تیز نیلے آسمان پر نظر نہیں ٹھہرتی تھی،دریا کی مدھم غرا ہٹ بھی ہوا کے ساتھ کا نوں میں آتی تھی

تیز نیلے آسمان پر نظر نہیں ٹھہرتی تھی،دریا کی مدھم غرا ہٹ بھی ہوا کے ساتھ کا ...
تیز نیلے آسمان پر نظر نہیں ٹھہرتی تھی،دریا کی مدھم غرا ہٹ بھی ہوا کے ساتھ کا نوں میں آتی تھی

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط:121

جب سے سیل فون میں کیمرا آیا ہے کم بخت کو ئی لمحہ ایسا نہیں جو یادوں اور خوابوں کے لیے باقی رہ جائے۔ ہر پل، ہر جگہ اور ہر مو قع کی اتنی تصویریں بنائی جاتی ہیں اور اسی لمحے بغیر چھانٹے فیس بک اور واٹس ایپ پر اس ذمہ داری سے چڑھا ئی جاتی ہیں کہ بس۔ اور یہ بد تمیزی اس کثرت سے کی جاتی ہے کہ چند گھنٹوں بعد نہ صرف آپ خود بلکہ ساری دنیاآپ سے اور اس لمحے سے بے زاری محسوس کرنے لگتی ہے۔ کسی تصویر کی، کسی یاد کی اس سے زیادہ بے توقیری نہیں ہو سکتی کہ اسے دوسرے دن کو ڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا جائے۔ اس سے بھی زیادہ اذیت ناک سیلفی کی لت ہے۔ خود پسندی یقیناً ہر آدمی میں ہوتی ہے لیکن فون کے کیمرے نے تو اسے ایک عذاب بنا دیا ہے۔ نئی نسل نا نگا پربت سے لے کر شاپنگ مال تک کہیں بھی ہو، سیلفیا ں بہت ذمہ داری سے بنا تی ہے اور اس طرح بناتی ہے کہ اپنے مو نھ کے علاوہ جگہ یا منظر کی بھنک بھی دیکھنے والوں کو نہیں پڑنے دیتی۔ایک بڑا سا مونھ جو پورے منظر پر محیط ہو تا ہے اور بس۔یا پھر ہاتھ اونچا کر کے سیلفی اس طرح بنائی جاتی ہے کہ بڑے سے چہرے کے نیچے مختصر سا جسم دکھائی دے رہا ہوتا ہے جو انسانی کم کارٹون فگر زیادہ لگتا ہے۔وہ آنکھ جو منظر یا چہرے کی خوب صورتی کا زاویہ تلاش کر سکتی ہے کیمرا پکڑنے والے ہرآدمی کو میسر نہیں ہو تی۔ نرگسیت کی قوس قزح پر سوار نئی نسل یہ بات نہیں جانتی کہ ہر لڑکی کے ہو نٹ poutکر نے کے لیے نہیں ہوتے اور ہر نوجوان کا چہرہ بائیں جانب مو ڑ نے اور ابرو چڑھانے کے لیے نہیں ہوتا۔ رہی سہی کسر تصویر کی ایڈیٹنگ سے پوری کی جاتی ہے۔ تصویر کا مونھ اس طرح رگڑ کر ہم وار اور گورا کیا جاتا ہے کہ وہ ایک زندہ انسان سے زیادہ زندگی سے عاری پلاسٹک کا بت لگنے لگتا ہے۔ ان تصویروں سے زیادہ زندگی تو میڈم تسا ﺅ کے مو می مجسموں کے چہروں پر ہوتی ہے۔ 

میں ڈارئی ور سے ما یوس ہو کر لو ٹ آیا، چیمہ، احمد، عثمان اور عرفان کھا نا کھا رہے تھے۔ میں نے باہر تھڑے پر چادر بچھائی اور چت لیٹ کر سستانے لگا۔ تیز نیلے آسمان پر نظر نہیں ٹھہرتی تھی۔ سفید بادلوں کی کشتیاں اس لا متناہی سمندر میں اپنے باد بان کھولے دھیرے دھیرے بہتی تھیں۔ دریا کی مدھم غرا ہٹ بھی ہوا کے ساتھ کا نوں میں آتی تھی۔ سورج کی گرمائش سے تھڑے کی زمین کو سی تھی اس لیے مجھے کمر پر ٹکور کا احساس ہو کر راحت مل رہی تھی اور اونگھ آنے لگی تھی۔ گرمی ہو یا جاڑا مجھے دوپہر کو سونے کی عادت ہے اس لیے شاید کچھ دیر کے لیے میری آنکھ لگ گئی۔ 

