حسبنا اللہ و نعم الوکیل! 

 حسبنا اللہ و نعم الوکیل! 
 حسبنا اللہ و نعم الوکیل! 

  

 کل کے کالم میں ذاتی اور غیر ذاتی باتوں پر چار حروف قلم بند کئے تھے۔ باقی پیٹی بھائیوں کا تو مجھے پتہ نہیں لیکن میرے ساتھ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ جہاں امر بالمعروف پر بہت سا فیڈ بیک ملتا ہے وہاں نہی عن المنکر پر بھی ’یارانِ با صفا‘ کھل کر لتّے لیتے ہیں۔ کل کے کالم میں دردِ کمر کا تذکر کیا تھا اور اپنی جسمانی حالت زار کا ذکر بھی کچھ تفصیل سے کر دیا تھا۔ بس یہیں سے پکڑا گیا اور دوستانِ نیک خو نے موبائل پر طعنوں کی بوچھاڑ کر دی۔ ایک صاحب نے فرمایا، ”کرنل صاحب! بہت اچھا ہوا، آپ کے گناہوں کا بدلہ آپ کو مل گیا۔۔۔  یہ تو ہونا ہی تھا۔ جو شخص کسی کے آگے گڑھا کھودتا ہے وہ بہت جلد اس میں گر جاتا ہے۔ آپ اور آپ جیسے چند ”منحرفین“ اکثر جناب شہباز شریف پر طنز و تنقید کرنے سے باز نہیں آتے تھے۔ آپ کہا کرتے تھے کہ جب بھی آنجہانی احتساب عدالت محترم نوازشریف کے چھوٹے بھائی مکرمی شہباز شریف کو فرد جرم عائد کرنے کے لئے بلاتی تھی تو ان کی کمر کا درد ان کا عذر بن جایا کرتا تھا۔ وہ عدالت کو اپنے وکیل کی معرفت یہ پیغام دیتے تھے کہ ان کی کمر میں شدید درد ہے اور وہ اصالتاً حاضر ہونے سے قاصر ہیں۔ ان کا  وکیل جب عدالت کے سامنے اس سلسلے میں کوئی میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کرتا تھا تو عدالت بھی اسے شک کی نگاہ سے دیکھتی تھی اور آپ جیسے بدخو تو کھلم کھلا لکھا کرتے تھے کہ ان کی کمر درد والا سرٹیفکیٹ جعلی ہے، کوئی درد وَرد نہیں ہے، بس بہانے ہیں۔ اب آپ کو معلوم ہوا ہے کہ کمر کا درد کیا ہوتا ہے؟ آپ نے اپنے بارے میں تو لکھ دیا ہے کہ آپ اس درد کی وجہ سے ہل جل نہیں سکتے تھے لیکن جناب شہباز شریف کی طبّی سند کو مضحکہ خیزی پر معمول کیا کرتے تھے۔۔۔ بڑا اچھا ہوا ہے کہ خدا نے آپ کی جھوٹی اَنا کا پول کھول دیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ“

میرے دوست کی یہ کتھا خاصی طویل تھی اور مزید یہ کہ جو جملے انہوں نے زبانی بولے تھے وہ میں تحریر میں بھی نہیں لا سکتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ وہ خود ’خانہ پُری‘ فرما لیں اور جب میں نے اس مہربان کو یہ یاد دلایا کہ محترم شہبازشریف جب اسمبلی کے اجلاس میں خراماں خراماں چل کر آیا کرتے تھے (اور ہیں) تو آپ ان کی ’شہباز شریف سپیڈ‘ کو بھول گئے تھے اور یہ بھی بھول گئے تھے کہ وہ جب بطور قائد حزب اختلاف اڑھائی گھنٹے تک اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر دلائل کے انبار لگایا کرتے تھے تو اُن 150منٹوں میں ان کی کمر کا درد کیسے رفو چکر ہو جایا کرتا تھا۔ ان کو دیکھنے اور سننے والوں کو یقین نہیں آتا تھا کہ یہ وہی ذاتِ شریف ہیں جو قانون کی عدالت کے لئے تو بیمار ہو جاتے تھے لیکن عوام کی عدالت میں آکر چاق و چوبند کھڑے ہو کر اڑھائی اڑھائی گھنٹے تک ہاتھوں کے اشارے کرتے نہیں تھکتے تھے اور نہ ہی دورانِ تقریر ہر 15سیکنڈ کے بعد ایک سمت سے دوسری سمت میں مسلسل ’گردش‘ میں رہتے تھے۔۔۔  میں حلفاً لکھ رہا ہوں کہ میں اس وقت بھی ان کے دردِ کمر پر کوئی شک نہیں کیا کرتا تھا۔ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ایک انسان کسی خاص تاریخ کو بیمار ہو اور کسی اور تاریخ کو بھی بیمار رہے۔۔۔ میں نے اپنے کل کے کالم میں آخر میں یہ جملہ بھی عرض کیا تھا کہ چار پانچ روز کی دوا کھانے کے بعد میرا 75 فیصد دردِ کمر دور ہو گیا تھا۔ میں اپنے قارئین کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے اپنی غلطی کا احساس دلایا حالانکہ میں نے عمداً اپنی اس غلطی کا ارتکاب نہیں کیا تھا۔ دوسروں کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے؟

