میٹرو بس :غریب عوام کی سہولت کا عظیم منصوبہ

میٹرو بس :غریب عوام کی سہولت کا عظیم منصوبہ
میٹرو بس :غریب عوام کی سہولت کا عظیم منصوبہ

  

پاکستان کے عوام کے لئے مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے اپنی بساط کے مطابق جو کچھ بھی کیا اس کے لئے کسی تنقیدی یا تعریفی ردِعمل کی حیثیت یا ضرورت اپنی جگہ، مگر اصل فیصلہ عوام نے کرنا ہوتا ہے اور ہمارے ملک کی حالیہ سیاسی و انتخابی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ عوام نے مسلم لیگ(ن) اور اس کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ایک عام شہری کی حیثیت سے اگر حکومت پنجاب کے کارناموں کا جائزہ لیا جائے تو ہر منصوبہ اپنی بولتی تصویر کے روپ میں نظر آئے گا،لیکن سڑکوں کا جال بچھانے اور لوگوں کو بہترین سفری سہولتیں فراہم کرنے کے حوالے سے خادمِ پنجاب میاں محمد شہبازشریف کا وژن سب سے زیادہ منفرد اور قابلِ ستائش ہے۔ لاہور کے بعد راولپنڈی اسلام آباد کے عام شہریوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کے اذیت ناک ماحول سے نجات دینے کے لئے جڑواں شہروں میں خوبصورت میٹرو بس چلا دی ہے۔ 23کلومیٹر طویل بین الاقوامی معیار کی سڑک اور دیگر سہولیات سے مزین یہ ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم صرف 13ماہ کی قلیل مدت میں مکمل ہونا از خود ایک معجز نما کارنامہ ہے۔ اس میں تو کوئی دورائے نہیں کہ میٹروبس کا یہ ڈیزائن بین الاقوامی معیار کا ہے۔

متعدد ترقی یافتہ ممالک کے سربراہانِ مملکت اور ماہرین نے میاں شہباز شریف کی قائدانہ صلاحیتوں اور عملی جدوجہد کو ببانگ دُہل خراج تحسین پیش کیا ہے وہ یہ کہے بغیر نہ رہ سکے کہ ہمیں اندازہ ہی نہ تھا کہ میاں شہباز شریف اتنی قلیل مدت میں اتنا خوبصورت اور ہر حوالے سے معیاری منصوبہ مکمل کروالیں گے۔ یورپ کے کائی ممالک اور ترکی کے علاوہ ہمارے ہمسایہ دوست مُلک عوامی جمہوریہ چین میں میاں شہباز شریف کو متاثر کن شخصیت اور اُن کی انتھک جدوجہد کو بطور مثال پیش کیاجاتا ہے۔ میٹرو بس کا یہ تاریخی منصوبہ اپنے نتائج کے اعتبار سے لاثانی بھی ہے اور قابل تقلید بھی، کیونکہ تعمیراتی کام سے معمولی دلچسپی رکھنے والا عام شخص اور ایک قابل ماہرِ تعمیرات دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ آپ کے پاس جتنا بھی پیسہ ہو، جتنی بھی افرادی قوت ہو 13ماہ میں ایک خوبصورت مکان کی تعمیر بھی مکمل نہیں کی جا سکتی، تو پھر ایسے شخص کی انتظامی صلاحیتوں اور دلچسپی کی داد دینا ہو گی، جس نے وہ کام کردکھایا جو ناممکن تھا اور اپنے پرائے سب حیران تھے کیا یہ حقیقت ہے۔

یہ ایک منفرد طبیعت کے مالک منتظمِ اعلیٰ کا ہی خاصہ ہے کہ خود اچانک دورہ کرکے مزدوروں کا حوصلہ بھی بڑھاتا رہا اور کام کی رفتار اور معیار بھی چیک کرتا رہا۔ یہ الگ بات کہ کسی کی حیرانگی حسد کی شکل اختیارکر گئی اور کوئی داد و دہش کے بغیر نہ رہ سکا۔ تقریباً اوسط 130,000 لوگ روزانہ اس بس پر سفر کریں گے۔ کرایہ ایک غریب تر شخص بھی آسانی سے ادا کرسکتا ہے۔ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کوئی افسر حتیٰ کہ وزیر یا اعلیٰ عہدیدار بھی عام مسافر کی طرح لائن میں لگ کر ٹکٹ حاصل کرے گا اور برابر کی سفری سہولتیں حاصل ہوں گی۔ اس فلاحی منصوبے کو جس قدر بھی منفی پراپیگنڈے کا نشانہ بنایا جائے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ راولپنڈی کے گنجان آباد علاقے سے لے کر پاک سیکرٹریٹ اسلام آباد تک کا سفر کرنے والا مسافر ہی جانتا ہے کہ اسے کتنی بڑی مشکل سے چھٹکارہ مل گیا ہے۔ جب مَیں میاں شہباز شریف کے کسی ذاتی مخالف کو میٹرو بس کی مخالفت کرتے دیکھتا یا سنتا ہوں، تو حیران ہونے کے ساتھ غصہ بھی آتا ہے کہ لڑائی لڑنے کے اور بھی طریقے ہو سکتے ہیں۔ سیاست بازی اور الزام تراشی کے لئے اور بھی بہت کچھ ہے ، لیکن نہ جانے یہ غریب پروری اور خالصتاً مفاد عامہ کی سہولت ہی ہر کسی کو کیوں کھٹکتی ہے۔