”مہا تما جی اٹھیے۔“ میں بلال کی آواز سے جا گا توہر طرف خا موشی تھی۔ باقی ساتھی شاید ادھر اُدھر گھو منے نکل گئے تھے۔ 

”یہ مجھے مہاتما کس خوشی میں بنایا گیا ہے؟“ میں نے ادھ کھلی آنکھوں سے پو چھا۔

”سنا ہے گاندھی جی بھی آپ کی طرح تیسرے پہر باقاعدگی سے قیلولہ کرتے تھے۔“

میں کچھ دیر اور غنودگی کا مزہ لینا چاہتا تھا لیکن ابھی کل کے لیے ڈرائی ور کا مسئلہ وہیں کا وہیں تھا اس لیے اٹھ کر پھر گاندھی جی کے نقش ِ قدم پر ” پَد یاترا“ (پیدل مارچ) شروع کی اور گاؤں کی طرف چل دیا۔

Out Beyond.... ! 

ڈارئی ور کے گھر سے پتا چلا کہ وہ ابھی تک نہیں آیا تھا۔ میں مایوس ہو کر جماعت خانے کی طرف چلا لیکن اس کے دروازے پر 2 نوجوان کھڑے تھے انہوں نے مجھے اندر دا خل ہو نے سے روک دیا۔انہوں نے جس لہجے میں مجھے روکا وہ سخت اور کھردرا تھا۔ سِریّت اور اِخفاءسے مذاہب اور عقائد میں کشش تو پیدا ہوجاتی ہے لیکن دوسرے لو گوں سے فا صلہ بھی بڑھ جاتا ہے، سچائی کی جگہ افواہیں لے لیتی ہیں۔ مذہب کے پیروکار افواہوں کا انکار اور اور مخالف ان پر اصرار کرتے ہیں جس سے بحث شروع ہوجاتی ہے اور بحث سے نفرت جنم لیتی ہے۔۔۔ اور پھر حشیشئین جیسی کہا نیاں جنم لیتی ہیں۔مسافر تو درویش کی طرح ہر دروازے پر دستک دے لیتا ہے اور لوگ دروازے ہی نہیں کھلے بازوؤں اور کھلے دل سے اسے گلے لگا لیتے ہیں۔ یہ پہلا دروازہ تھا جو اس پر بند ہوا۔ ہنزائی کتنے سادہ، محبتی اور پیارے لوگ ہیں لیکن مذہب انہیں بھی دیگر مذاہب کے نام لیواؤں کی طرح سرد مہر، کٹھور بنا دیتا ہے۔ مسافر کا کسی مذہب سے جھگڑا نہیں وہ تو دنیا کے ہر اس فلسفے کا احترام کرتا ہے جو احترام ِ آدمیت کا سبق دیتا ہے اور انسان کو انسان کے لیے مفید اور مشفق بناتا ہے اس لیے میں نے ان سے اصرار نہیں کیا اور اس سے ہوتا بھی کیا! مذہبی لوگوں سے بحث نہیں کرنی چاہیے، وہ اکثر سخت مزاج اوربر خود صحیح ہوتے ہیں ا ور تکرار کا نتیجہ آپ کے حق میں مہلک بھی ہوسکتا ہے اس لیے بچ کر گو شۂ عافیت کی طرف نکل جا نا چاہیے۔ عارف ِ رومی کے گوشۂ عافیت کی طرف:

از کفر و ز اسلام برون صحرائیست 

مارا بہ میانِ آن فضا سودائیست 

عارف چو بدان رسید سر را بنھد

نہ کفر و نہ اسلام و نہ آنجا جائیست

 (کفر اور اسلام سے پرے ایک صحراءہے ، ہم اس کی آزاد فضاءکے دیوانے ہیں۔ عارف جب وہاں پہنچے تو سر جھکا دے، اس مقام پر کفر ہے نہ اسلام اورنہ کچھ اور ہے۔ )

Out beyond ideas of wrongdoing and rightdoing there is a field.

I will meet you there. 

تاریخی پس منظر سے قطعِ نظر زاہد ِ خشک کے مقا بلے میں پیر ِ مغاںمرد ِ خلیق تھا اور مسجد کی نسبت خانقاہ کے ما حول میں کشادگی اور برداشت تھی۔ اسی بناء پر پیر ِ مغان کے آس پاس مُلّاکی نسبت زیادہ ہجوم رہتا تھا لیکن وقت کی دست بُرد سے کون بچ پایا ہے! سو نوبت بہ ایں جا رسید کہ تصوف ایک علا حدہ ”مذہب“ بن گیا اور پیر ِ مغاں ایک اور طرح کا”مُلّا“۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -