بحران کا مستقل حل

  بحران کا مستقل حل
  بحران کا مستقل حل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ملک میں سیاسی صورت حال انتہائی غیریقینی اور گنجلک بن چکی ہے۔ کوئی شخص پورے وثوق سے مستقبل کی پیشنگوئی کرنے سے قاصر ہے، ہر باشعور آدمی اس بات پر پریشان ہے کہ اس صورتحال کا حل کیا ہے، یہ صورتحال پہلی دفعہ پیدا  نہیں ہوئی بلکہ ہر پانچ سات سال بعد ہم ایک بحران سے دوچار ہوتے ہیں پھر کسی نہ کسی طرح وہ صورتحال تبدیل ہو جاتی ہے لیکن کچھ نئے عوامل کے ساتھ کچھ سالوں بعد پھر ایک بحران پیدا ہو جاتا ہے اُس کا بھی عام طور پر کوئی وقتی حل نکل آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان بحرانوں کا مستقل حل کیا ہے؟ یہ سوال ہر باشعور آدمی کو درپیش ہے آیئے اِس پر غور کرتے ہیں۔
پاکستان کے بانیوں نے ملک کے لئے جمہوری پارلیمانی نظام تجویز کیا اور اس پر عمل شروع کر دیا۔ پاکستان کی تشکیل بھی ووٹ کے ذریعے ہوئی تھی لہٰذا جمہوریت کے سوا کوئی اور نظام ہو نہیں سکتا تھا لیکن افسوس کہ اِسے چلے نہیں دیا گیا بار بار مداخلت کی گئی جس سے سیاسی روایات پختہ نہ ہو سکیں سیاستدانوں کی تربیت نہ ہو سکی اور یوں قوم اس کے فوائد نہ سمیٹ سکی حتیٰ کہ اس نظام کی افادیت کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہو گئے۔ لوگ یہی سمجھنے لگے کہ اس نظام کے تحت سامنے آنے والی قیادت میں وہ اہلیت نہیں کہ یہ ملک سنبھال سکیں۔ نیا ملک بنا تو خصوصاً پنجاب میں حب الوطنی کا جذبہ کچھ ضرورت سے زیادہ تھا لہٰذا سوچ پر پہرے لگے رہے دوسرے صوبوں کے لیڈروں کو ہم غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتے رہے حتیٰ کہ ہر وزیراعظم کو کرپٹ اور بھارتی ایجنٹ قرار دیکر دو تین سال بعد نکال باہر کرتے رہے لہٰذا اس میں یہی ”کامیابی“ ہوئی کہ آج تک ہم نے کسی وزیراعظم کو مدت پوری نہیں کرنے دی۔البتہ فوجی حکمرانوں کا دور عموماً 10 سال رہا۔


ہر معاشرے کی کچھ خصوصیات ہوتی ہیں ہمارا معاشرہ نیم خواندہ ہے لہٰذا ضروری نہیں کہ وہ درست ہوں مثلاًمیرے خیال میں ہمارے ہاں لیڈر شپ کی خصوصیات یہ ہیں کہ لیڈر کا قد لمبا ہونا چاہئے رنگ گورا ہونا چاہئے آواز کڑک دار ہو (مولوی اور سیاسی لیڈر کے لئے آواز کی کوالٹی بہت اہمیت رکھتی ہے) انگریزی بول سکتا ہو اور بڑھکیں لگا سکے تاکہ بہادر ہونے کا تاثر پیدا ہو۔ لہٰذا اگر کسی میں یہ خصوصیات ہوں تو وہ قوم کا پسندیدہ لیڈر بن سکتا ہے۔ کسی تجربے، دانش یا کسی قابل عمل منشور کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ ہمارے ہاں اوپر بیان کئے گئے حالات کی وجہ سے لوگ اتنے مایوس ہیں کہ وہ سوچتے ہیں کہ ہمارے مسئلے کا کوئی روایتی حل نہیں بلکہ ہمیں خونی انقلاب کی ضرورت ہے جس میں پانچ دس ہزار آدمی قتل کر دیئے جائیں اور لُوٹا ہوا پیسہ غیرممالک سے واپس لایا جائے۔ پچھلی حکومت نے پوری مدت لُوٹی ہوئی دولت واپس لانے اور کرپشن کے خاتمے کے وعدے پر گزار دی۔ کتنی دولت واپس آئی اور کرپشن کتنی کم ہوئی اس پر کسی تبصرے کی ضرورت نہیں۔اُن کے ذہن میں ماضی قریب میں ایران کا انقلاب آتا ہے۔ انقلاب کیلئے ضروری حالات اور پھر اس کے نتائج کے بارے میں کوئی زیادہ غور نہیں کرتا۔ دنیا میں دنیا میں جتنے انقلاب آئے ہیں جیسے ایران یا فرانس وغیرہ وہاں بادشاہتیں تھیں اور انتہائی جبر تھا۔ انقلاب اُس کا ردعمل تھا ہمارے ہاں ایسی صورتحال نہیں یہاں مکمل جمہوریت نہ سہی کم از کم ایک Hybrid نظام چل رہا ہے جس میں لوگ بہرحال آزادی سے کافی فوائد اُٹھا رہے ہیں۔ آٰئیڈیل نہ سہی انتخابات بھی ہوتے رہتے ہیں اور سیاستدان تو جتنے بُرے ہوں انتخابات سے زیادہ دیر نہیں بھاگ سکتے۔ پھر لوگوں کا دھیان خلافت راشدہ کی طرف چلا جاتا ہے وہ خلفائے راشدین کا حوالہ دینے لگتے ہیں اور موجودہ سیاستدانوں سے وہی توقعات باندھ لیتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ ہم بحیثیت مجموعی اسلام سے کتنا دور ہو چکے ہیں؟پاکستان میں اخلاقی بحران جس حد تک پہنچ چکا ہے اس کے بعد کسی آئیڈیل شخصیت کی تلاش بے معنی ہے۔ ہم اس تلاش میں جرنیلوں اور غیرملکوں میں مقیم پاکستانیوں کو بھی آزما چکے ہیں نتیجہ کچھ نہ نکلا اُن کا ورثہ اکثر صورتوں میں افسوسناک ہے پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسئلے کا حل کیا ہے؟


بانیان پاکستان نے ہمارے لئے جمہوری نظام بہتر سمجھا ویسے بھی دنیا میں زیادہ تر جمہوریت ہی رائج ہے اگرچہ اس میں بہت سی خرابیاں ہیں اور یہ نظام بڑا صبر آزما ہے لیکن دنیا میں ابھی تک اس سے بہتر نظام سامنے نہیں آیاہاں مقامی ضروریات کے تحت اس میں مناسب تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں پھر یہی نظام جب بہت سارے ملکوں میں کامیابی سے کام کر رہا ہے تو ہمارے ہاں کیوں نہیں؟ اس کی سب سے بڑی وجہ غیرجمہوری مداخلت ہے،دوسری وجہ ہماری طبعی بے صبری ہے اور تیسری وجہ ہمارا قومی اخلاقی بحران ہے لہٰذا ہمیں اِدھر اُدھر دیکھنے کی بجائے اسی نظام پر ایمان مضبوط کرنا چاہئے اور اس کی حفاظت اور تسلسل کیلئے مضبوط ارادے کا عملی اظہار کرنا چاہئے ہر محب وطن شہری کو اپنا وزن اس پلڑے میں ڈالنا چاہئے کہ وقت پر پانچ سال بعد انتخابات کا انعقاد ہو کوئی ان میں دھاندلی نہ کر سکے اور وزیراعظم اپنی مدت پوری کرے۔
یقین رکھیں کہ ملک چلانے کا یہی ایک راستہ ہے لیکن اس کے لئے یقین حوصلے اور صبر کی ضرورت ہے۔ سیاست کا گند بھی اسی طریقے سے صاف ہو گا۔ اگر ملک میں تین چار انتخابات وقت پر فیئر طریقے سے ہو جائیں اور وزرائے اعظم بھی وقت پورا کریں توعوام کا اعتماد حکومت اور ملک پر مضبوط ہو جائے گا اور پریشانی اور بے یقینی کا خاتمہ ہو گااور پالیسیوں میں تسلسل کی وجہ سے اقتصادی صورتحال بھی بہتر ہو جائے گی۔

مزید :

رائے -کالم -