بڑی بڑی گاڑیوں پر گھومنے والے بڑے لوگوں کے شہر میں ایک ٹریک غریبوں کے لئے مخصوص کیا گیا تو ایسے سب لوگوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے، جن کے لئے سپیشل پروٹوکول لگا کر ٹریفک رواں دواں رکھی جاتی ہے اور جنہیں ٹریفک سگنلز ہمیشہ کُھلے ملتے ہیں وہ تو اس بات پر آگ بگولہ ہورہے ہیں کہ ان کی گاڑی کے برابر اب ایک غریب کی سواری بھی بغیر رُکے مسلسل چلے گی۔ اب ایک چودھری، ایک راٹھ اور ایک مزدور میں فرق نہ ہو گا۔ غریب آدمی، معمولی کسان اور عام طالب علم بھی اِسی طرح باعزت اور پُرسکون سفر کریں گے، جس طرح مراعات یافتہ طبقہ کرتا ہے۔ اس میٹرو بس کے ذریعے راولپنڈی اسلام آباد کے مضافات اور پاک سیکرٹریٹ کے گردونواح میں واقع سرکاری دفاتر میں آنے والے ہزاروں لاکھوں لوگ اس سہولت سے مستفید ہونے کے ساتھ ساتھ براہِ راست ان لوگوں میں شامل ہیں، جن کے لئے یہ جدت پیدا کی گئی ہے۔ ابتدا میں 68ایئر کنڈیشن بسیں اس ٹریک پر اپنا رنگ بکھیریں گی۔ صدر راولپنڈی میں میٹرو ٹریک کے آغاز پر سٹیٹ آف دی آرٹ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کی عمارت اور تین منزلہ پارکنگ پلازہ بھی تعمیر کیا گیا ہے۔ میٹرو ٹریک کے ساتھ فلائی اوور اور پیدل چلنے والوں کے لئے 14انڈرپاسز اور سگنل فری وہیکل انڈرپاسز بھی تعمیر کئے گئے ہیں۔

جدید طرز کی سہولتوں سے آراستہ 24بس سٹیشنوں پر برقی زینے، پسنجر لفٹس، ٹکٹنگ بوتھ، سکرین ڈورز، پینے کے صاف پانی اور واش رومز سمیت تمام انتظامات اعلیٰ درجے کے ہیں۔ راولپنڈی اسلام آباد میٹروبس ٹریک کو براہِ راست پاکستان کا حُسن بھی قرار دیاجاسکتا ہے۔ بلاشبہ اس منصوبے کے اثرات پورے مُلک تک پھیلیں گے۔ پنجاب حکومت اس کے بعد فیصل آباد اور ملتان میں بھی اس طرح کے منصوبے مکمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ رہی بات ناقدین کی تو اُن کی سُننے اور پرواہ کرنے سے بہتر ہے کہ اپنی کارکردگی اور استعدادِ کار میں اضافہ کیا جائے۔ اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے خادمِ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے تمام شعبہ ہائے زندگی کی ترقی کے لئے مکمل ضابطہ طے کر رکھا ہے۔ بطورِ خاص نوجوان طلباء و طالبات کو ہر طرح کی سہولتیں اور انعامات و وظائف دینے کے سلسلے نے ہمارے روشن مستقبل کے لئے اُمید کی واضح کرن پیدا کردی ہے۔ پورے پنجاب میں بلاتفریق سڑکوں اور پُلوں کا جال بچھانے والی پنجاب حکومت میاں شہباز شریف کی سربراہی میں اپنی خدمت کا ایک باب مکمل کر چکی۔ لاہور، راولپنڈی، ملتان اور فیصل آباد سمیت دیگر بڑے شہروں میں عام بسوں میں سفر کرنے والے عام لوگوں کی حالت زار دیکھنے کے بعد یہ فیصلہ کرنا انتہائی آسان ہوجاتا ہے کہ میٹروبس بلاشبہ میاں شہباز شریف اور اُن کی پوری ٹیم کی طرف سے غریبوں کے لئے ایک انمول تحفہ ہے۔ اسے غریب پروری کے سوا کچھ بھی کہنا غلط ہوگا۔

مزید :

کالم -