”سیف کراچی منصوبہ“ جدید ٹیکنالوجی سے شہر کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے: گورنر سندھ 

    ”سیف کراچی منصوبہ“ جدید ٹیکنالوجی سے شہر کی حفاظت کو یقینی بنایا جا ...

  

  کراچی(سٹاف رپورٹر)گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ "سیف کراچی منصوبہ" سے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ سے شہر کی حفاظت،پرامن عوام کا تحفظ یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعدادکوبھی بڑھانا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے "سیف کراچی کانفرنس" کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں سیف سٹی منصوبہ کے اغراض و مقاصد کے تحت جرائم کی روک تھام، امن و امان کی بہتر بحالی اور ٹیکس وصولی میں اضافہ کیا جانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبہ پر مکمل عملدرآمد سے ٹریفک کی خلاف ورزیوں میں کمی، پولیس کے طرز عمل میں بہتری اور پولیس کاررائیوں کومجموعی طورپر بہتر شفاف اور آٹو میشن کیا جا سکے گا۔کانفرنس میں بتایا گیا کہ اس منصوبہ میں انتہائی مربوط محفوظ شہری نظام شامل ہے جس کے تحت بڑے پیمانے پر سرویلنس کیمرے نصب کئے جائیں گے اور شہر پر سرویلنس ممکن بنائی جا سکے گی۔ کانفرنس میں مزید بتایا گیا کہ اس منصوبے کے تحت شہر میں تین مراحل میں دس ہزار سرویلنس کیمرے نصب کئے جائیں گے۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنرسندھ نے کہا کہ کراچی کے امن کی بحالی میں پاکستانی افواج اور سندھ رینجرز کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں گورنرسندھ نے کہا کہ K-IV منصوبہ میں بھی غیر معمولی تاخیر کی وجہ سے وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا کہ وفاق کے تحت اس منصوبے کو مکمل کرایا جائے۔ گرین لائن منصوبہ کے حوالہ سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ منصوبہ کے لئے بسیں ماہ اگست تک پہنچ جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت اس شہر کی ترقی کے لئے سنجیدہ ہے لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے تعاون میں کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں سیف سٹی پراجیکٹ پر بہت پہلے عملدرآمد ہونا چاہئے تھا کیونکہ کراچی ملک کا معاشی حب ہے اور ملکی خزانہ میں 70 فیصد سے زائد ریوینیو فراہم کررہا ہے۔ ایک او ر سوال کے جواب میں گورنر سندھ نے کہا کہ کراچی میں فضائی آلودگی کے خاتمہ کے لئے ملیر ندی اور لیاری ندی کے اطراف پلانٹیشن کرنے کے لئے بھی منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ وفاقی حکومت نے 52 فائر ٹینڈرز خرید کر دئیے لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے ابھی تک ڈرائیورز اور ٹرینڈ اسٹاف فراہم نہیں کیا گیاجس کی وجہ سے فائر ٹینڈرز پوری طرح فعال نہیں ہو سکے۔ 

مزید :

صفحہ اول -