نو آبادیاتی نظام سے جمہوریت کو بہت بڑا خطرہ، ڈاکٹر عبدالحی بلوچ

نو آبادیاتی نظام سے جمہوریت کو بہت بڑا خطرہ، ڈاکٹر عبدالحی بلوچ

  

 مٹھن  کوٹ(نمائندہ خصوصی)بلوچ قوم پرست رہنما اور سابق سینیٹرڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے جھوک فرید کوٹ مٹھن میں سرائیکستان صوبہ محاذ کے چیئرمین خواجہ غلام فرید کوریجہ  سے ملاقات کی اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے عبدالحی بلوچ نے کہا کہ نوآبادیاتی نظام سے جمہوریت کو بہت بڑا خطرہ لاحق ہے جس کی مثال بڑے ہاؤسنگ منصوبے ہیں۔ کیماڑی سے خیبر تک جنہوں نے (بقیہ نمبر51صفحہ6پر)

قدیمی رہائشیوں کو بے دخل کر کے اپنی پسند کے غیر اضلاعی اور غیر صوبائی لوگوں کو بٹھانا شروع  کر دیا ہے جس کی وجہ سے توازن غلط ہوا اور اس غلط توازن سے سندھ کی عوام جلد ہوش میں آگئی اور انہوں دیگر قوم پرست رہنماوں سے مل کر اپنے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا اگر پورے ملک میں اپنے حق کیلئے مظلوم عوام اور قوم پرست رہنما اٹھیں تو یہ نوآبادیاتی نظام ختم ہو جائے گا اور طاقت کا توازن بحال ہو جائے گا۔پونم کو بحال کیا جائے اور تمام مظلوم طبقہ اس کی چھتری تلے جمع ہو جائے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کی عوام اپنا حق حاصل کر لے گی۔ اس موقع پر چئیر مین سرائیکستان صوبہ محاذ خواجہ غلام فرید کوریجہ نے  کہا کہ پونم طرز پر قوم پرستوں کا اکٹھ ہو تاکہ ملک میں سب مظلوموں کو ان کے حقوق مل سکیں انہوں نے بلوچستان میں مسنگ پرسن اور ماورائے عدالت قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تمام تر ہمدردیاں بلوچستان کی مظلوم عوام کے ساتھ ہیں۔ عثمان کاکڑ کی موت  کے بارے  میں جو شکوک و شبہات ہیں اس کے بارے میں حکومت کو چاھئیے کہ وہ عوام کو مطمئن کرے۔ایسے ہی سندھ قوم پرست جماعتوں کی طرف سے ہونے والے احتجاج کی بھرپور حمایت  کرتے ہیں قبل ازیں بلوچ قوم پرست رہنما سابق سینیٹر عبدالحی بلوچ کی جھوک فرید آمد پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا خواجہ غلام فرید کوریجہ نے فریدی رومال سے ان کی دستار بندی کرائی بعد میں انہوں نے مزار فرید پر حاضری دی اور وہاں پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔

عبدالحئی بلوچ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -