سندھ بھر میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج 

سندھ بھر میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج 

  

 سکھر،ٹنڈوالہ یار(نیوزایجنسیاں) سکھر اورٹنڈوالہ یارسمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ، شہری پھنکے اور تاریں اٹھا کر سڑکوں نکل آئے،بجلی کے پنکھے کا علامتی جنازہ رکھ کر سیپکو کے خلاف انوکھا احتجاجی مظاہرہ، سیپکو کے خلاف نعریبازی،بالا حکام سے لوڈ شیڈنگ اور اضافی بلز بھیجے جانے کا نوٹس لیکر صارفین کو مشکلات سے نجات دلانے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق سیپکوکی صارفین کیساتھ مبینہ زیادتیوں اور بجلی کی غیر اعلانییہ لوڈ شیڈنگ اور اضافی بل بھیجے جانے والے عمل کے خلاف شہریوں کی کثیر تعداد نے سول سوسائٹی کی قیادت میں پنکھے کا علامتی جنازہ رکھ کر انوکھا احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرریبازی کی مظاہرین نے ہاتھوں میں مذمتی پلے کارڈ اور بینرز اور پنکھے اٹھا رکھے تھے اس موقع پرمذکورہ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سیپکو نے شہر بھر میں رشوت کا بازار گرم کررکھا ہے شہر کے مختلف علاقوں، واری تڑ،غریب آباد،شمس آباد مائیکرو کالونی،بھوسہ لائن،نیو پنڈ،قریشی گوٹھ سمیت سکھر شہر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث علاقہ مکین شدید گرمی میں پریشان حال زندگی گذار رہے ہیں لیکن شکایات کے باوجود سیپکو کان دھرنے کو تیار نہیں ہے دوسری جانب ٹنڈوالہ یار اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں جیسے جیسے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اسی طرح حیسکو کی جانب سے مسلسل اعلانیہ اور غیر اعلانیہ بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ کیا جارہا ہے حیسکو ٹنڈوالہ یار کی جانب سے پہلے صرف 4 گھنٹے پھر 6اور 8 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی تھی اب گزشتہ ایک ہفتے سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے حیسکو ٹنڈوالہ یار کی جانب سے 10 سے 12 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے جس کے سبب اس شدید گرمی میں میں عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے رات کی اوقات میں ہونے والی لوڈشیڈنگ کے دوران علاقے کے حیسکو کے صارفین  سے ملاقات کی تو ان  کا کہنا تھا کہ حیسکو ٹنڈوالہ یار نے اس شدید گرمی میں ہماری زندگی عذاب بنادی ہیمظاہرین نے حکومت سندھ بجلی کے وفاقی وزیر ایکس ای این ٹنڈوالہ یار سے مطالبہ کیا ہے کہ اس شدید گرمی میں  ٹنڈوالہ یار سے 10 سے 12 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ خاتمہ کیا جائے۔

لوڈشیڈنگ احتجاج

 اسلام آباد(آئی این پی) ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال گھٹ کر 2200میگاواٹ رہ گیا ہے،ملک بھر میں بجلی کی طلب 25ہزار میگاواٹ ہے۔ ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق بجلی کی مجموعی پیداوار 22800میگاواٹ ہے۔ پن بجلی ذرائع سے 4800میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے جبکہ نجی شعبے کے بجلی گھروں کی پیداوار 14500میگاواٹ ہے۔اسی طرح سرکاری تھرمل پاور پلانٹ 3500میگاواٹ بجلی پیدا کررہے، آئیسکو ریجن میں بجلی کا شارٹ فال زیرو ہے۔آئیسکو کو 1800میگاواٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے۔آئیسکو ریجن میں بجلی کی طلب 1800میگاواٹ ہے۔شارٹ فال کے باعث آئیسکو ریجن میں کہیں بھی لوڈشیڈنگ نہیں۔دوسری جانب پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فنی خرابی کے نام پر غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ کئی شہروں میں 8 جب کہ دیہات میں 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ بدستور جاری ہے۔

پاور ڈویژن 

مزید :

صفحہ اول -