اور ہاں میں یہ بھی حلفاً عرض کرتا ہوں کہ کل کے کالم میں اپنے دردِ کمر کا ذکر محض اصل کالم کی تمہید تھا۔ میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ دفاعی امور اور جنگ و جدال کے موضوع پر پروفیسر ڈاکٹر شہزاد شمس نے مجھ سے یوکرین۔ روس کی جنگ کے سلسلے میں جو استفسار کیا تھا وہ میرے لئے واقعی حیران کن تھا۔۔۔ کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر صاحبان کی پروفیشنل عمر کا اول نصف تنگدستی میں گزرتا ہے۔ ان کے والدین نے اس پیشے میں اپنے بیٹے (یا بیٹی) پر جو سرمایہ کاری کی ہوتی ہے اس کا معاوضہ انہیں (بیٹے یا بیٹی کو) عمر کے نصف دوم میں جا کر ملتا ہے۔ اس عمر میں وہ روپیہ پیسہ بنانے والی ایک ’مشین‘ بن جاتے ہیں لیکن اس ’کاروبار‘ میں لاکھوں کی ماہانہ آمدنی کے ساتھ ان کا برسوں پر محیط تجربہ شامل ہوتا ہے۔ کوئی ڈاکٹر کسی مریض کو اس کے گھر سے نہیں بلاتا بلکہ مریض ڈاکٹر کی شہرت سن کر دور اور نزدیک سے خود ان کے پاس حاضر ہوتا ہے۔ حکیم ہوں یا ڈاکٹر صاحبان ان کی پیشہ ورانہ حکمت عمر کے نصف آخر میں جا کر نصف اول کے اخراجات و مشکلات کا اجر لوٹاتی ہے۔

یہی حال وکلاء اور اساتذہ کا ہوتا ہے۔ کوئی وکیل یا بیرسٹر اپنی پریکٹس کے اولین ایام (یا ماہ و سال) میں خالی جیب رہتا ہے، راتوں کا تیل جلا کر اپنے موکل کے کیس کا مطالعہ کرتا ہے، اس کیس کے حق یا مخالفت میں درجنوں موٹی موٹی کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے اور ان کتابوں کے حوالے یاد کرتا بلکہ ان کو رَٹّا لگاتا ہے۔ یہ اعداد و شمار کا ایسا کھیل ہے جو کسی بھی اچھے وکیل کے سکول و کالج کے زمانے میں اس کے پڑھے ہوئے علم ریاضی کا کڑا امتحان لیتا ہے۔ اسے نہ صرف پاکستان کے آئین و قوانین کو از برکرنا پڑتا ہے بلکہ دوسری متوازی جمہوریاؤں کے آئین و قوانین کے حوالے بھی یاد کرنے پڑتے ہیں۔ اس کی ذہانت اور یادداشت کا عمومی گراف 60فیصد سے اوپر کی سطح پر تیرتا ہے۔ عدالت میں اس کا مقابلہ اپنے حریف وکیل کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ گویا ایک قانونی دنگل ہے۔ اس اکھاڑے میں جو پہلوان اترتے ہیں ان کی جسمانی صحت کے علاوہ حریف کے داؤ پیچ کو بھی Pre-empt کرنا پڑتا ہے۔۔۔انگلینڈ میں گاماں پہلوان کا مقابلہ جب رستم یورپ زبسکو سے ہوا تھا تو یہ محض جسمانی صحت کا مقابلہ نہیں تھا۔(اس مقابلے کی فلم گوگل پر جا کر دیکھیں۔) زبسکو کے مقابل گاماں پنجابی محاورے کے مطابق ایک ’چُوچا‘ سا لگتا ہے لیکن دنیا نے دیکھا کہ گاماں پہلوان نے اگلے ہی لمحے اپنی جسمانی کمزوری کو بالائے طاق رکھ کر گوشت پوست کے پہاڑ زبسکو کو چاروں شانے چت گرا دیا تھا۔۔۔یہ دنگل محض جسمانی حجم کا نہیں بلکہ جسمانی اور ذہنی حجم کا دنگل تھا!

یہی حال محکمہ تعلیم کے اساتذہ کا بھی ہے بعض اساتذہ تعلیمی اور تدریسی اسناد سے لدے ہوتے ہیں لیکن ان کی یہ اسناد اس وقت کام آتی ہیں جب ان کو واقعی کسی غیر سیاسی مقابلے کا سامنا ہوتا ہے۔ پاکستان کی سول سروس کے تحریری اور زبانی امتحانات میں اساتذہ کی ایک کثیر تعداد بھی شرکت کرتی اور کامیاب ہوتی ہے، مقابلے کے اس امتحان میں ’رٹّا‘ کام نہیں دیتا، (میں آج کل کے سیاست گزیدہ پبلک سروس کمیشن کی بات نہیں کر رہا) کچھ یہی پیمانہ مسلح افواج میں کمیشن پانے والوں پر بھی لاگو ہوتا ہے بلکہ افواجِ پاکستان میں تو نیم لفٹین سے لے کر چار ستاروں والے جنرل پر بھی یہی اصول اور یہی پیمانہ لاگو ہوتا ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے:

نامی کوئی بغیر مشقت نہیں ہوا

سو بار جب عقیق کٹا تب نگیں ہوا

اور آخر میں خود ستائی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ (آپ اسے خود فریبی بھی کہہ سکتے ہیں) یہ خود ستائی سب سے بڑا دردِ کمر ہے۔ اقبالؒ نے کہا تھا:

خدائی اہتمامِ خشک و تر ہے

خداوندا خدائی دردِ سر ہے

و لیکن بندگی، استغفراللہ

یہ دردِ سر نہیں، دردِ جگر ہے

حضرت علامہ سے معذرت کے ساتھ، آخری مصرعہ اگر یوں پڑھ لیا جائے تو موضوعِ زیرِ بحث پر پورا اترے گا:

یہ دردِ سر نہیں، دردِ کمر ہے

بات دردِ کمر سے شروع ہوئی تھی اس لئے اسی پر ختم کرتے ہیں۔ خودستائی اور میڈیا کا چولی دامن کا ساتھ بن چکا ہے۔ آپ نے کسی بھی ٹاک شو میں کسی بھی تجزیہ گو کو خودستائی سے مبّرا نہیں دیکھا یا سنا ہوگا۔ پرنٹ میڈیا کا حال بھی یہی ہے، ہر کالم نگار اپنے آپ کو ’عقلِ کُل‘ سمجھتا ہے، بعض حضرات تو ڈائریکٹ وزیراعظم پر جا پڑتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر آج جس کو دیکھیں وہ وزیراعظم (موجودہ اور سابق شامل) کو براہ راست لتاڑ رہا ہوتا ہے۔ بعض دوست آرمی چیف اور چیف جسٹس صاحبان کو بھی خود سے فروتر سمجھتے ہیں، ان کو نصیحت کرتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے سرزنش تک اتر آتے ہیں، ان کا دردِ کمر کسی ماہر ترین آرتھو پیڈک ڈاکٹر کے بس میں بھی نہیں رہتا اور کوئی نیورو سرجن ان کا علاج نہیں کر سکتا۔ صرف اللہ ہی ان کا علاج کر سکتا ہے کہ وہی ان کا چارہ گر اور وہی مددگار ہے۔ آیئے سورۂ آلِ عمران کی آیت نمبر173پر اس بحث کو ختم کرتے ہیں جو اس طرح ہے: ”حسبنا اللہ و نعم الوکیل (ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے)“۔

مزید :

رائے -کالم -