پرونشل فنانس کمیشن بننا چاہیے، سیٹ اپ بناہوا ہے فعال نہیں: وزیر اطلاعات سندھ 

  پرونشل فنانس کمیشن بننا چاہیے، سیٹ اپ بناہوا ہے فعال نہیں: وزیر اطلاعات ...

  

 کراچی(سٹاف رپورٹر)صوبائی وزیر اطلاعات، بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہاہے کہ پرونشل فنانس کمیشن بننا چاہیے، ویسے سیٹ اپ بنا ہوا ہے، لیکن فعال نہیں ہے، رواں مالی میں فعال ہو جائے گا،مردم شماری پر سب سے زیادہ سخت موقف پاکستان پیپلز پارٹی نے رکھا ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلی سندھ نے مردم شماری کا معاملہ ہر فورم پر اٹھایا ہے جبکہ جو باتیں کر رہے تھے وہ پیچھے ہٹ گئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں سیو کراچی کانفرنس سے خطاب اور سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری سندھ اور بلوچستان کے لئے اہم معاملہ ہے، پاکستان کے دیگر بڑے شہروں کا ریشو زیادہ دکھایا گیا ہے اور کراچی کا کم ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کراچی میں پورے ملک سے لوگ آتے ہیں۔ صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ یونیسف نے اس وقت سروے کیا تھا۔ اس مردم شماری اور ان کے سروے کے نتائج میں بہت زیادہ تضاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ فیصد رینڈم سروے کا کہا گیا تھا، لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا اور وفاقی کابینہ نے مردم شماری کی منظوری دے دی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے اس معاملے پر مشترکہ مفادات کونسل میں سخت اعتراضات اٹھائے اور وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیر اعظم کے سامنے بھی یہ معاملہ اٹھایا۔ صوبائی وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے مردم شماری پر اب بھی سخت تحفظات ہیں۔ کچرے کے معاملے پر سوال کے جواب پر انہوں نے کہاکہ کراچی میں تمام اضلاع میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس سے پورے شہر میں بہتری آئے گی۔ کچرے کا بڑا مسئلہ تھا، جسے ہائلائیٹ کیا جاتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر ڈی ایم سیز کا کام ہے، جو نہیں کر پا رہے تھے۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا قیام عمل میں لایا گیا اور ابتدائی طور پر دو اضلاع میں اس کا آغاز کیا گیا۔ بورڈ متعلقہ کونسل کی منظوری کے بعد اپنے کام کا آغاز کرتا ہے تو اس کی مخالفت کی گئی، لیکن بعد میں کونسل میں پریشر آنے سے ضلع شرقی اور ضلع غربی میں منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ روز قبل ضلع کورنگی اور وسطی میں بھی ایک چائنیز اور ایک اسپینش کمپنی نے کام کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ پورے کراچی میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا آغاز ہوگیا ہے تو بہت بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ کچرا بہت بڑا ایشو ہے، ہمیں اس سے جان چھڑانی ہے،کچرے سے توانائی پیدا کرنے کے تین پروپوزل آئے ہیں، جس پر کام جلد شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کو ٹائم لائن دی ہیں تاکہ اس سال کام کا آغاز ہو جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کنڈا سسٹم کو کوئی سپورٹ نہیں کرتا، با اثر افراد کی ایسے بات کی جاتی ہے، یہ محض تاثر ہے۔انہوں نے کہا کہ کیا کسی با اثر کے گھر پر کنڈا لگا ہوا ہے،اگر لگا ہوا ہے تو یہ متعلقہ ادارے کی ذمہ داری ہے، ایسی تاریں لگانی چاہیے، جس میں کنڈانہ لگ سکے۔انہوں نے کہا کہ کنڈوں کو ہٹانے کے لیے سندھ حکومت کے الیکٹرک سے بھرپور تعاون کرے گی۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اس طرح کی شکایات پرکے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی جانب سے پورے علاقوں کی بجلی کاٹ دی جاتی ہے، جو لوگ اپنا پیٹ کاٹ کر مہنگی بجلی کا بل بھرتے ہیں ان کو بھی بجلی کی فراہمی منقطع کر دی جاتی ہے۔ ایک سوال کے جواب پر انہوں نے کہا کہ کراچی شہر تاروں کا جنگل بن گیا ہے، سندھ حکومت نے اس کو بہتر کرنے کے لئے دو تلوار اور تین تلوار سمیت دو تین جگہ تاروں کو ہٹانے کا کام شروع کیا ہے، اس سلسلے میں کے الیکٹرک سے سپورٹ چاہیے تاکہ شہر سے تاروں کے جنگل سے جان چھڑائی جائے۔ کراچی کے ترقیاتی منصوبوں پر انہوں نے کہا کہ کراچی کا ملک کی معیشت میں بڑا کردار ہے، سندھ حکومت نے کئی ترقیاتی منصوبے مکمل کئے ہیں اور کئی پر کام جاری ہے، کراچی کو مزید ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف سندھ حکومت کو کہا جاتا ہے کہ اسکیم نہیں دیتی، وفاق کی معیشت بھی کراچی سے چلتی ہے، وفاق کو کیوں نہیں کہا جاتا۔ وفاق نے مالی سال 20-2019 میں 25 فیصد کم رقوم منتقل کیں۔ گزشتہ مالی سال میں 85 ارب روپے سے زائد کٹ لگایا گیا۔ اس کے باوجودکراچی کے لئے 991 ارب روپے کی اسکیمیں رکھی ہیں اور رواں مالی سال میں کراچی شہر کے منصوبوں کے لیے 92 ارب رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی بہتری کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہے۔ایم کیو ایم، پی ٹی آئی، جماعت اسلامی، پی ایس پی اسٹیک ہولڈرز ہیں اور سول سوسائٹی بھی اسٹیک ہولڈرز ہے، ہم سب ملکر کام کریں گے تو بہتری آئے گی۔

کراچی(سٹاف رپورٹر)سندھ کے وزیر اطلاعات و بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کہاہے کہ حلیم کو جیل کا خوف کھائے جارہا ہے، ہم نیب کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ حلیم عادل کو کب گرفتار کرتی ہے، اگر کوئی امریکا جا رہا ہے تو پی ٹی آئی کو کس بات کا خوف ہے۔اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے ناصر حسین شاہ نے کہاکہ حلیم کے بیانات ان کی بوکھلاہٹ اور کھوکھلے پن کا ثبوت ہیں، آج حلیم مراد سعید کی زبان استعمال کررہے ہیں، ان لوگوں میں صرف بدتمیزی اور گالم گلوچ کا آپس میں مقابلہ ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک بات ماننی پڑے گی حلیم بہترین اتھلیٹ (Athlete) ہیں، جس طرح حلیم عادل نے سینٹرل جیل میں دوڑ لگائی تھی آج بھی وہ جیل کا ریکارڈ ہے، حلیم جیل میں بہترین دوڑ کا ریکارڈ خود ہی توڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر بن تو گئے لیکن اس عہدے پر پورا نہیں اتر سکے، روز حلیم کہتے ہیں کہ اس نے وزیراعلی سندھ کے خلاف پٹیشن دائر کی ہے، یہ آپ کے بوکھلاہٹ کے اقدام آپ کو مزید رسوا کریں گے۔ناصر حسین شاہ  نے کہاکہ اگر کوئی امریکا جا رہا ہے تو پی ٹی آئی کو کس چیز کا خوف کھائے جارہا ہے، آپ کے پاؤں تلے زمین کیوں نکلی جارہی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -