گاڑی سے بھاری مالیت کی منشیات برآمد!

گاڑی سے بھاری مالیت کی منشیات برآمد!

  

مجرم کا چالاک ہونا جہاں جرم کے ارتکاب میں نہایت مددگار ہوتا ہے وہاں پولیس کا مستعد اور زیرک ہونا جرائم پیشہ عناصر کی مجرمانہ کاروائیوں کے سدباب کا ذریعے ثابت ہوتا ہے المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں باصلاحیت پولیس افسران وملازمین کی قدر نہیں کی جاتی حالانکہ جرائم کے خاتمہ کی خاطر تمام تر اسباب میسر ہونے کے باوجود جب تک ان وسائل و اسبا ب کے استعمال کے قابل باصلاحیت افسران و ملازمین موجود نہ ہوں ان سے استفادہ ممکن نہیں، ویسے بھی یہ کہنا غلط نہیں کہ پولیس کے تین آنکھیں ہوتی ہیں اور تیسری آنکھ پولیس آفیسر یا ملازمین کی وہ پوشیدہ دور اندیشی کی صلاحیت ہوتی ہے جس کے بل بوتے وہ وہاں تک دیکھ پاتا ہے جہاں تک عام شہری کے شعورکی نظر نہیں جاتی لہذاٰ ہمارے ہاں محکمہ پولیس میں یہ صلاحیت خال خال افسران و ملازمین میں موجود ہے جس کے فقدان کے باعث جرائم کی شرح ناقابل بیان حد تک پہنچ چکی ہے اور معاشرہ کا امن غارت ہو کر رہ گیا ہے، جرائم کی وارداتوں کا تسلسل پو لیس کی مجموعی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہوئے ہے۔ جرم کی کوئی ایسی صنف نہیں جو ہمارے ہاں پائی نہ جاتی ہے مگر منشیات کے فروغ جیسا معاشرتی تباہی کا حامل جرم سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہورہا ہے جس نے کئی جوانیاں روندھ ڈالیں، ماؤں کے لخت جگر اپنا شکار بنا کر بے بس کردیئے، ضمیر اچاٹ ڈالے اور سوچ و فہم کو گھن لگانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی مگر نہ اس جرم کے ارتکاب میں کمی کی خاطر کوئی اقدام کارگر ہوتا دکھائی دیا نہ جیلیں بھرنے کے باوجود منشیات کی فروخت کی شرح میں کوئی کمی واقع ہوئی،منشیات کے استعمال کے عادی افراد کو چوری ڈکیتی و راہزنی سمیت ایسے ایسے سنگین جرائم میں ملوث پایا گیا ہے کہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے مگر اس لعنت کے سدباب کی کوئی سبیل تاحال میسر نہیں البتہ بعض پولیس کاروائیاں یہ حوصلہ ضرور دیتی ہیں کہ محکمہ پولیس کے بعض افسران منشیات کی لعنت کے خاتمہ کی خطر برسر پیکار ہیں اس کا ایک واضح ثبوت گزشتہ رو ز پاک بھارت بارڈ ایریا کے گاؤں کھنڈا اور چکرالی کے وسط میں واقع روڈ پر کھڑی گاڑی سے کروڑوں روپے مالیت کی منشیات کا برآمد کیا جانا ہے جسے چالاک مجرموں نے گاڑی میں بنائے گئے ایسے خفیہ خانہ میں چھپا رکھا تھا کہ جس کا عام فہم تصور نہیں کرسکتا، تھانہ نارنگ منڈی پولیس کو مذکورہ علاقہ میں کھڑی مشکوک گاڑی کی اطلاع ملی جس کی تلاشی کی بابت ایس ایچ او رانا سجاد اکبر نے ایس آئی ذوالفقار علی کی سربراہی میں فوری ٹیم تشکیل دیکر روانہ کی جس نے موقع پر پہنچ کر گاڑی کا لاک کھولا تو دوران تلاشی گاڑی کی سیٹ کے نیچے چھپائی گئی تقریباً ساڑھے چار لاکھ روپے نقدی، عقبی سیٹ پر پڑے دو لوڈ پسٹل جن میں درجنوں گولیاں موجود تھیں برآمد کئے جس سے پولیس پارٹی پر واضح ہوگیا کہ یہ رقم اور اسلحہ گاڑی میں قطعی بے جا رکھا گیا نہیں لہذاٰ گاڑی کی پوری طرح تلاشی لینے کا اقدام اٹھایا گیا تو پولیس کا خدشہ درست ثابت ہوا گاڑی کی