تین برسوں میں چارہ، بھوسہ کئی گنا مہنگا، جانور پالنا مشکل

  تین برسوں میں چارہ، بھوسہ کئی گنا مہنگا، جانور پالنا مشکل

  

حاصل پور(نمائندہ پاکستان) موجودہ حکومت کے تین سالہ دور حکومت میں مہنگای میں اتنا اضافہ ہو گیا ہے کہ روز مرہ ضروریات کھانے پینے کی اشیا گھی چینی اٹا دالیں صابن لال مرچ اور دیگر اشیا ضرورت جن کی قیمتوں کو تین سالوں میں مہنگائی کو اتنے پر لگ گے ہیں کہ قیمتیں نیچے آنے کا نام ہی نہیں لے رہی روز بروز قیمتوں میں اضافہ اور اور قیمتیں اسمان سے باتیں کر رہی ہیں غریب کا کوئی پرسان حال نہیں اور دو وقت کی روٹی کھانا مشکل ہوچکا ہے اور غریبوں (بقیہ نمبر31صفحہ6پر)

 کے گھروں کے چولھے ٹھنڈے ہوچکے ہیں اور گھروں میں فاقہ کشی اور بھوک کا راج ہے مہنگائی کے ستاے عوام  روز بروز بڑہتی مہنگائی سے تنگ ہوکر موجودہ حکومت سے نجات کی دعاہیں مانگ رہے تھے عوام تو پہلے ہی مہنگای سے تنگ تھے ہی اب جانور اور چرند پرند اور حشرات بھی مہنگائی سے تنگ اگیاور بھوک سے مرنے لگے ہیں پرندوں کے کھانے کیلے باجرہ تین سالوں میں چالیس روپے سے ایک سو بیس روپے اور جانوروں کا سبز چارہ تین سو روپے فی چالیس کلو اور بھوسہ پانچ سو روپے فی چالیسکلوہوگیاہے اور حشرات کیلے ٹوٹا چاول ساٹھ روپے سے ایک سو بیس روپے فی کلو اور لال دال مصری ایک سو بیس روپے فی کلو کی بجاے دوسوی چالیس روپے فی کلوہوگی ہے جس سے مہنگائی کے ستاے عوام نے پرندوں کو باجرہ مہنگا ہونے کی وجہ سے ڈالنا بند کردیا ہے اور پرندے بھوک سے نڈھال اور سخت گرمی کی وجہ سے مرنا شروع ہوگے ہیں اور صبح سویرے بڑی تعداد میں پرندے درختوں کے نیچے مرے پڑے ہوتے ہیں اور سبز چارہ اور گندم کا بھوسہ مہنگا ہونے سے جانوروں کے مالکان نے کم ڈالنا شروع کردیا ہے جس سے جانور بھوک سے نڈھال اور کمزور ہوگے ہیں خوف خدا رکھنے والے افراد جو حشرات کو چاول کا ٹوٹا گندم کا دلیہ اور باجرہ اور لال مصر کی دال ڈالتے تھے یہ چیزیں مہنگی ہونے سے ان کی بیلوں پر ڈالنا بند کر دی ہیں جس سے چرند پرند اور حشرات کا برا حال ہے اور وہ بھی مہنگای اور موجودہ حکومت سے تنگ آچکے ہیں.

مہنگائی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -