بدبخت بیٹے نے ماں کو قتل،بہن کو زخمی کر ڈالا!

 بدبخت بیٹے نے ماں کو قتل،بہن کو زخمی کر ڈالا!

  

زمانہ جاہلیت میں بد بخت اولاد اپنے والدین کو ناحق ہی قتل کردیا کرتے تھے۔ ہمارے نبی کریم ؐ نے ماں کی اہمیت کے بارے بتایا کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔اس طرح والدین کے قتل و غارت کا سلسلہ تھم گیا تھا۔لیکن موجودہ دور میں دین کی دوری کی وجہ اولاد والدین کی نافرمانی ہورہی ہے۔ایسا ایک نافرمانی اور زمانہ جاہلیت کی یاد تھانہ گرجاکھ کے علاقہ محلہ باغوالہ میں دہرائی گئی۔جہاں پر بدبخت بیٹے نے والدہ کو قتل اور ہمشیرہ کو زخمی کردیا۔پولیس رپورٹ کے مطابق معمر خاتون پروین اختر گھر کا گزربسر لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرکے پورا کررہی تھی، طاہرہ اختر کی چار بیٹیاں اور2 بیٹے ہیں،معمر خاتون نے چاروں بیٹیوں اور ایک بیٹے کی شادی کردی تھی، چاروں بیٹیاں اپنے اپنی گھروں میں خوش تھیں،پروین اختر کا ایک بیٹا جو کہ شادی شدہ تھا وہ بھی اپنی بیوی کو لیکر الگ ہوگیا تھا،پروین اختر بی بی کا خاوند 7سال قبل وفات پاگیا تھا، سب سے چھوٹا بیٹا 18 سالہ علی حیدر اپنی والدہ کیساتھ رہ رہا تھا، جو کہ آٹو رکشہ چلا کر گھر کا نظام چلا رہا تھا، لیکن کرونا کی پہلی وباکے بعد علی حیدرنے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور وہ آوارہ دوستوں کی محفل میں بیٹھنا شروع ہوگیا، علی حیدر اکثر اپنی والدہ کیساتھ جھگڑا کرتا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتا تھا،علی حیدر کی بہنیں اس کومنع کرتی رہتی تھی،لیکن علی حیدر اپنی بری شہرت چھوڑنے کو تیار نہ تھا، گھر میں آئے روز علی حیدر کی شکایات لیکر کوئی نہ کوئی آتا رہتاتھا، اس کی والدہ لوگوں سے معذرت کرتی رہتی، رات کو جب یہ گھر آتاتو اس کی والدہ اس کو سمجھاتی تو الٹا یہ والدہ کو ڈانٹ دیتا تھا، والدہ خاموش ہوکر دوسرے کمرے میں چلی جاتی تھی اور اللہ تعالی سے دعا کرتی تھی کہ یااللہ اس کو ہدایت دے اور اس کو کوئی بہتر روز گار بھی فراہم کر، والدہ اپنے بیٹے کیلئے دن رات دعائیں کرتی رہتی تھی، معمر خاتون کی بیٹیوں نے اب تقریبا گھر کا خرچہ اٹھا رکھا تھا،وقفہ وقفہ سے چاروں بہنیں اپنی والدہ کے گھر آکر کچھ دن گزارتی اور گھر کی صفائی ستھرائیاں کرتی تھیں، معمر خاتون بڑا بیٹا جو کہ شادی کے بعد اپنی بیوی کو لیکر کر الگ ہوگیا تھا اس نے اپنی والدہ، بہنوں اور چھوٹے بھائی سے ہر قسم کا رابطہ ختم کررکھا تھا،معمر خاتون کی ایک بیٹی طاہرہ زوجہ شاہزیب سکنہ جگنہ اپنی ماں کیساتھ کچھ دنوں سے رہ رہی تھی اور گھر کی دیکھ بحال کررہی تھی، زیادہ عمر ہونے پر معمر خاتون کی صحت خراب رہتی تھی۔

9جون کی شام معمر خاتون اور اس کی بیٹی طاہرہ آپس میں باتیں کررہے تھے کہ اس دوران معمر خاتون کا آوارہ بیٹا علی حیدر بھی گھر آگیا اور اپنی والدہ سے کہا کہ مجھے نئے کپڑے خرید کرنے ہے پیسے چائیے، والدہ نے انکار کردیا، علی حیدر ماں اور ہمشیرہ کو گالیاں وغیرہ دیکر کمرہ میں چلا گیا اور ہمشیرہ کے کپڑے پہن کر لیٹ گیا اور دوسرے روز10جون کو اٹھ کر صحن میں آیا تو والدہ نے کہا کہ تم نے اپنی ہمشیرہ کے کپڑے کیوں پہن رکھے ہیں،کہنے لگا جب تک مجھے نئے کپڑے نہیں دلائیں گئے تب تک میں یہی کپڑے پہن رکھو گا، والدہ خاموش ہوگئی، علی حیدر انہی کپڑوں میں گھروں سے باہر نکل گیا اور شام کو دوبارہ گھر آیا، اور آتے ہی غصہ میں والدہ کیساتھ توں تکرا شروع کردی، اور کہا کہ مجھے ابھی نئے کپڑے چائیے، والدہ نے کہا کہ گھر کا گزر بسر بڑی مشکل سے ہورہا ہے تمہیں کہا ں سے کپڑے لیکر دوں، کام کاج کرو نکموں کی طرح گھر میں ہی پڑے رہتے ہوں، اسی بات پر علی حیدر کو غصہ آیا اور والدہ ہمشیرہ کو غلیظ گالیاں اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینی شروع کردیں، والدہ نے پاس پڑا ہوا (متھ لکڑی کا ڈنڈا)پکڑ کراس کو ایک لگایا تو علی حیدر نے والدہ سے چھین کر والدہ اور بہن کے سروں میں مار مار لہولہان کردیا، ملزم علی حیدر نے اس قدر مارا کہ اس کی والدہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئی،جبکہ اس کی ہمشیرہ شدید چوٹیں آنے پر بے ہوش ہوگئی، ملزم نے قتل کے وقت بھی ہمشیرہ کے کپڑے پہن رکھے تھے اور گھر کے باہر کھڑا ہوگیا تھا، لڑائی کے دوران چیخ وپکار پر لوگ اکٹھے ہوئے تھے،جنہوں نے پولیس کو اطلاع کردی، پولیس نے ملزم کو زنانہ کپڑوں میں ہی گرفتار کر لیاتھا، اور گھر سے آلہ قتل بھی برآمد کرلیا، پولیس نے مقتولہ خاتون پروین اختر کی لاش اور زخمی طاہرہ بی بی کو ضروری کاروائی کیلئے سول ہسپتال میں منتقل کردیاگیا تھا،ملزم نے پولیس کو بیان دیا کہ اسے نہیں علم کہ والدہ کو کس نے مارا اور ہمشیرہ کیسے زخمی ہوئی،پولیس نے روایتی انداز میں تفتیش کی تو ملزم نے اقرار کیا کہ والدہ نے پہلے مارا تو پھر مجھے نہیں پتہ کیا ہوا کہ میں نے کب والدہ سے ڈنڈو پکڑا اور والدہ کو مارا اور ہمشیرہ کو زخمی کیا، پولیس نے مقتولہ کی بیٹی طاہرہ بی بی جو اس واقعہ میں زخمی ہے کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے ابتدائی شروع کردی ہے، پولیس نے تفتیش مکمل کرکے ملزم کو جیل بھیج دیا ہے۔

٭٭٭

گوجرانوالہ کی بستی گرجاکھ میں 

ملزم اکثر والدہ کیساتھ جھگڑا کرتا اورسنگین نتائج کی دھمکیاں دیتا 

مزید :

ایڈیشن 1 -