ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کی فکر کرنی ہو گی: چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ

ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کی فکر کرنی ہو گی: چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ

  

      پشاور(سٹاف رپورٹر)چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس قیصر رشید خان نے کہا ہے کہ تحصیل حویلیاں میں جوڈیشل کمپلیکس کے قیام سے تحصیل حویلیاں کے عوام‘وکلاء اورججز کے مسائل میں خاطر خواہ کمی رونما ہوگی۔ ان خیا لا ت کا اظہا ر انہو ں نے پیر کے روز  149.935ملین روپے کی لاگت سے تحصیل حویلیاں میں جوڈیشل کمپلیکس کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطا ب کر تے ہو ئے کیا۔تقریب سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ایبٹ آباد اختیار خان‘ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر مہدی زمان ایڈووکیٹ اورتحصیل بار ایسوسی ایشن حویلیاں کے صدرناصر سلیم ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا۔چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس قیصر رشید خان نے کہا کہ قدرتی حسن سے مالا مال خطہ ہزارہ کے جنگلات کوبے دردی سے کاٹا جا رہا ہے۔محکمہ جنگلات کے حکام کو جنگلات کی کٹائی روکنے کے حوالے سے فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ہزارہ ڈویژن میں محکمہ معدنیات کی تمام لیزیز منسوخ کردی ہیں۔دریائے کنہار ہمارا تاریخی ورثہ ہے دریائے کنہار کو بھی نہیں بخشا گیا۔دریائے کنہار کی خوبصورتی بحال کرنے کے لئے ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔انہو ں نے کہاشاہ مقصود کے مقام پر ہزارہ موٹروے کی ناقص تعمیر کے حوالے سے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام کو نوٹس جاری کردیا ہے۔تحصیل حویلیاں میں جوڈیشل کمپلیکس کے قیام سے تحصیل حویلیاں کے عوام‘وکلاء اورججز کی مسائل میں خاطر خواہ کمی رونما ہوگی۔انہو ں نے کہا کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ کی وفات بڑا سانحہ تھا۔ان کی وفات کے بعد چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کا چارج سنبھالتے ہی ضم اضلاع میں بھی جوڈیشل کمپلیکس قائم کرنے کے علاوہ صوبہ میں جوڈیشل کمپلیکسز بنائے گئے ہیں۔ انھوں نے  کہا کہ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کی فکرکرنی ہوگی‘۔جسٹس قیصر رشید خان نے کہا کہ ہزارہ ڈویژن قدرتی حسن سے مالا مال خطہ ہے۔اس خطے میں جنگلات کو بے دردی  سے کاٹا جارہا ہے۔جنگلات کی کٹائی روکنے کیلئے محکمہ جنگلات کو مؤثر اقدامات اٹھانے کی ہدایات جاری کی گئیں ہیں۔محکمہ معدنیات کی تمام لیزیز بھی منسوخ کردی ہیں۔واضح رہے کہ حویلیاں جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر25اپریل2017کو شروع کی گئی تھی۔

مزید :

صفحہ اول -