نواز شریف کے تیسرے دورِ حکومت کا آغاز

نواز شریف کے تیسرے دورِ حکومت کا آغاز

  

مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف آج تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھال رہے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کی وہ واحد منفرد شخصیت ہیں جنہیں یہ اعزاز حاصل ہو رہا ہے۔ اُن کی جماعت کو ایک اعزاز اس سے پہلے بھی 1997ءمیں مِل چُکا ہے، جب اُسے قومی اسمبلی میں دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت حاصل ہوئی تھی۔ یہ بھی ایک ریکارڈ تھا۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد کسی جماعت کو بھی الیکشن میں اتنا بھاری مینڈیٹ نہیں ملا، لیکن 1999ءکے اختتام تک فوج نے ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ انہیں گرفتار کر لیاگیا۔ اُن پر اس طیارے کو اغواءکرنے کا مقدمہ چلا، جس میں جنرل پرویز مشرف سری لنکا سے پاکستان آرہے تھے۔ اُنہیں عمر قید کی سزا ہوئی، لیکن تھوڑے عرصے بعد انہیں خاندان سمیت جلا وطن کر دیا گیا۔ اتنے بھاری مینڈیٹ کے بعد اس انداز میں اُن کے عہدِ حکومت کا خاتمہ بھی اپنی مثال آپ تھا۔ جلاوطنی کے دوران اُنہوں نے دو مرتبہ وطن کی سرزمین پر قدم رکھنے کی کوشش کی، لیکن اُنہیں ایئر پورٹ سے ہی واپس کر دیا گیا۔1997ءکے بعد جو دو الیکشن جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں ہوئے، اُن میں کسی جماعت کو بھی سادہ اکثریت نہ مل سکی۔ 2002ءمیں مسلم لیگ (ق) نے پیپلز پارٹی کے ایک دھڑے پیٹریاٹ اور دوسرے چھوٹے گروپوں کے ساتھ مل کر بمشکل اکثریت حاصل کی، جبکہ 2008ءمیں پیپلز پارٹی کو بھی سادہ اکثریت نہ مل سکی اور اس نے دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر پانچ سال تک حکومت کی۔

آج ایک نگران سویلین حکومت سبکدوش ہو رہی ہے تو دوسری سول حکومت اس کی جگہ لے رہی ہے۔ اس لحاظ سے یہ تاریخی لمحہ ہے، عام طور پر پاکستان میں سیاسی تبدیلیاں اچانک یا دھماکے کے ساتھ ہوتی رہی ہیں۔ اس انداز میں پُرامن انتقالِ اقتدار بھی اپنی جگہ یادگار ہے۔ آج جب میاں نواز شریف تیسری مرتبہ وزیراعظم بن رہے ہیں تو انہیں اپنے اقتدار کے پہلے دو ادوار پر بھی ایک نظرِ واپسیں ڈال کر جائزہ لینا ہوگا کہ اُنہوں نے کہاں کہاں کامیابیاں حاصل کیں اور کہاں کہاں ناکامیاں اُن کا مقدر ٹھہریں۔ پہلے دور اقتدارمیں اُن کی جماعت سیاسی جماعتوں کے اتحاد آئی جے آئی کا حصہ تھی۔ ظاہر ہے وہ ساتھی جماعتوں کے نقطہءنظر کو بھی اکاموڈیٹ کرنے پر مجبور تھے اور کُلی طور پر اپنی جماعت کے منشور پر انحصار نہیں کر سکتے تھے۔ پھر جلد ہی اُن کے صدر غلام اسحاق خان کے ساتھ اختلافات پیدا ہوگئے، جو اس وقت اپنی انتہا کو پہنچ گئے جب اُنہوں نے صدر کے خلاف سرکاری ٹیلی ویژن پر آکر تقریر کر دی اور زور اس بات پر دیا کہ وہ ڈکٹیشن نہیں لیں گے، لیکن اگلے ہی روز صدر اسحاق خان نے آئین کے آرٹیکل(2)58 بی کے تحت اُن کی حکومت ختم کر دی۔ صدر کے اس اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیاگیا، جس نے قومی اسمبلی اور حکومت بحال کر دی، لیکن صدر، مخالف جماعتوں کے ساتھ مِل کر اپنی چالیں چلتے رہے۔ یہاں تک کہ آرمی چیف جنرل عبدالوحید کی مداخلت سے وزیراعظم اور صدر اکٹھے ایوان اقتدار سے رخصت ہوگئے۔

