درآمدی ایندھن والے پاور پلانٹ لگانے پر پابندی، وفاقی کابینہ نے 5افراد کے نام ای سی ایل سے نکالنے، 4کے ڈالنے کی منظوری دیدی

    درآمدی ایندھن والے پاور پلانٹ لگانے پر پابندی، وفاقی کابینہ نے 5افراد کے ...

  

           اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ کی سفارش پر پانچ لوگوں کے نام ای سی ایل سے ہٹانے اور چار نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دیدی۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے  اجلاس میں وفاقی کابینہ نے خزانہ ڈویژن کی سفارش پر سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان  کے لئے حسین ایڈ کو کو مالی سال 2021-22ء کے ایکسٹرنل آڈیٹرز کے طور پر تعیناتی کی منظوری دی ہے۔ کابینہ کو پاور ڈویژن کی طرف سے ملک میں لوڈشیڈنگ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا جون 2022 ء میں ملک بھر میں بجلی کی پیداوار 23900 میگاواٹ تھی۔ 2013ء سے 2018ء تک مسلم لیگ (ن) نے جو بجلی پیدا کی وہ 23900 کی موجودہ گنجائش کا نصف ہے۔ جون میں بجلی کی طلب 30 ہزار میگاواٹ تک پہنچی جو تاریخی ڈیمانڈ ہے۔ پچھلے چار سال کے دوران کئی اہم منصوبے شروع نہیں ہوسکے، اسی وجہ سے آج ہماری بجلی کی پیداوار متاثر ہے۔ وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر کیبنٹ کمیٹی آن لیجسلیٹو کیسز (سی سی ایل سی) کے 29 جون 2022ء کو منعقدہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی،ان فیصلوں میں انٹلیکچوئل پراپرٹیز آرگنائزیشن آف پاکستان (فنانشل) رولز 2022ء، انٹلیکچوئل پراپرٹیز آرگنائزیشن آف پاکستان (سروس) رولز  2022ء، پبلی کیشن لاز آف پاکستان (ترمیمی) بل 2022ء کی منظوری سمیت نیشنل اکاؤنٹیبلٹی (ترمیمی) بل 2022ء شامل ہیں۔ و فاقی کابینہ نے کابینہ ڈویڑن کی سفارش پر کابینہ کمیٹی برائے پرائیوٹائزیشن کے 24 جون 2022ء کے منعقدہ اجلاسوں میں کئے گئے فیصلوں پر بھی غور کیا۔وفاقی وزیر نے کہاکہ لیگل فریم ورک گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ (جی ٹو جی) کمرشل ٹرانزیکشنز کے حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف کی سربراہی میں ٹاسک فورس قائم کر دی گئی ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی (پی ایس ایم سی) ٹرانزیکشنز کے حوالے سے غور ہوگا۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ کابینہ نے سروسز انٹرنیشنل ہوٹل لاہور کی نجکاری کے حوالے سے کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے فیصلے پر بھی غور کیا،سولر انرجی پر ٹاسک فورس کی پریزنٹیشن کو اگلے کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ زراعت کے بارے میں قائم ٹاسک فورس موجودہ بجٹ 2022ء  میں دی گئی مراعات پر عمل درآمد کے لئے اپنی تجاویز کابینہ کو پیش کرے گیکابینہ اجلاس کو توانائی کے مختلف منصوبوں پر بریفنگ  دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیاکہ پاکستان کے امپورٹ بل کا ساٹھ فیصد بجلی کے لئے تیل پر ہوتا ہے۔کابینہ کو زیر تکمیل منصوبوں پر  بھی بریفنگ دی گئی۔پنجاب تھرمل منصوبہ چھبیس ماہ کی تاخیر کا شکار ہوا۔تھر انرجی سترہ،تھل نووا بیس  شنگھائی الیکڑک پاور میں بیس ماہ کا تعطل  رہا۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ  کروٹ پن بجلی منصوبہ دس ماہ کے تعطل کا شکار  رہا۔منصوبے بروقت مکمل ہوجاتے تو چار ہزار میگاواٹ کا شارٹ فال کم ہوتا۔   وزارت توانائی   کی جانب سے کابینہ میں   تجویز دی گئی کہ بجلی بنانے کیلئے امپورٹڈ ایندھن کی بجائے مقامی وسائل استعمال کیا جائے۔وزارت نے بجلی بنانے کیلئے مقامی وسائل استعمال کرنے سے متعلق پالیسی بنانے کی اجازت مانگ لیکابینہ کے اجلاس کے بعد  بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزراء  مریم اورنگزیب، مصدق ملک، خرم دستگیر،اور چوہدری سالک حسین نے  کہاہے کہ کابینہ نے فیصلہ کیاہے کہ آئندہ پاکستان میں ایساکوئی پاورپلانٹ نہیں لگے گا جو درآمدی فیول استعمال کرتاہو،لوڈشیڈنگ کی وجہ سے لوگوں کی تکلیف میں اضافہ ہوایہ سارے فیصلے تکلیف کے ہیں اور آپ نے ناراض ہونا ہے اگر فیصلے نہ کرتے تو پاکستان کے عوام کا نقصان ہوتا،دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہواہے جس کی وجہ سے تربیلا میں 2ہزار میگاواٹ بجلی اضافی پیداہوگی،ملک میں بجلی  کی طلب30ہزارمیگاواٹ جبکہ استعدادکار 25ہزارمیگاواٹ ہے اور 23ہزار میگاواٹ بجلی پیداہورہی ہے،اگلے گرمیوں تک 7ہزار میگاواٹ بجلی مزید سسٹم میں آجائے گی،تحریک انصاف حکومت نے 4ہزار میگاواٹ کے سستی بجلی کے کارخانوں کی تعمیر میں تاخیر کی اگر یہ وقت پر مکمل ہوجاتے تو ملک میں صرف ایک گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی۔ کابینہ نے 5افراد کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی منظوری دی ہے۔۔وزیر طلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے کہاکہ 23900میگاواٹ بجلی کی کیپسٹی ہے جس میں سے 11600میگاواٹ مسلم لیگ ن کے دور میں لگائی گئی تھی پچھلے 4سال الزام لگاتے رہے کہ بجلی کے اضافی منصوبے لگادیئے گئے ہیں۔ بجلی کے منصوبوں میں تاخیر کی گئی۔  آج کابینہ کا ایجنڈابجلی اور لوڈشیڈنگ کے حوالے سے تھاپانچ لوگوں کے نام ای سی ایل سے ہٹائے گئے ہیں۔عمران خان 4سال میں ہمارے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں کرسکے۔ہماری حکومت آئین اور قانون کا احترام کرتی ہے۔مشیر امور کشمیرقمر زمان کائرہ نے کہاکہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے لوگوں کی تکلیف میں اضافہ ہوا۔گرمی میں انتہا کی لوڈشیڈنگ ہوئی پیٹرولیم کی قیمتوں سے اضافے کی وجہ سے عوام کو تکلیف ہوئی ہے اس کا ہمیں اندازہ ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا۔سابقہ حکومت نے وقت پر فیصلے نہیں کئے جس کی وجہ سے مشکلات آئے ہیں۔بجلی کے کارخانے سابقہ حکومت نے نہیں بنائے ہیں 15سو میگاواٹ کے کارخانے وہ ہیں جہاں پر 60روپے فی یونٹ  بجلی پیدا ہوتی ہے۔دستیاب بجلی کی کیپسٹی 40ہزار میگاواٹ ہے۔25ہزار میگاواٹ بجلی آج پیدا ہوسکتی ہے اور 23ہزار میگاواٹ پیداہورہی ہے اور ڈیمانڈ 30ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔ جہاں چوری کم ہووہاں لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی ہے جہاں 80فیصد چوری ہے وہاں 16گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہے۔ اس سال 1072ارب روپے سبسڈی میں حکومت نے  بجلی پرادا کی ہے اس کے باوجود 283ارب قردشی قرضوں میں اضافہ ہواہے۔ پی ٹی آئی نے ہمارے خلاف پروپیگنڈہ کیا مگر اپنے دور میں بجلی کے کارخانے نہیں لگائے۔ ہم سارے کارخانے بھی چلادیں تو بھی ہم پاکستان کی ڈیمانڈ پوری نہیں کرسکتے ہیں۔ اگر بجلی کے کارخانے مکمل ہوجاتے تو آج ایک گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی۔پنجاب ترمل منصوبے میں  26ماہ تاخیر کی گئی تھر انرجی منصوبے 17ماہ کی تاخیر ہے نووا پاور 20ماہ،شنگائی 20ماہ اور کروٹ منصوبہ میں بھی تاخیر کی گئی یہ 4ہزار میگاواٹ کے منصوبے لگے ہوتے تو آج سستی بجلی پیداہوتی۔ جتنی تاخیر پی ٹی آئی حکومت نے ان منصوبوں  میں کی ہے  شہباز شریف نے اتنی مدت میں منصوبے مکمل کئے ہیں۔پاکستان میں کوئی ایسا پلانٹ نہیں لگے گا جہاں درآمدی فیول استعمال ہوگا۔2ہزار میگاواٹ اس ہفتے کے آخر میں دریاؤں میں پانی آنے کی وجہ سے اضافی پیداہوگی وزیراعظم نے کہاہے کہ 3گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ نہ ہو۔یہ سارے فیصلے تکلیف کے ہیں اور آپ نے ناراض ہونا ہے اگر فیصلے نہ کرتے تو پاکستان کے عوام کا نقصان ہوتا۔وزیر سرمایہ کاری  چوہدری سالک حسین نے کہاکہ ہمارے فیصلے سخت فیصلے ہیں جو آنے والے وقت کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔ وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے کہاکہ آنے والے وقت میں ہمیں گیس نہیں مل رہی ہے جب گیس 4ڈالر کی مل رہی تھی اس وقت لے لیتے۔ہمیں اب مہنگی گیس بھی نہیں مل رہی ہے۔ 12.5ملین ڈالر کا پورا ایل این جی کا جہاز مل رہا تھا مگر پی ٹی آئی حکومت نے نہیں لیا۔ پچھلے سالوں میں 170ارب کی ایل این جی خریدکر گھریلوصارفین کو دے دی  گئی۔گھریلو صارفین کو گیس دینے کے لیے نہیں ہے مگر کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ وزیر بجلی خرم دستگیر نے کہاکہ کروٹ منصوبہ 720میگاواٹ کا منصوبہ ہے وہ 29جون سے آپریشنل ہوگیا ہے اور سسٹم میں بجلی شامل ہوگئی ہے۔نیلم جہلم منصوبہ مکمل استعداد کار میں چل رہاہے۔وزیراعظم نے کروٹ کوٹ منصوبہ کا افتتاح کرنا تھا مگر الیکشن کمیشن کی ہدایت کی وجہ سے وہ نہیں گئے۔وزیراعظم شہبازشریف قوانین کا احترام کرتے ہیں۔مسلم لیگ ن کے سابق دور کے منصوبے اگلے سال تک نیشنل گریڈ میں شامل ہوجائیں گے اگلے گرمیوں تک 7ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوجائے گی۔شمسی توانائی پر جامع پالیسی لے کر آرہے ہیں۔سرکاری عمارتوں کو بھی سولر پر منتقل کیا جائے گا چھوٹے گھریلو صارفین کے لیے بھی سولر کا منصوبہ لائیں گے۔ تربیلا میں پانی کی آمد بہتر ہے عید  سے پہلے تربیلا 35سومیگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔کے ٹو نیوکلیئر پلانٹ جو کراچی میں ہے وہ بھی عید سے پہلے فعال ہوجائے گا۔پاکستان میں آئین کی عمل داری کے لیے سب قائدین اکٹھے ہوئے ہیں۔اگلے سال 2023میں شفاف انتخابات ہوں گے۔سو یونٹ استعمال کرنے والوں کے لیے بجلی کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا گیا حکومت پنجاب نے سو یونٹ استعمال کرنے والوں کے لیے بجلی مفت کردی ہے۔عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں میں ہوشربااضافہ ہواہے۔ پی ٹی آئی نے سیاسی انتقام کے ساتھ عوام سے  بھی انتقام لیا ہے۔ بجلی کے مسائل سادہ گفتگو سے حل نہیں ہوں گے۔غریب کو ریلیف دینا پہلی ترجیح ہے۔ 

وفاقی کابینہ

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) وزیراعظم شہباز شریف نے انڈسٹریل بالخصوص ٹیکسٹائل سیکٹر کے انرجی سپلائی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ   انڈسٹریل اور برآمدی سیکٹر کے مسائل کے فوری حل میں پاکستان کی معاشی بقا پوشیدہ ہے، ان سیکٹرز کی مدد سے مصنوعات کو عالمی مارکیٹ میں بہتر طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کے روزلاہور میں سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا،اجلاس  میں معاون انڈسڑیل اور ایکسپورٹ سیکٹر کے مسائل کا جائزہ لیا گیا،اجلاس میں وفاقی وزرا خرم دستگیر، سالک حسین، نوید قمر، مرتضی محمود، وزیرِ مملکت مصدق ملک اور شاہد خاقان عباسی،صوبائی وزیر ملک احمد خان، متعلقہ وزارتوں کے حکام اور ٹیکسٹائل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے صنعت کار  شریک ہوئے،اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ بزنس مین کا نمائندہ گروپ متعلقہ وزرا سے ملاقات کرے اور مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کرے،وزیر اعظم  نے کہا کہ انڈسٹریل اور برآمدی سیکٹر کے مسائل کے فوری حل میں پاکستان کی معاشی بقا پوشیدہ ہے، ان سیکٹرز کی مدد سے مصنوعات کو عالمی مارکیٹ میں بہتر طور پر پیش کیا جا سکتا ہے،شہباز شریف نے صرف گیس پر چلنے والے کارخانوں کے لیے گیس کی لوڈ شیڈنگ کی پالیسی پر نظر ثانی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ گیس کی فراہمی سے برآمدات کی پیداواری ترسیل کو یقینی بنایا جائے۔  وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکا کے یوم آزادی پر امریکی حکومت اور عوام کو دلی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت جوزف بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ باہمی تعلقات کو ہر سطح پر فروغ دینے کی خواہشمند ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیر اعظم نے امریکا کی حکومت اور عوام کو امریکا کے یوم آزادی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری سمیت دوطرفہ تعلقات کو ہر سطح پر فروغ دینے کی خواہشمند ہے۔دوسری طرف امریکا نے کہا ہے کہ ہمیں پاکستان کے ساتھ تجارتی، اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے مواقعوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے،دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی شراکت داری ضروری ہے، امید ہے کہ پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کو راغب کرنیکے لیے اصلاحات کا نفاذ جاری رکھے گا۔پاکستان میں امریکی سفارتخانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق تجارتی اور کاروباری امور کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے دلاور سید نے یکم سے 3 جولائی تک پاکستان کے مختلف شہروں کے دورہ کیا۔اس موقع پر انہوں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے حکومتی عہدیداروں اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کی جس میں انہوں نے کہا کہ ہمیں تجارتی، اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔اپنے دورے کے دوران خصوصی نمائندے دلاور سید نے امریکا پاکستان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو بڑھانے کے لیے امریکی حکومت کے عزم کو اجاگر کیا۔پاکستان کے وزرائے خزانہ، تجارت اور خارجہ امور کے ساتھ اپنی ملاقاتوں میں انہوں نے امریکا اور پاکستان کے درمیان اقتصادی شراکت داری پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری اور سول سوسائٹی کے پاکستانی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت میں ایسے ٹھوس طریقوں کی تلاش کر رہے ہیں جن سے ہم اپنے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچانے کے لیے اس تعلقات کو استوار کر سکتے ہیں۔ امریکا کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان کی حوصلہ افزائی کرتا رہتا ہے تاکہ امریکی کاروبار کے لیے سرمایہ کاری کام کرنے اور ملازمتیں پیدا کرنے میں آسانی ہو۔

شہباز شریف

مزید :

صفحہ اول -