آپریشن رمادی

آپریشن رمادی
آپریشن رمادی

  



گزشتہ پینتیس (35)برسوں سے مسلم ممالک کے خلاف غیر مسلم ممالک کی مسلسل جارحانہ کاروائیوں کے نتیجے میں جنگی تصادم کے ا طوارمیں بڑی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔مسلمان کمزورہیں جبکہ غیر مسلم ممالک طاقتور ہیں اور یہی بات گوریلا جنگ (Asymmetric War) میں نئے نئے رحجانات کی ترویج کا بڑاسبب ہے اور کمزوروں نے ایسی نئی نئی حکمت عملیاں وضع کر لی ہیں کہ طاقتورکے ہی فتح یاب ہونے کا پرانانظریہ اپنی حقیقت کھو چکا ہے۔اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے متحارب قوتوں کی ’’جنگی حکمت عملی‘‘(Approach to Battle) کا تجزیہ ضروری ہے۔

روس نے سیاسی و عسکری حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے افغانستان پر قبضہ کیا،لیکن افغانوں کے خلاف ایک طویل جنگ میں پھنس کر رہ گیا ۔ اپنے جنگی مقاصد حاصل کرنے کیلئے اس نے کثیرتعداد میں روایتی افواج متعین کیں، لیکن ناکامی اس کا مقدر ٹھہری۔اس کے تقریباً بارہ (12)سال بعدامریکہ اور اس کے نیٹو (NATO)اتحادیوں نے 2001 ء میں نیویارک کے سانحہ9/11 کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ‘ افغانستان کے خلاف کھلی جنگ شروع کر دی‘ جس میں فضائی قوت کا بے تحاشہ استعمال کرتے ہوئے ’’غیظ و غضب‘‘ (Shock and Awe)کی نئی تاریخ رقم کی گئی، جس کے نتیجے میں طالبان پسپاہوئے اور امریکہ اور اتحادیوں نے افغانستان پر قبضہ کر لیا،لیکن بتدریج مزاحمت اُبھرتی گئی اور قابض فوجوں کو جلدہی اس حقیقت کا ادراک ہو گیا کہ زمینی جنگ میں طالبان کا مقابلہ کرنا ان کے بس کی بات نہیں، لہٰذاانہوں نے مزاحمت سے نمٹنے کے لئے فضائی بمباری اور ڈرونز (Drones) کا اندھا دھند استعمال کیا اورخصوصأ طالبان کے قائدین کو نشانہ بنایا گیا، لیکن اس کے باوجودان کے جذبہ مدافعت کو شکست نہ دے سکے اور اب اس ظالمانہ جنگ کے پندرہ سال پورے ہونے کے بعد، یہ تصادم اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہا ہے، تو قابض فوجوں کے چہروں پرایک غیر یقینی مستقبل اور شکست کے آثار نمایاں ہیں۔

’غیظ و غضب(Shock and Awe) ‘ کی حکمت عملی کی ناکامی کے باوجود امریکہ نے 2003 ء میں عراق میں یہی حکمت عملی دہرائی اور ناکامی و نامرادی اس کا مقدر بنی۔ تین سال بعداسرائیل نے2006 ء میں حزب اللہ کے خلاف اور 2008ء میں حماس کے خلاف بھی یہی حکمت عملی اختیار کی، لیکن اسے بھی منہ کی کھانی پڑی کیونکہ اس کے پاس راکٹ حملوں کا کوئی توڑ نہ تھا، جس نے اسرائیل کے قومی فضائی سلامتی کے نظام کو ناکارہ کر کے رکھ دیا۔اوراب امریکی اتحاد (American Alliance) نے شام و عراق کے خطے میں داعش کو ختم کرنے کے لئے ایک بار پھرفضائی بمباری کا سہارالیاہے، لیکن ابھی تک انہیں ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملاہے۔اِسی طرح سعودی اتحاد(Saudi Coalition) بھی یمن میں حوثیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر بمباری کر رہا ہے، لیکن وہ حوثیوں کی پیش قدمی کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ طاقتور حریفوں کی جانب سے فضائی قوت کی پے در پے ناکامیوں کے بعد بھی اسے استعمال کرنا ان کا اعتراف شکست ہے (Re-inforcing defeat) ۔

دوسری جانب کمزور دفاعی صلاحیت رکھنے والوں نے جنگی حکمت عملی میں نئی نئی ترکیبیں اور طریقے اختراع کر کے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ مثلاً افغانستان اور عراق میں مضبوط اور طاقتور حریفوں کے مقابل حریت پسند، وسیع علاقوں میں پھیل گئے، جس سے انہیں دشمن کو تھکاتھکا کر مارنے کے لئے وقت اورزمینی وسعت حاصل ہوئی۔حزب اللہ اورحماس نے راکٹوں کے استعمال سے اسرائیل کی قومی فضائی سلامتی کے نظام کو ناکارہ بنایااور مضبوط زمینی دفاع (Positional Defense) کا طریقہ کار اختیار کرکے زمینی لڑائی میں اسرائیلی فوج کو شکست سے دوچار کیا۔اب شام اور عراق میں داعش نے ایسی ہی ایک نئی جنگی تکنیک اختیار کر کے رمادی اور پالمائر(Palmyre) پر قبضہ کیا ہے۔یہ امر حیران کن ہے کہ انہوں نے یہ سب کچھ کیسے ممکن بنایا؟

رمادی پر قبضہ کرنے کے لئے داعش نے ’ایک خودکش سکواڈ، ترتیب دیا جو حملے سے کئی روز پہلے صحرا میں گھات لگا کے بیٹھا رہا۔ ’’خودکش سکواڈ پچیس(25) کار بموں ‘ بکتر بندگاڑیوں اور بلڈوزروں پر مشتمل تھاجو سب کے سب بارود سے بھرے ہوئے تھے اور سب نے یک جان ہوکر حملہ کیا، جس سے دفاعی فوجوں پر ’’خوف و دہشت‘‘ طاری ہوئی ،ان کے ا وسان خطا ہوئے اور وہ بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ اس کے بعدگرینیڈوں،راکٹ لانچروں اور خودکار گنوں سے لیس تیس (30) خودکش حملہ آوروں نے ایسی دہشت پھیلائی کہ دفاعی فوجیں گھٹنے ٹیکنے اور بھاگنے پر مجبور ہو گئیں‘‘۔ مشیر برائے سنٹرل کمانڈ علی خیدری(Ali Khadery) کے بقول ’’رمادی پر قبضہ کرنے والی فوج کی تعداد ہزاروں میں نہیں، بلکہ محض ڈیڑھ سو(150) جنگجوؤں پرمشتمل تھی‘ جن کے مدمقابل دفاعی فوج کی تعداد چھ ہزار تھی جو ہتھیار پھینک کر فرار ہو گئی‘‘ ۔

عراق کے گیریژن کمانڈر کہتے ہیں ’’پسپاہونے والی عراقی فوج نے اپنے پیچھے تیس(30) سے زیادہ ایم ون اے ون ابراہم(M1A1 Abraham)ٹینک‘ گنیں اور بھاری مقدار میں گولہ بارود اور عسکری سازو سامان چھوڑا اور میدان جنگ سے فرار اختیار کیا۔ عراقی فوج کا مورال اتنا شکست خوردہ تھا کہ نہ تو ہم انہیں کنٹرول کر سکے اورنہ ہی ان کی ترتیب نو کر سکے‘‘۔ ڈیفنس سیکرٹری کارٹر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’عراقی فوجوں میں لڑنے کا جذبہ ہی نہیں تھا۔ان کی تعداد حملہ آور فوج سے کہیں زیادہ تھی، لیکن اس کے باوجودا نہوں نے ہمت ہاردی۔‘‘ رمادی پر قبضے کے ایک دن بعد داعش کے ہاتھوں پالمائر (Palmyre)کی حفاظت پر مامور شام کی فوجوں کو شکست اٹھانا پڑی۔۔۔(داعش نے صرف ایک سو پچاس(150) جنگجوؤں کے ساتھ رمادی پر قبضہ کیا، لیکن ابھی تک وہ بختیار خلجی کا ریکارڈ نہیں توڑ سکے ہیں، جنہوں نے 1203ء میں عربی گھوڑوں پر سوارمحض سترہ(17) جنگجوؤں کے ساتھ بنگال فتح کیا تھا۔)

اب بغداد پرخطرات کے سائے منڈلا رہے ہیں کیونکہ رمادی کے شمال مغرب میں واقع بغدادی (Baghdadi) شہر ایک اہم عراقی فضائی اڈے تک رسائی کا آسان راستہ ہونے کے ساتھ ساتھ بغداد پر حملے کے لئے بھی اہم ہے۔ بغدادی پر سات(7) کار بم خود کش حملے ہوچکے ہیں اور ممکن ہے کہ اب تک بغدادی پر بھی داعش کاقبضہ ہو چکا ہو۔داعش کا وجود میں آنا ایک معمہ ہے۔دانشورفواز ترکی(Fawaz Turki) کا کہنا ہے کہ ’’انہیں ناگزیر حالات نے جنگ کی طرف دھکیلا ہے اوروہ اپنی شناخت حاصل کرنے کے لئے موت کو گلے لگانامقدس سمجھتے ہیں‘‘۔ عرب نوجوانوں میں اپنی شناخت کے حصول کا عنصر ’’عرب انقلاب‘‘ کے طفیل اجاگر ہوا ہے، لیکن مصر اور دیگر ممالک میں سیاسی اسلام(Political Islam) کے خاتمے سے ان کی انقلابی امیدیں دم توڑ گئیں اور گھٹن پیدا ہوئی ہے۔’’ اس طرح ان نوجوانوں کے لئے داعش میں شمولیت ایک لا شعوری عمل ہے، جس سے انہیں نفسیاتی سکون حاصل ہوتا ہے‘‘۔ یہ جذبہ یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں، حتیٰ کہ بدھ مت کے پیروکاروں میں بھی مشترک ہے۔مثلاً 1099ء میں یروشلم پر صلیبیوں کی درندگی کے سبب جو قتل عام ہوا‘ اسے ان الفاظ میں سراہا گیا ہے:

’’ہرطرف انسانی سروں‘ ہاتھوں اور پیروں کے انبار دکھائی دیتے تھے اور کسی کے لئے انسانی اورگھوڑوں کے جسموں کے اوپر سے گزرنے کے سوا اورکوئی راستہ نہ تھا۔ خون کے دریا کی گہرائی گھوڑے سوار کے گھٹنوں اور رکابوں تک تھی۔ یہ اللہ تعالی کے نظام عدل کا عظیم الشان مظاہرہ تھا کہ گمراہوں کی اس سرزمین کو انسانی خون سے بھر دیا جائے، کیونکہ وہ طویل عرصے سے ان کی بد اعمالیوں اور توہین آمیز حرکتوں کو دیکھ رہا تھا‘‘۔یہی وہ انتقامی سوچ ہے، جس پر آج بھی طاقتور غیر مسلم قوتیں عمل پیرا ہیں، جبکہ کمزور مسلم ممالک جوکشمیر سے فلسطین‘ افغانستان سے عراق‘ شام سے صومالیہ اور یمن سے لیبیا تک دنیا کے علاقوں پر محیط ہیں ان کے لئے حکم ایزدی یہی ہے کہ ’’اپنی شناخت کے حصول کی جدوجہد جاری رکھو اور یہ وہ مقام آگہی ہے جہاں جانوں کی قربانی کے لئے زندگی بے تاب نظر آتی ہے۔ یہ وہ سوچ ہے جو ایک طوفان کی طرح ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے اور دُنیا محو حیرت ہے کہ یہ طوفان کہاں جا کے رکے گا۔

حرف آخر:تاجکستان کے سپیشل فورسز کے کمانڈر’ گل مراد کلیمی‘ اپنے چارسو (400)ساتھیوں سمیت داعش سے جا ملے ہیں اور خبر یہ ہے کہ‘ رمادی پر قبضے کے آپریشن کی منصوبہ بندی اور کامیابی کا سہرا انہیں کے سر ہے۔

مزید : کالم