ہم نے جاگیر دارانہ نظام کے خلا علم بغاوت بلند کیا ہے: ام رباب چانڈیو

ہم نے جاگیر دارانہ نظام کے خلا علم بغاوت بلند کیا ہے: ام رباب چانڈیو

  

     سکھر(رپورٹ /ایاز مغل)حصول انصاف کی منتظر ام رباب چانڈیو نے سکھر پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پانچ سال قبل دادو میں میرے والد،دادا اور چچا کو بیدردی سے قتل کیا گیا،انصاف کیلئے تاحال لڑ رہی ہوں ہمارے خاندان نے جاگیردارانہ نظام کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہے،آج تک ہمارے کیس میں شواہد پیش نہیں کئے جاسکے ہیں،ملزم ایم پی اے برہان چانڈیو چار سال سے عبوری ضمانت پر رہا ہے،آج  صبح کیس کراچی میں چلنا تھا صبح علم ہوا کہ ملزم کے وکیل نا ہونے کے باعث کیس ڈسچارج کردیا گیا ہے،آئینہ ساتھ لیکر آئی ہوں اس میں دیکھنے کیا یہ نظام انصاف فراہم کرنے کے قابل ہے،میری آخری امید چیف جسٹس آف پاکستان ہیں، 12 بجے عدالت لگنے کے بعد یقین ہے کہ ہم مظلوموں کیلئے بھی رات 12 بجے عدالت لگے گی، ام رباب چانڈیو کامزید کہنا تھا کہ پراسیکیوٹر جنرل نے ہمارے کیس میں مخالفت کرکے کیس خراب ہونے کی کوشش کی ہے اگر میں اپنا وکیل ہائر نہیں کر پاتی تو میرا کیس تو خراب کردیا گیا تھا میری چیف جسٹس سے اپیل ہے کہ نوٹس لیں مجھ سمیت ہزاروں کیسیز ایسے ہیں جن میں انصاف فراہم نہیں کیا جارہا ہے،نظام کو آئینہ دکھانے کا مقصد ہے کہ یہاں انصاف فراہم نہیں کیا جارہا ہے ملزمان پاکستان پیپلز پارٹی سے ایم پی اے منتخب ہوئے ہیں،بیگناہ ثابت ہونے تک پارٹی ان سے ڈس اون کرے،بلاول بھٹو نے میرا کیس سننے سے انکار کردیا،بعد میں شازیہ مری نے میرا کیس سننا،ایس ایس پی نے مجھے کہا دباؤ ہے کہ آپ لوگوں کے خلاف مقدمات بنا یہ نظام آئینہ دیکھ کر بتائے کہ ملک کے کس کونے میں مجھے انصاف ملے گا،میں وہاں تک جانے کو تیار ہوں ملزمان جو جاگیردار ہیں وہ کیس میں تاخیری حربہ استعمال کرکے ہمیں تھکانا چاہتے ہیں،کیس سے ہاتھ اٹھانے کیلئے مجھے ڈرایا اور دھمکایا جاتا رہا ہے،مجھے امید ہے چیف جسٹس ہمارے لئے بھی دن ہو یا رات عدالت لگائیں گے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -