مظفر گڑھ:تیس سے زائد افراد کا وکلاء پر حملہ،وحشیانہ تشدد

مظفر گڑھ:تیس سے زائد افراد کا وکلاء پر حملہ،وحشیانہ تشدد

  

مظفرگڑھ(بیورورپورٹ،تحصیل رپورٹر) ضلع کچہری مظفرگڑھ میں تیس چالیس افراد کا مخالف فریق کے تین وکلاء  پر عدالت گیٹ پر دھاوا، وکلاء   پر تشدد تین وکلاء  زخمی، چار حملہ آور وکلاء  نے پکڑ لیے، بار روم میں لے جا کر بند کر دیا۔  تفصیل کے مطابق پیر کی صبح ضلع کچہری مظفرگڑھ میں ایوان عدل گیٹ پر نواحی علاقے موضع سلطان کھر کے رہائشی تیس چالیس افراد (بقیہ نمبر4صفحہ6پر)

نے اسلم کھنڈویا، محمد اکرم، فیاض حسین، طارق، سجاد، رووف، مصطفیٰ، بلال، اشرف وغیرہ کی قیادت میں منصوبہ بندی کے تحت مخالف فریق کے وکلاء   محمد عمران ایڈووکیٹ،نعیم لشاری ایڈووکیٹ اور رائے اعزاز احمد ایڈووکیٹ پر قاتلانہ حملہ کر دیا، ان پر تشدد کیا، انہیں کچہری سے اغوا کرنے کی کوشش کی۔ جس سے وہ زخمی ہو گئے، اس دوران دیگر وکلاء  جمع ہو گئے، جنہوں نے ملزمان کو گھیرے میں لے لیا تاہم چار حملہ آور وکلاء  نے پکڑ کر بار روم میں بند کر دیا، جبکہ دیگر ملزمان رش کے باعث فرار ہو گئے۔ واقعہ پر وکلاء  سراپا احتجاج بن گئے، ضلع کچہری مظفرگڑھ میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ جبکہ وکلاء  نے موقع سے پکڑے گئے ملزمان کو سٹی پولیس مظفرگڑھ کے حوالے کر دیا، اور دس نامزد اور تیس نامعلوم افراد کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دے دی ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری ضلع کچہری پہنچ گئی، واقعہ پر وکلاء  نے ہڑتال کر دی، جبکہ صدر بار مظفرگڑھ ملک جینید فاروق وجدانی ایڈووکیٹ، جنرل سیکرٹری بار میاں معین الدین جوئیہ ایڈووکیٹ، عہدیداران ضلع کچہری مظفرگڑھ میں تشدد کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع کچہری کے سیکورٹی انتظامات انتہائی تشویشناک ہیں، کئی مرتبہ اس بارے ڈسٹرکٹ سیشن جج مظفرگڑھ اور ضلعی انتظامیہ کو نوٹس دیا گیا مگر کوئی مناسب اور فول پروف سکیورٹی انتظامات نہیں کیے گئے جو قابل قبول نہیں۔ انہوں نے حملہ آور تمام ملزمان کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔۔۔۔۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -