خاندانی نظام کے حوالے سے بل منظور ہونے کے بعد حکومت نے بڑا قدم اٹھالیا

خاندانی نظام کے حوالے سے بل منظور ہونے کے بعد حکومت نے بڑا قدم اٹھالیا
خاندانی نظام کے حوالے سے بل منظور ہونے کے بعد حکومت نے بڑا قدم اٹھالیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی حکومت نے خاندانی تشدد کے امتناع اور تحفظ کے بل 2021 کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کا کہنا ہے کہ قرآن و سنت کیخلاف کوئی قانون نہیں بن سکتا، اس لیے بل اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جائے گا۔بابراعوان کی جانب سے اس حوالےسے  سفارش سپیکر اسد قیصر کو لکھے گئے خط میں کی گئ ہے۔ گھریلو تشدد  کی روک تھام اور تحفظ کے  بل میں بیوی کو تنبیہ کرنے یا وارننگ دینے کو قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا تھا، بل میں والدین کا اولاد کو تنبیہ کرنا بھی قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دیا گیا تھا۔جرم ثابت ہونے پر 6 ماہ سے3 سال قید اور 20 ہزار سے1 لاکھ روپے تک جرمانہ کی منظوری دی گئی تھی۔

خاندانی تشدد کے امتناع اور تحفظ کا بل2021 قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہوچکا ہے۔

مزید :

قومی -