مردہ مرغیوں کی سرعام فروخت 

مردہ مرغیوں کی سرعام فروخت 

  

خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں کچھ عرصہ سے مردہ چکن کی فروخت کی شکایات سامنے آ رہی ہیں اور ایک خبر کے مطابق اکثر علاقوں میں مرغی کا گوشت سپلائی کرنے والے ہوٹلوں، باربی کیو شاپس اور کھانے پینے کی دیگر دکانوں پر مردہ چکن سستے داموں فروخت کرنے کا مذموم کاروبار کررہے ہیں۔ اس حوالے سے ملنے والی شکایات پر بعض مقامات پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے تاہم شکایات کا یہ سلسلہ بدستور جاری ہے اور عوام کو مردہ مرغیاں کھلائی جا رہی ہیں۔ ابھی گزشتہ روز  صوبائی دارالحکومت پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے مردہ مرغیوں کا گوشت سپلائی کرنے والے گروہ کا سراغ لگا کر سر غنہ سمیت کئی افراد کو گرفتار بھی کیا اور600مرغیا ں برآمد کرلی گئیں۔اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ گروہ پولٹری فارموں اور دکانوں سے مردہ مرغیا ں اکٹھی کر کے بالخصوص شوارما اور برگرکیلئے سپلا ئی کرتا تھا۔ڈپٹی کمشنر پشاور کو اطلاع موصول ہوئی تھی کہ باچا خان چوک میں ایک گودام میں بڑی تعداد میں مردہ مرغیاں موجود ہیں جن کو پشاور کے مختلف حصوں کو سپلائی کیا جانا ہے،ضلعی انتظامیہ کی خصوصی ٹیم نے پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ گزشتہ شب باچا خان چوک میں اس گودام پر چھاپہ مارا جہاں سے مردہ مرغیاں  برآمد کرلی گئیں۔ اس قسم کی کارروائیاں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں لیکن مردہ مرغی کا مذموم کاروبار روکا نہیں جا سکا جس میں فقط ایک گروپ نہیں بلکہ کئی گروہ کام کررہے ہیں اور اب تو مردہ مرغیوں (ٹھنڈی مرغی) کی فروخت معمول ہے۔ مردہ مرغی پر ایک مخصوص کیمیکل لگا کر اسے بو سے پاک اور ازسر نو تازہ کر دیا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت خیبر کے مختلف اضلاع میں اس حوالے سے خصوصی مہم شروع کرے او ر متعلقہ سکواڈ کو تمام تر اختیارات دے کر ہنگامی بنیادوں پر ایسے کاروباری حضرات کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔ ان عناصر سے نپٹنے کے لئے قانون کو سخت تر اور موثرتر بنانے کی ضرورت ہے، اس حوالے سے کوئی رعایت نہیں برتی جانی چاہیے۔

مزید :

رائے -اداریہ -