جلسے کی نیت سے نہیں آیا، صوابی کی اپنی ایک تاریخ ہے: حیدر ہوتی 

    جلسے کی نیت سے نہیں آیا، صوابی کی اپنی ایک تاریخ ہے: حیدر ہوتی 

  

 صوابی(رپورٹ،محمد شعیب)عوامی نیشنل پارٹی صوبہ خیبر پختونخوا نے پورے صوبے میں پارٹی کو تنظیمی سطح پر منظم، مضبوط اور مستحکم بنانے کے علاوہ نئے لوگوں کو پارٹی میں شامل کر وانے اور کسی وجوہات پر پارٹی سے ناراض کارکنوں کو منانے اور ان کو دوبارہ فعال کرانے کیلئے پارٹی کی تشکیل شدہ کمیٹیوں کے اراکین نے باقاعدہ طور پر صوبے کے تمام اضلاع کے دوروں کا آغاز کر دیا یہ کمیٹیاں چار مہینوں تک صوبے میں تمام اضلاع میں جرگوں کی صورت میں کارکنوں کے پاس جا کر پارٹی کو منظم اور فعال بنانے اور کارکنوں کو فعال کرنے کے لئے نہ صرف مقامی تنظیموں اور کارکنوں کی تجاویز، رائے اور مشاورت سے آگاہی حاصل کرئے گی بلکہ اس کی روشنی میں مزید نئی کمیٹیاں تشکیل دی جائے گی۔ جو دوسرے مرحلے میں رابطوں اور جرگوں کاآغاز کرئے گی۔اس حوالے سے اے این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر اور سابق صوبائی وزیر اعلی امیر حیدر خان ہو تی نے کمیٹی کے دیگر اراکین صوبائی سینئر نائب صدر خوشدل خان ایڈوکیٹ، مرکزی کمیٹی کے رکن سید اختر علی شاہ، رابعہ ستار اور قاسم علی خان محمدزئی کے ہمراہ صوابی کے حلقہ پی کے 47کا دورہ کیا اس موقع پر انہوں نے ایک منعقدہ تنظیمی اجلاس کے علاوہ موضع ڈنڈوقہ میں شمولیتی اجتماع سے خطا ب بھی کیا اس موقع پر موضع ڈنڈوقہ میں حبیب الرحمن اور جانس خان نے اپنے خاندان اور ساتھیوں جب کہ صدر ٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن واقف خان کا اپنے ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔اس موقع پر امیر حیدر خان ہو تی نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ میں جلسے کی نیت سے صوابی نہیں آیا ہو ں صوابی کی اپنی ایک تاریخ ہے اور جب بھی کوئی یہ چاہے تو جلسے کرنے کا طریقہ صوابی ہی سے سیکھا جاسکتا ہے۔ ہمارا یہ دورہ ایک کمیٹی کی شکل میں ہے اور اس کا مقصد صوبے کے تمام اضلاع میں پارٹی کو مزید فعال، منظم اور مستحکم کرنے کے لئے اضلاع سے لے کر تحصیل، یونین کونسل اور ویلج کونسل تک تنظیمی ڈھانچے کو عملی جامہ پہنانا ہے تاکہ پارٹی تنظیمی بنیادوں پر مستحکم ہو کر ایک فعال جماعت کے طور پر اُبھر سکے۔کیونکہ پارٹی کو منظم اور فعال بنانے کے لئے یہی تنظیمیں بھر پور کر دار ادا کر سکتی ہے۔ اسی طرح کمیٹی کے اراکین کے آنے کا مقصد کارکنوں کی رائے، مشورے اور تجاویز کو سننا ہے اور اس کے نتیجے میں پارٹی کے مفاد میں فیصلے کرنے ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ پختونوں کو یکجا کرنے اور ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کے لئے ان پر جر گہ کر کے پارٹی میں لائیں گے اسی طرح نئے لوگوں کو پارٹی میں لا نے کے لئے تنظیموں کو اپنا بھر پور کر دار ادا کرنا ہو گا جب کہ پارٹی کے اندر جو ورکر کسی وجہ سے ناراض اور غیر فعال بیٹھے ہیں ان پر جر گہ کر کے راضی کیا جائیگا ان ناراض کارکنوں کو منا کر فعال بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر چہ الیکشن کمیشن نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے لیکن تاحال حکومت نے اس پر عملدر آمد کرنے کے لئے اعلان نہیں کیا ہے جب بھی بلدیاتی الیکشن کرانے کی صورتحال واضح ہو جائے اس پر مشورہ کرینگے انہوں نے کہا کہ صوبائی صدر ایمل ولی خان کی سر براہی میں تشکیل شدہ کمیٹی جنوبی اضلاع کوہاٹ سے ڈی آئی خان،مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین کی قیادت میں کمیٹی ملاکنڈ ڈویژن، سلیم خان سوات کی سر براہی میں کمیٹی ہزارہ ڈویژن اور صوبائی سیکٹری جنرل سردار علی بابک کی سر براہی میں تشکیل شدہ کمیٹی ضم شدہ اضلاع کا دورہ کر رہی ہے۔ چند ماہ تک جاری دوروں کے بعد مذکورہ کمیٹیاں اپنے اپنے دوروں کی رپورٹ دے گی۔اور اس رپورٹ کی روشنی میں ان کمیٹیوں کی کارکر دگی جا ئزہ لیا جائیگا اسکی روشنی میں دوسری کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اس حوالے سے مجھے وسطی اضلاع جن میں صوابی، مردان، چارسدہ، نوشہرہ، پشاور سٹی اور ضلع پشاور شامل ہیں کی کمیٹی میں مجھے شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضمنی تنظیم کے اراکین، تحصیل اور تحصیل کے اراکین یونین کونسل اور یونین کونسل کے اراکین ویلج کونسل اور ویلج کونسل کے اراکین گھر گھر اور حجرے حجرے جا کر کارکنوں اور لوگوں کے ساتھ رابطہ کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کردار باچا خان، بابا رہبر تحریک خان عبدالولی خان اور ان کے بعد اسفندیار ولی خان نے پختون قوم کو متحد کرنے کے لئے ادا کیا ہے اسی طرح کا کردار ہم سب کو ادا کرنا ہو گاجن اضلاع میں تحصیل یونین کونسل اور ویلج کونسل کی سطح پر تنظیم مکمل نہیں وہ جلد از جلد تنظیمی ڈھانچے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائیں۔انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ میں بھی 2018کے انتخابات میں پی پی پی کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی بھر پور کوشش کی گئی تھی لیکن سندھ کے لوگ بیدار ہونے کی وجہ سے یہ سازش ناکام ہو گئی تھی۔ اس الیکشن میں خیبر پختونخوا میں پختون قوم میں اتحاد و اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے ان کے مینڈیٹ کو چرایا گیا ا ب وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ایک بار پھر نئے جذبے سے حرکت میں آسکے کہ ہم نے بزرگوں کی دعاؤں اور رہنمائی سے اس سفر کی منزل تک پہنچ سکے۔ اور اس میں نوجوانوں کا کردار نہایت اہم اور ضروری ہیں سوشل میڈیا کے اس دور میں نوجوان کارکنوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے پارٹی کو فعال اور منظم کرانے کے لئے کردار ادا کرنا ہو گا۔ باچا خان بابا کا فلسفہ اور پختون قوم کا اتحاد و اتفاق یکجہتی، ترقی اور خوشحالی کا راستہ ہیں اس کے لئے محنت اور تعاون کی ضرورت ہیں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ایک بار پھر جنگ چھڑ گئی تو اس سے پورا خطہ آگ کی لپیٹ میں آئیگاجنگ مسلوں کا حل نہیں اس کا سیاسی حل موجود ہیں افغانستان کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں طالبان کے علاوہ افغان عوام، حکومت کو شامل کیا جائے۔اسی طرح عالمی قوتوں کو بھی اپنا کر دار اداکرنا چاہئے اور اس اعتماد کی بحالی کے لئے اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ پاکستان اور افغانستان اپنی اپنی سر زمین سے ایک دوسرے پر حملے نہیں کریگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان میں موجودہ صورتحال جاری رہی تو لسانی بنیادوں پر جنگ چھڑنے کا خدشہ ہے جس میں ایک طرف پختون او ر دوسرے طرف دیگر قومیں ہونگی اور اس لگی ہوئی آگ سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -