میں ہر ایک کو دیکھتا اور سب کچھ سیکھنے کی کوشش کر رہا تھا, بھائی فلاحی شوز اور شاپنگ سنٹرز میں پرفارمنس دیتے تو میں اُس میں مکمل کھو جاتا

میں ہر ایک کو دیکھتا اور سب کچھ سیکھنے کی کوشش کر رہا تھا, بھائی فلاحی شوز اور ...
میں ہر ایک کو دیکھتا اور سب کچھ سیکھنے کی کوشش کر رہا تھا, بھائی فلاحی شوز اور شاپنگ سنٹرز میں پرفارمنس دیتے تو میں اُس میں مکمل کھو جاتا

  

مترجم:علی عباس

قسط: 8

اُس وقت تک میں اپنے بڑے بھائیوں کی سرگرمیوں کو دیکھ رہا تھا، جن میں مارلن بھی شامل تھا جو ڈرم بجاتا تھا۔ باپ نے آرگن اور ٹریپ ڈرم بجانے کے لئے 2 بچوں جانی جیکسن اور رینڈی رینسیفر کو گروپ میں شامل کیا تھا۔ بعد ازاں موٹون نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ہمارے عزیز ہیں، لیکن یہ تشہیر کی دنیا سے وابستہ لوگوں کی ایک کاوش تھی جو یہ چاہتے تھے کہ ہم ایک بڑے خاندان کے طور پر دکھائی دیں۔ ہم ایک حقیقی بینڈ کا روپ دھار چکے تھے۔ میں ہر ایک کو دیکھتا تھا اور سب کچھ سیکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ جب میرے بھائی ریہرسل کر رہے ہوتے، فلاحی شوز اور شاپنگ سنٹرز میں پرفارمنس دیتے تو میں اُس میں مکمل طور پر کھو جاتا۔ میں جرمین کو دیکھ کر سب سے زیادہ حیرت زدہ ہوتا کیونکہ وہ اُس وقت بینڈ کا مرکزی گلوکار تھا اور میرے سے بڑا تھا۔۔۔ مارلن اور میری عمر کا فرق زیادہ نہیں ہے۔ یہ جرمین ہی تھا جو مجھے سکول لیکر جاتا اور جس کے کپڑے میں پہن لیتا تھا۔ میں اُس کے ہر عمل کو ہوبہو نقل کرنے کی کوشش کیا کرتا اور جب میں اس میں کامیاب ہو جاتا، میرا باپ اور بھائی مسکرا دیتے لیکن جب میںگیت گا رہا ہوتا، وہ اسے سنتے۔میں اُس وقت بچگانہ آواز میں گائیکی کیا کرتا تھا اور یہ محض آوازوں کو نقل کرنے کی کوشش ہوتی۔ میں اُس وقت بہت چھوٹا تھا اور بہت سارے الفاظ کے معنی سے آشنائی نہیں رکھتا تھا لیکن میں جتنی زیادہ گائیکی کیا کرتا، اُس کے باعث میں بہتر ہوتا رہا۔

میں ہمیشہ سے یہ جانتا تھا کہ کیسے رقص کرتے ہیں۔میں مارلن کی حرکات کو دیکھتا تھا کیونکہ جرمین نے بڑا گٹار اُٹھایا ہوتا تھا لیکن اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں مارلن کے زیادہ قریب تھا کیونکہ وہ عمر میں مجھ سے محض ایک برس بڑا تھا۔ جلد ہی میں نے گھر میں رہتے ہوئے باقاعدہ گلوکاری شروع کردی اور بھائیوں کے ہمراہ عوام کے سامنے پرفارمنس دینے کےلئے خود کو تیار کرنے لگا۔ گروپ کے ارکان کی حیثیت سے ریہرسلوں کے باعث ہم سب لوگ اپنی صلاحیتوں اور خامیوں سے آگاہ ہو گئے تھے اور ذمہ داریوں میں تبدیلی ایک فطری عمل تھا۔

