وزیراعظم پاکستان سے کشمیر ایکسپریس وے کی تعمیر کا مطالبہ  

وزیراعظم پاکستان سے کشمیر ایکسپریس وے کی تعمیر کا مطالبہ  
وزیراعظم پاکستان سے کشمیر ایکسپریس وے کی تعمیر کا مطالبہ  

  

ترقی و خوشحالی کی منزل کے حصول کے لئے سب سے اہم ترین فیکٹر روڈ انفراسٹرکچر کی تعمیر ہے، ہسپتال، سکول، دفاتر ان سب کا راستہ سڑک سے ہی ہوکر گزرتا ہے، ایک بڑی کھلی کشادہ سڑک بنانے کا اولین مقصدجہاں عوام کو بلا امتیاز محفوظ اور تیز رفتار سفر کے لئے سہولت فراہم کرنا ، ٹریفک حادثوں پر قابو پانااور ایندھن کی بچت ہے وہیں بہترین روزگاری مواقع فراہم کرنا، دیہات سے شہروں کی طرف ہجرت اور منتقلی میں بھی نمایاں کمی لانا ہے، بہترسفری سہولیات کی بدولت دوردراز علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوتاہے اور دیہاتوں میں اجناس کی کھیت سے منڈیوں تک آسان رسائی آسان ممکن بنائی جاسکتی ہے۔قومی منصوبہ راولپنڈی سے راولاکوٹ تک 90 کلو میٹر “کشمیر ایکسپریس وے “کی تعمیر ناگزیر ہے اس سے تحصیل کہوٹہ سے آزاد کشمیر کے چار اضلاع کی لاکھوں نفوس پر مشتمل آبادی مستفید ہو گی اس سلسلہ میں راقم نے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے بذریعہ خط مطالبہ کیا ہے کہ کاک پل راولپنڈی سے براستہ کہوٹہ،آزاد پتن،گوئیں نالہ راولاکوٹ تک 90 کلو میٹر “کشمیر ایکسپریس وے”بنانے کا اعلان کریں تاکہ عوام کو بہتر سفری سہولیات ،سیاحت کو فروغ،روزگار کے نئے مواقع اور ٹریفک حادثات سے نجات مل سکے۔ “کشمیر ایکسپریس وے “ منصوبہ خطہ کی ترقی میں گیم چینجر ثابت ہو گا، اس منصوبہ سے ڈوثرن کے سارے اضلاع پونچھ،سدھنوتی ، باغ اور حویلی برابر مستفید ہوں گے اور مسافت کا دورانیہ انتہائی کم ہو جائے گا۔  آزاد کشمیر بالعموم اور پونچھ ڈویژن کے عوام بالخصوص بنیادی سہولیات زندگی سے محروم ہیں جہاں مسلم لیگ ن  کی موجودہ حکومت نے عوام کے بنیادی مسائل کے حل کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ،کوئی بڑا تعمیراتی یا معاشی منصوبہ نہیں دیا۔ سڑکوں کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر کرپشن کے نتیجہ میں سڑکوں پر سفرغیر محفوظ ہے اور سڑکوں کےغیر معیاری کام کا خمیازہ شہری ٹریفک حادثات کی شکل میں بھگت رہے ہیں۔ حال ہی میں ہونے والے دل خراش اور افسوسناک ٹریفک حادثے میں سردار تنویر الیاس خان کے حقیقی چچا ، پی ٹی آئی کے رہنما،ایم ایل اے اور ہر دلعزیز عوامی لیڈر سردار صغیر خان چغتائی اپنے ڈرائیور اور سیکرٹری سمیت جان کی بازی ہار گئے۔ پونچھ ڈویژن اپنے اندر سیاحت کے حوالے سے بڑی گنجائش رکھتا ہے اور اس معاشی موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے روڈ انفراسٹرکچر اور کاٹیج انڈسٹری کو ترقی دے کر علاقہ کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے جس کے اثرات یقیناً خطے کی تقدیر بدل دیں گے کشمیر ایکسپریس وے منصوبہ علاقے کی خوشحال کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگا۔

کشمیر ایکسپریس وے پونچھ ڈویژن کو زیر تعمیر 3 ایم موٹروے ( مانسہرہ - مظفرآباد-میرپور ) سے بھی براہ راست منسلک کر دے گی جو کہ سی پیک کا مختصر ترین روٹ ہو گا۔( کاشغر -نیلم - کوہالہ - ازاد پتن - منگلا -سالم انٹرچینج)-یوں سی پیک کے مختصر ترین روٹ پر ہونے کی وجہ سے پونچھ ڈویژن کے عوام کی زرعی اجناس کی مقامی اور عالمی منڈیوں تک اسان ترین رسائی ممکن ہو سکے گی۔اگلے پانچ سال تک یہ روٹ تیار ہو گا۔تب تک ہماری عوام کو بھی زراعت اور سیاحت کے لئے تیار کرنا ہو گا۔ماضی میں حکمرانوں نے ذاتی مقاصد کی تکمیل کے لئے نوجوانوں کو سرکاری نوکریوں کے چکر میں اپنے پیچھے لگایا ہوا تھا۔یہ تاثر دیا گیا تھا کہ روزگار کا واحد ذریعہ سرکاری نوکری ہے۔

ہم بغیر کسی سیاسی ایجنڈے کے عوام کو خود کفیل اور ریاست کو خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں۔اس شاہراہ کی تعمیر سے پورے دن کی مسافتیں چند گھنٹوں میں طے ہوں گی -اسلام آباد سے سدھنوتی ، راولاکوٹ تقریباً ڈیرھ گھنٹہ ، باغ دو گھنٹے جبکہ حویلی تقریباً ساڑھے تین گھنٹے پہنچا ممکن ہو جائے گا۔یہ شاہراہ نہ صرف دنیا بھر کے سیاحوں کو پونچھ ڈویژن کے سینکڑوں کلومیٹرز پہ محیط قدرتی حسن سے مالا مال ،  دلفریب ، دیومالائی ، سحر انگیز سیاحتی مقامات تک آسان رسائی دے گی بلکہ پونچھ ڈویژن کے عوام کی زرعی اجناس ، پھلوں اور دیگر اجناس کو مقامی اور عالمی منڈیوں تک رسائی دے گی۔۔ہمارا ٹارگٹ ہے کہ اگلے پانچ سال میں پونچھ ڈویژن کا ہر شخص معاشی طور پر خود کفیل اور بلامبالغہ کروڑ پتی ہو۔

سڑکوں کے بنیادی ڈھانچہ میں خرابی یا اس کی عدم موجودگی سیاحت کو متاثر کرتی ہے، کیونکہ بنیادی ڈھانچہ کے بغیرسیاحتی مقامات تک باآسانی پہنچنا اور وہاں پر قیام کرنادشوار ہوتا ہے۔ ازاد کشمیر میں کئی ایسے پر فضا مقامات ہیں جو واقعی قابل دید ہیں، اپنی قدرتی خوبصورتی کے باعث یہ مقامات سیاحوں کی توجہ کا مرکز بھی ہوتے ہیں، لیکن کمزور بنیادی ڈھانچے اور سہولیات کی کمی کے باعث سیاحوں کو ان مقامات تک پہنچنے میں دشواری ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ہمارے یہ سیاحتی مقامات سیاحوں کی ایک بڑی تعداد بالخصوص بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں سے محروم ہیں ۔آزاد کشمیر پونچھ ڈویژن پنجاب سے ملحق کرنے والی مین روڈ کی نہ گفتہ بہ حالت کے باعث سفری سہولیات سے محروم ہے یہ علاقہ دلکش اور قدرتی خوبصورتی کا حامل ہے، یہاں کے سیاحتی مقامات (بنجوسہ،تولی پیر،گنگا چوٹی ،نیل فیری ،وغیرہ ) مقامات قدرتی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں، تاہم سڑکوں کی ناقص تعمیر اور رہائش کے مناسب انتظامات نہ ہونے کہ وجہ سے سیاحوں کو ان مقامات تک پہنچنے میں دشواریوں کا سامنا ہوتا، جس کا اثر بہرحال علاقہ میں سیاحت کے فروغ پر پڑتا ہے۔

بنیادی ڈھانچہ میں خرابی سے نہ صرف معروف سیاحتی مقامات سیاحوں کی پہنچ سے دور ہوجاتے ہیں، بلکہ نئے سیاحتی مقامات کی دریافت کا عمل بھی رک جاتا ہے۔تحصیل کہوٹہ اور آزاد کشمیر کے عوام وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان سے پوری طرح پر امید ہیں کہ وہ سیاحت کے فروغ اور ماحول کے تحفظ کے جو وژن رکھتے ہیں اس وژن کو آزاد کشمیر کے خطہ میں بھی عملی جامہ پہنانے کےلئے اقدامات اٹھائیں گے خاص طور پر مالی سال22 -2021میں”کشمیر ایکسپریس وے “کی تعمیر کا منصوبہ پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کی ہدایت جاری کریں گے۔

نوٹ: یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے ، اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید :

بلاگ -