو رائفل ویمن بھی کہا جاتا ہے، محاصروں اورتلاشی کی کارروائیوں کے دوران گھر وں کی تلاشی میں بھی حصہ لیں گی۔ خواتین فوجیوں کو منشیات کی سمگلنگ پر نظررکھنے کا کام بھی سونپا گیا ہے جس میں خواتین ملوث ہوتی ہیں۔ وادی کشمیر میں ان کی موجودگی سے بھارتی فوجیوں کو اب اپنی کارروائیوں کو منظم کرنے میں مدد ملے گی باالخصوص جہاں خواتین کی جامہ تلاشی لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔دوسری جانب بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ایک بار پھرپوسٹرچسپاں کئے گئے ہیں جن میں ممتازنوجوان رہنما برہان مظفر وانی اور دیگر شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ادھر کشمیر فریڈم فرنٹ نے بھارتی فوج اورپولیس کی طر ف سے حریت رہنماؤں اور کارکنوں کی مسلسل گرفتاریوں اور بے گناہ لوگوں کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت کی ہے۔ جموں وکشمیر نیشنل فرنٹ نے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کے حالیہ قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بدترین ریاستی دہشت گردی قراردیا ہے۔ قبل ازیں مسلم لیگ نے پارٹی رہنما فاروق احمد توحیدی کو رہاکرنے کے بجائے ایک اور جھوٹے مقدمے میں پھنسانے اور ڈسٹرکٹ جیل بارہمولہ منتقل کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ مزیدبرآں اسلامک پولیٹکل پارٹی کے چیئرمین محمد یوسف نقاش نے ضلع پلوامہ کے علاقے راجپورہ میں شہید ہونے والے نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء ہمارا اہم اثاثہ ہیں اور ہم ان کے مشن کو ہر قیمت پر اپنے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

مقبوضہ کشمیر 

مزید :

صفحہ اول -