گیری میں واقع ہمارا آشیانہ چھوٹا تھا، اُس میں محض تین کمرے تھے لیکن اُس وقت وہ مجھے خاصا بڑا لگتا تھا۔ جب آپ چھوٹے ہوتے ہیں تو آپ کو پوری دنیا بہت وسیع محسوس ہوتی ہے اور ایک چھوٹا سا کمرہ 4 گنا بڑا دکھائی دیتا ہے۔ جب ہم برسوں بعد گیری گئے، ہم سب حیرت زدہ رہ گئے کہ وہ گھر کتنا چھوٹا تھا۔ وہ میری یادوں میں وسیع و عریض گھر کی حیثیت سے محفوظ تھا۔ لیکن آپ مرکزی دروازے سے محض 5 قدم اندرکی جانب اُٹھائیں اور آپ گھر کے عقبی دروازے سے باہر نکل جائیں گے۔ یہ گھر ایک گیراج سے بڑا نہیں تھا لیکن جب ہم یہاں رہائش پذیر تھے تو یہ ہمیں بہتر محسوس ہوتا تھا۔ جب آپ بچے ہوتے ہیں تو آپ چیزوں کو یکسر مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔

گیری میں سکول کے دنوں کی یادیں مبہم اور دُھندلی ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب مجھے پہلے روز سکول چھوڑا گیا، میں بتا سکتا ہوں کہ میں نے بُرا محسوس کیا تھا۔میں نہیں چاہتا تھا کہ میری ماں مجھے چھوڑ کر جائے اور فطری طور پر میں وہاں رہنا نہیں چاہتا تھا۔

دوسرے بچوں کی طرح وقت گزرنے کےساتھ ساتھ میری اس ماحول سے شناسائی ہوگئی اور اپنے اساتذہ اور خاص طور پر خواتین کےلئے نہاں خانہ دل میں محبت محسوس کرنے لگا۔ اُن کا رویہ میرے ساتھ بہت اچھا ہوتا اور وہ مجھ سے پیار کرتیں۔تمام خواتین اساتذہ حیرت انگیز تھیں۔ جب مجھے ایک کلاس سے اگلی میں ترقی ملتی، وہ آنسو بہانے لگتیں اور مجھ سے بغل گیر ہو کر کہتیں کہ اُنہیں میرا اُن کی جماعت چھوڑنا کتنا نفرت انگیز لگ رہا ہے۔ میں اپنی اُستانیوں کے بارے میں بہت زیادہ جوش محسوس کیا کرتا تھا اور اکثر اپنی والدہ کے زیورات چُرا کر انہیں تحفتاً پیش کر دیتاتھا۔ وہ بہت زیادہ خوش ہوتیں۔ بالآخر میری ماں کو اس بارے میں پتہ چل گیا اور یوں اُن کی چیزوں پر ہاتھ صاف کرنے کا سلسلہ موقوف ہوا۔ اُنہیں تحائف دینے کے جنون کے عوض مجھے یہ ادراک ہوا کہ میں اُن سے اور سکول سے کس قدر لگاﺅ محسوس کرتا ہوں۔

 جب میں جماعت اول کا طالب علم تھاتو ایک روزمیں نے ایک تقریب میں شرکت کی جس میں مجھے سارے سکول کے سامنے پرفارم کرنا تھا۔ ہر جماعت کے تمام طالب علموں کو کچھ نہ کچھ پیش کرنا تھا۔ چنانچہ میں سکول سے گھر واپس لوٹا تو اس بارے میں اپنے والدین کو بتایا۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ میں سیاہ رنگ کی پتلون اور سفید شرٹ پہنوں اور دی ساﺅنڈ آف میوزک کا گیت "Climb Every Mountain"گاﺅں۔ جب میں نے یہ گیت ختم کیا تو آڈیٹوریم میں موجود لوگوں کا ردِعمل حیران کُن تھا۔ ہر کوئی تالی بجا رہا تھا اور لوگ مسکرا رہے تھے۔ اُن میں سے کچھ کھڑے ہو گئے تھے۔ اساتذہ کی آنکھیں پُر نم تھیں اور میں خوابوں کی دنیا میں معلق تھا۔ میں نے اُن سب کو خوش کیا تھا۔ یہ ایک برتر احساس تھا۔ میں پریشان تھا کیونکہ میرے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ میں کچھ خاص کر سکتا ہوں۔ میں نے اُسی طرح گیت گایا تھا جس طرح ہر رات گھر میں گاتا تھا۔ جب آپ پرفارم کر رہے ہوتے ہیں تو آپ اس اَمر سے آگاہ نہیں ہوتے کہ آپ کی آواز کیسی ہے یا آپ کیسے دکھائی دیتے ہیں۔ آپ صرف منہ کھولتے ہیں اور گانے لگتے ہیں۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -