قبائلی رسم ’ژاغ‘ کے تحت لڑکی کی زبردستی شادی کی کوشش ناکام، ملزم گرفتار

قبائلی رسم ’ژاغ‘ کے تحت لڑکی کی زبردستی شادی کی کوشش ناکام، ملزم گرفتار
قبائلی رسم ’ژاغ‘ کے تحت لڑکی کی زبردستی شادی کی کوشش ناکام، ملزم گرفتار

  

وزیرستان (ویب ڈیسک) جنوبی وزیرستان کے علاقے سرا روغہ میں پولیس نے کارروائی کرکے لڑکی سے زبردستی شادی کی کوشش کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا۔

جیو نیوز کے مطابق  قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کے تھانہ پولیس سرا روغہ کے ایس ایچ او عبدالشکور محسود نے کارروائی کرتے ہوئے پرانی اور ظالمانہ قبائلی رسم ’ژاغ‘ کے ملزم کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا۔پولیس کے مطابق ملزم امداداللہ محسود نے ایک لڑکی کے ساتھ زبردستی شادی کرنے کے لئے ’ژاغ‘ کیا تھا۔قبائلی رسم 'ژاغ' کے تحت لڑکیوں سے زبردستی شادی کی جاتی ہے۔

قبائلی رسم کے مطابق جس لڑکے کو بھی کوئی لڑکی پسند ہوتی تھی تو پہلے اس لڑکی کا رشتہ مانگ لیا جاتا تھا، رشتہ نا دینے پر نوجوان بندوق سے تین فائر کرکے نعرہ لگاتے تھے کہ فلاں کی بیٹی پر میں نے ’ژاغ‘ کیا ہے، لڑکی کا رشتہ اس لڑکے سے کر دیا جاتا یا پھر لڑکی کو عمر بھر شادی کے بغیر والد کے گھر پر زندگی گزارنی پڑتی۔

مزید :

علاقائی -FATA -وزیرستان -