نواز شریف کا دوسرا دورِ حکومت1997ءکے انتخابات کے نتیجے میں شروع ہُوا لیکن وہ مثالی بھاری مینڈیٹ کے باوجود اپنی مدت پوری نہ کر سکے۔ اُنہوں نے 12 اکتوبر 1999ءکو آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو برطرف کر دیا اور نیا آرمی چیف مقرر کر دیا، جس کے جواب میں فوجی ردِ عمل سامنے آیا اور نواز شریف کی حکومت اُن کی قید و بند کے سفر کے آغاز کے ساتھ ختم ہوگئی۔ جن حالات میں اُن کی دوسری حکومت ختم ہوئی تھی، جس طرح اُن کی جماعت کے ساتھی جنرل پرویز مشرف کے کیمپ میں چلے گئے اور جس طرح مسلم لیگ (ق) فوجی چھتری تلے قائم ہوئی تھی اور اُنہیں جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا تھا، کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا کہ وہ دوبارہ بھی سیاست میں اس طرح اُبھریں گے۔ 2008ءکے الیکشن سے پہلے وہ ان حالات میں واپس آئے تھے کہ کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا آخری دن تھا۔ بہرحال اُن کی جماعت نے الیکشن لڑا اور قومی اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت اور پنجاب میں سب سے بڑی جماعت بن کر اُبھری، پنجاب میں مسلم لیگ (ن) نے شہباز شریف کی قیادت میں پانچ سال حکومت کی اور اگر یہ کہا جائے مسلم لیگ (ن) تازہ کی کامیابی میں حکومت کی اس پانچ سالہ کارکردگی کو بھی عمل دخل حاصل ہے تو بے جا نہ ہوگا۔

آج جب میاں نواز شریف تیسری مرتبہ وزیراعظم بن رہے ہیں تو حالات اس وقت سے کافی مختلف ہیں جب وہ دوسری مرتبہ وزیراعظم بنے تھے۔ اس وقت کوئی نائن الیون نہیں ہوا تھا۔ دہشت گردی جو ا ب عام ہے اس کا یہ انداز بالکل نہیں تھا، خود کش حملہ آوروں کا کوئی وجود نہیں تھا، ڈرون حملے نہیں تھے۔ لوڈشیڈنگ نہیں تھی، بجلی نہ صرف دستیاب تھی، بلکہ موجودہ حالات کی نسبت کافی سستی بھی تھی، صنعتوں کا پہیہ چل رہا تھا، آج ہمیں جن حالات کا سامنا ہے یہ نائن الیون کے بعد پیدا ہوئے۔ اس وقت امریکہ ہمارا ”ہمسایہ“ ہے اور ہماری سرحد کے ساتھ افغانستان میں بیٹھا ہوا ہے اگرچہ ایک عشرے سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے، لیکن افغانستان کے حالات امریکہ کی مرضی کے مطابق نہیں ڈھل سکے، اُس نے دہشت گردی کے خلاف دنیا بھر میں جو جنگ شروع کی، اس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا، پاکستان کے بہادر فوجیوں نے اس جنگ میں جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ 40 ہزار کے لگ بھگ سویلین افراد نے بھی جانیں دیں۔ معیشت کا نقصان ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک سو ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ ان حالات میں میاںنواز شریف جب وزیراعظم بن رہے ہیں تو عوام نے ان سے توقعات بھی بہت زیادہ وابستہ کر رکھی ہیں۔ انہوںنے انتخابی مہم کے دوران عوام سے کہا تھا کہ وہ انہیں اتنا مینڈیٹ دیں کہ انہیں حکومت سازی کے لئے دوسری جماعتوں کی محتاجی نہ رہے۔ عوام نے اُن کے ان الفاظ کی لاج رکھی اور گزشتہ دو الیکشنوں کے جیتنے والوں کے مقابلے میں ان کی جماعت کو واضح مینڈیٹ دیا۔ 1997ءمیں بھی انہیں دو تہائی اکثریت ملی تھی تو اب 16 سال بعد اُن کو اتنی واضح اکثریت حاصل ہوگئی ہے کہ وفاق میں وہ اپنے بل بوتے پر حکومت بنا اور چلا سکتے ہیں۔ پنجاب میں تو اُن کی جماعت کو دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت حاصل ہوگئی ہے۔ یہاں بھی شہباز شریف کل تیسری مرتبہ وزیراعلیٰ بن رہے ہیں۔ انہیں جو مینڈیٹ ملا ہے اب اس کی لاج رکھنا ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ عوام اُن سے یہ مطالبہ تو نہیں کرتے وہ اُن کے لئے دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیں لیکن اتنی توقع ضرور رکھتے ہیں کہ وہ ملک میں امن و امان لے آئیں۔ عوام کی جان و مال کی حفاظت کریں، ان کو اتنا روزگار ضرور دے دیں کہ وہ جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھ سکیں۔ لوڈشیڈنگ کا عذاب ختم نہیں تو کم ضرور کر دیں اور یہ کوئی ایسے کام نہیں ہیں جو ناممکنات میں سے ہوں۔ میاں شہباز شریف نے سو فیصد درست اندازہ لگایا کہ اگر عوام کے مسائل حل نہ کئے، تو ہمارا نام لینے والا کوئی نہ ہوگااس لئے تاریخ میں زندہ رہنے اور اپنے نام کو زندہ رکھنے کے لئے لوگوں کے مسائل حل کرنا ضروری ہوگا۔

مزید :

اداریہ -