ڈکی کے قریب ایک ایسا خفیہ خانہ بنایاگیا تھا جو سرسری نظر میں گاڑی کی بناوٹ کا حصہ محسوس ہورہا تھا جسے خاصی کوشش کے بعد کھولا گیا تو اندر سے ہیروین کے رکھے گئے پانچ پیکٹ برآمد ہوئے جن کا وزن 50000گرام اور مالیت کروڑوں روپے تھی گاڑی کی تلاشی کے دوران ملنے والے دو موبائل فون واضح کررہے تھے کہ ملزمان پولیس کی آمد کی اطلاع پاکر فرار ہوئے ہیں لہذاٰ پولیس پارٹی نے برآمد کردہ منشیات اور نقدی، اسلحہ و ہیوی بیٹری چارجرز سمیت موبائل فونز اور دیگر کوائف تحویل میں لیکر گاڑی سمیت تھانہ نارنگ منڈی منتقل کئے جہاں ہیروئن کے سیمپل لیکر تصدیق کیلئے لیبارٹری بھجوائے گئے جبکہ نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا مگر پولیس کی یہ کاروائی اسوقت تک ادھوری تھی جب تک ملزمان کا سراغ اور منشیات سپلائی کا یہ سلسلہ پوری طرح بے نقاب نہ ہوجاتا اور اسی سوچ کے تحت ایس ایچ او رانا سجاد اکبر نے اس ٹاسک کو پوراکرنے کیلئے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کیا اور گاڑی سے برآمد ہونے والی اشیاء کا باریک بینی سے تجزیہ کرنے پر ان سمگلروں کی چالاکی سامنے آتی چلی گئی، ایس ایچ او رانا سجاد اکبر نے گاڑی سے ملنے والے ہیوی بیٹری چار جز کے استعمال کی جب تفصیلات جمع کیں تو انکشاف ہوا کہ ڈوران ڈیوائس کے بیٹری چارجر ہیں جنہیں ڈرون کی بیٹریوں کو گاڑی کے ذریعے استعمال میں لانے کی خاطر تیار کیا گیا تھا اور پکڑی گئی منشیات ڈرون کے ذریعے بارڈ پار سمگل کی جانی تھی ملزمان فرار ہوتے وقت ڈرون ساتھ لے گئے تاکہ انکا پلان پوری طرح بے نقاب نہ ہوسکے مگر پولیس سے واردات کے تما م محرکات سامنے لاتے ہوئے گزشتہ ماہ بارڈر کے قریب اڑتے ہوئے پکڑے جانے والے ڈوران کی بھی دوبارہ سے جانچ کی جس سے واضح ہوگیا کہ پولیس کی تمام تر تحقیقات درست سمت گامزن ہیں جو یقینا خوش آئند امر تھا یقینا چالاک مجرموں کی تیار کی گئی منشیات فروشی کی مجرمانہ حکمت عملی اب راز نہیں رہی تھی اور پولیس نے تحقیقات کی روشنی میں جلد ان ملزمان کی شناخت کرنے میں بھی کامیاب ہوگئی اور پتہ چلا کہ یہ سمگلروں کا یہ ایسا پہلا بین الاقوامی گروہ ہے جو ڈوران کے ذریعے بارڈر پار بھارت میں موجود اپنے کارندوں کو یہ زہر سپلائی کرتا ہے بلاشبہ اگریہ سپلائی کامیاب ہوتی تو مذکورہ منشیات کا زہرسینکڑوں افراد کی رگوں میں اتارنے کے کام آتا کمال بات یہ ہے کہ پکڑی گئی منشیات کی قیمت کروڑوں روپے ہے جس کے باعث ہونے والا مالی نقصان بھی منشیات سمگلروں کی حوصلہ شکنی کا سبب بنا جس کی بھروائی کی خاطر انکی آئندہ کی گئی کاروائی یقینی طور پر انکی گرفتاری کا سبب بنے گی کیونکہ پولیس انکی چال اور طریقہ سپلائی سمجھ چکی لہذا سدباب کی خاطر اٹھائے گئے اقدامات مجرموں کی گردن دبوچنے میں کارگر ثابت ہوں گے جبکہ انکا روپوش ہو جانا بھی زیادہ دیر انہیں پولیس کی گرفت سے بچا نہیں سکتا کیونکہ انکے درکار کوائف کے بلبوتے پولیس انکی شناخت کرچکی ہے۔

٭٭٭

 پاک بھارت سرحدی علاقے میں کھڑی

بھارت سمگل کرنے کی کوشش پولیس نے ناکام بنا دی،ملزم گرفتار، اسلحہ بھی پکڑا گیا

پکڑی گئی کروڑوں روپے مالیت کی منشیات بھی سمگلروں کی حوصلہ شکنی کا سبب بنی

مزید :

ایڈیشن 1 -