پاکستان کی جمہوری اور سیاسی تاریخ میں 5 جولائی 1977 سیاہ دن تھا

    پاکستان کی جمہوری اور سیاسی تاریخ میں 5 جولائی 1977 سیاہ دن تھا

  

پشاور (سٹی رپورٹر)پاکستان پیپلزپارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات وایم پی اے امجدخان آفریدی نے کہاہے کہ پاکستان کی جمہوری اور سیاسی تاریخ میں 5 جولائی 1977 وہ سیاہ ترین دن ہے جب آج سے 44 سال قبل ایک آمر نے قوم کی امیدوں اور اور توقعات کو روند ڈالا تھا۔5 جولائی یوم سیاہ کے حوالے سے اپنے ایک اخباری بیان میں انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی، دہشتگردی، کلاشنکوف اور ڈرگ کلچر ضیاء آمریت کے اس قوم کیلئے وہ تحفے ہیں جنہیں اس قوم کا بچہ بچہ آج کے دن تک بھگت رہے ہیں وہ مارشل لاء جس نے پاکستانی سماج کو ہلا کر رکھ دیاآج 4 دہائیاں سے زائد گزرنے کے بعد بھی مملکت خداداد کے رہنے والے ضیاء  الحق جیسے سفاک جرنیل کے وحشیانہ اور احمقانہ اقدامات کی سزا بھگت رہے ہیں اور شاعر جمہوریت حبیب جالب کی مشہور زمانہ نظم '' لاڑکانہ چلو یا پھر تھانے چلو'' اس دور کی وحشت کی یاد دلائی ہے انہوں نے کہا کہ 5 جولائی 1977 کے بعد ساری پاکستانی قوم اور دنیا نے دیکھا کہ اس ملک کو جمہوری آئین دینے والے، اسلامی دنیا کے اتحاد کے پیامبر، پاک چین دوستی کے معمار، ختم نبوت کے قانون کو آئین میں شامل کر کے اسلام کو سرفراز و بلند کرنے والے، بھارت سے 90 ہزار جنگی قیدی چھڑانے والے قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی جمہوری حکومت کو آمرانہ طریقے سے ختم کرنے کا یہ ظلم اور نا انصافی پاکستان عوام کبھی بھی معاف نہیں کرے گی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -