حفیظ: ایک خوش فکر اور خوش ذوق کھلاڑی

حفیظ: ایک خوش فکر اور خوش ذوق کھلاڑی
 حفیظ: ایک خوش فکر اور خوش ذوق کھلاڑی

  

چیئرمین پی سی بی شہریار ایم خان نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ کم تعلیم یافتہ کرکٹرز کی وجہ سے پاکستان کی کرکٹ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کی یہ بات درست ہے لیکن اس کے جواب میں سابق کپتان محمد حفیظ نے ایک اختلافی بیان دیا کہ کرکٹرز کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری نہیں، یعنی کرکٹ ذہنی کھیل نہیں، بلکہ محض جسمانی صلاحیت پر مشتمل ایک سرگرمی ہے،لہٰذا پاکستانیوں کو تعلیم کی ضرورت نہیں۔ بے چارے حفیظ خاصے بد ذوق واقع ہوئے ہیں۔ اوّل تو انہیں چیئرمین پی سی بی کے بیان کے حوالے سے بات نہیں کرنی چاہئے تھی، دوم ان کی گفتگو فہم وفراست اور منطق سے عاری نظر آئی۔ موصوف کپتانی سے ہٹائے گئے اور ماضی میں اپنے طرز عمل اور پرفارمنس کی بنیاد پر ٹیم سے فارغ بھی ہوئے، بلکہ انہیں دوران ٹور ڈسپلن کی بنیاد پر وطن واپس بھیجا گیا، اس وقت بھی ٹیم میں ان کی شمولیت مشکوک ہے۔ ان کا موجودہ مقام اور حیثیت اس بات کی متقاضی ہے کہ وہ اس قسم کے موضوعات پر متنازع گفتگو سے اجتناب کریں۔ حفیظ خود کپتان رہ چکے ہیں، کم پڑھے لکھے کرکٹرز کو سپورٹ کرنے کی بجائے کامیاب ترین کپتانوں کو اپنا رول ماڈل بنائیں، جن میں حفیظ کا ردار ،ایم اے (آکسن)،عمران خان، بی اے آنرز (آکسن)اور مصباح الحق ایم بی اے (یو ایم ٹی) سرفہرست ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ ہماری طرح کے باہر بیٹھے ہوئے لوگ یہ بات کرسکتے ہیں کہ تعلیم یافتہ کرکٹرز نے ماضی میں کرکٹ میں وہ بگاڑ پیدا کیا جو شاید کم تعلیم یافتہ کرکٹرر بھی نہ کرتے۔ عثمانیہ یورنیورسٹی اور کیمرج سے فارغ التحصیل ایک سابق کپتان پاکستان میں جوئے کے محرک جانے جاتے ہیں۔تقسیم کے بعد لاہور کے سرکردہ کالجوں اور یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ قومی کرکٹرز کے باہمی جھگڑے، تنازعے ،سکینڈلز اور سازشوں سے ماضی میں ہماری کرکٹ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ حفیظ اگر سمجھدار ہوتے تو کم از کم چیئر مین پی سی بی کے خاندانی ، سماجی اور منصبی پس منظر کو پیش نظر رکھتے ۔ ان کی گفتگو اور طرز عمل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔

آج کل پی سی بی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے توسط سے جوخبریں ریلیز ہورہی ہیں، ان کے مطابق پی سی بی یونیورسٹی ،سکول اور کلب کرکٹ کی اصلاح اور تنظیم کے لئے منصوبہ بندی کررہا ہے۔ یہ تجربہ آج سے کچھ برس پہلے جاوید زمان کی سرکردگی میں پی سی بی نے چار سو سکولوں کا ٹورنامنٹ کروا کر کیا تھا۔ اس وقت بھی شہریار ایم خان پی سی بی کے چیئر مین تھے۔ بعد میں یہ سلسلہ ختم کردیا گیا اور اب اس سلسلے میں نئی بات چل نکلی ہے کہ سکول، کلب کرکٹ اور یونیورسٹی کرکٹ کو پی سی بی کے زیر انتظام لایا جائے۔ میری ذاتی رائے میں مُلک بھر میں قائم مختلف درجوں کے ہزاروں سکولوں میں کرکٹ کے مقابلے کروانا کرکٹ بورڈ کا دردِ سر نہیں، لیکن اس کے برعکس پاکستان میں کلب کرکٹ سوسال سے زیادہ عرصے سے کھیلی جارہی ہے اور یہی اصل کرکٹ ہے۔ کرکٹ بورڈ کے پاس اس وقت اظہر زیدی جیسے تجربہ کار اور منصوبہ سازذہن موجود ہیں اور انہیں اس کام کو تیز کرنے کے حوالے سے فری ہینڈ دیا جائے۔اس کے ساتھ یونیورسٹی کرکٹ کو فروغ دیا جائے۔ یونیورسٹیوں کے پاس اپنی کرکٹ گراؤنڈز موجود ہیں۔ وہاں پر مقابلے کروائے جائیں۔ پاکستان یونیورسٹیوں کی ٹیموں کو قومی کرکٹ کے اہم مقابلوں میں شامل کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کرکٹ کے فائنل میچ کو ٹیلی ویژن پر دکھایا جائے۔ تعلیمی اداروں اور کلب کرکٹ کی ترقی سے ہماری کرکٹ کو درپیش بہت سے مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔ پی سی بی کو ادارے کی حیثیت سے نکتہ چینی کا سامنا رہتا ہے۔ ٹیم پر آئے دن جھوٹے سچے الزامات لگتے رہتے ہیں۔ سابق چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ کا دور اس لحاظ سے بد ترین تھا، ان کی ذات اور عہدے پر شب وروز جس طرح حملے کئے گئے، اس سے بورڈاور کرکٹ کی مقبولیت کو بہت نقصان پہنچا۔اس صورت حال میں لازم ہے کہ کرکٹ بورڈ کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے والے افراد کو مکمل خود مختاری دی جائے، جو بورڈ کے آفیشلز اور کھلاڑیوں پر اٹھنے والے مختلف اعتراضات کے دفاع کے حوالے سے موثر حکمت عملی تیار کرسکیں۔

بعض اوقات چند بڑے اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر بے بنیاد خبریں اور تجزیے دیکھ اورسن کر حیرت ہوتی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ کرکٹ بورڈ کا کوئی معتبر ترجمان صورت حال کے مطابق میڈیا پر اپنااصل موقف پیش کرے۔ حال ہی میں منعقدہ پاکستان کپ 2015-16ء پی سی بی کی ایک اچھی کاوش تھی۔ پاکستان کے تمام سرکردہ کرکٹرز اس ٹورنا منٹ کا حصہ تھے۔ روزانہ کی بنیاد پر فیصل آباد میں گرم موسم میں یہ مقابلے دیکھے گئے۔مجھے ریڈیو پاکستان پر ان تمام میچوں میں کمنٹری کا موقع ملا۔ میرے خیال میں پی سی بی کو فیصل آباد میں میڈیا کے حوالے سے تمام تر ذمہ داری شکیل خان کے ناتواں کندھوں پر نہیں ڈالنی چاہئے تھی۔ اس ضمن میں ٹورنامنٹ کی دلچسپ خبریں اور تصاویر جاری کرنے کے لئے فردِ واحد کے ساتھ ایک مستند میڈیا ٹیم ہونی چاہئے تھی ۔ پی ٹی وی پر غیر تسلی بخش کرکٹ کوریج نے صورت حال کو مزید بدنما بنا کر پیش کیا۔ بین الاقوامی افق پر انگلستان میں ٹیم کے امیج کو بہتر انداز سے اجاگر کرنے کے لئے ایک برطانوی میڈیا منیجر کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم برائن مرگٹ نے ذاتی وجوہات کی بنیاد پر اپنی عدم دستیابی سے بورڈ کوآگاہ کیا۔ مَیں نے ذاتی طور پر چیئر مین پی سی بی کو متذکرہ پوسٹ کے لئے قمر احمد کا نام تجویز کیا تھا۔بہر حال میڈیا مینیجر ایسے متحرک شخص کو نامزدکیا جائے، جو بیک وقت صحافتی اور تعلقات عامہ کا ماہر ہو۔اس کے علاوہ برطانیہ میں جز وقتی رہنے اور مقامی کلچر سے واقف ہو اور لکھنے کا وسیع تجربہ رکھتا ہو۔ اخبارات اور میڈیا کے مزاج کو سمجھتے ہوئے پاکستانی میڈیا کے لئے ایک اچھا سہولت کار بھی ہو ۔ انگلستان کے دورے سے پہلے پی سی بی نے مکی آرتھرکو ٹیم کا چیف کوچ مقرر کیاہے۔ مَیں انہیں کئی بار مل چکا ہوں، وہ بلا شبہ ایک سمجھدار اور منجھے ہوئے کوچ ہیں۔ پاکستان کے بارے میں ان کی معلومات ناکافی نہیں ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کھیلنا تو کھلاڑیوں نے ہے، مگر برابری کی بنیاد پر ٹیم کوچ ٹیم کے لڑنے اور پرفارم کرنے کے حوالے سے حیرت انگیز تبدیلیاں لاسکتا ہے۔ مکی آرتھر ،وٹ مور، وولمراور لاسن کے مقابلے میں جسمانی اور ذہنی طور پر زیادہ فٹ ہیں۔ اس وقت انگلستان میں جاری کرکٹ سیریز میں انگلستان نے کمزور سری لنکن میچ کاحشر نشر کردیا ہے۔ سری لنکن کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہماری ٹیسٹ ٹیم کی باؤلنگ اور بیٹنگ سری لنکاسے کہیں بہتر ہے اوریوں ٹیم مصباح ، یونس اور اظہر علی کی بیٹنگ کی بدولت بہترین نتائج دے سکتی ہے۔ مدثرنذر کی پاکستان کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں تعیناتی ہوچکی ہے۔ وہ بلا شبہ این سی اے کے سربراہ کے لئے موزوں ترین امید وار تھے، تاہم پاکستان کے نوجوانوں میں بے عملی ،بد دیانتی اور بے راہ روی جیسی صفات عام ہیں۔ بظاہر اس بگاڑ میں پی سی بی کا کوئی قصور نہیں۔ مخصوص پس منظر ، معاشی وسماجی حالات سے اُبھر کر آنے والے نوجوان طے شدہ ذہن کے ساتھ ابھر کر سامنے آجاتے ہیں۔ دنیا کا کوئی ادارہ کسی نصاب کی مدد سے ان کی بہتری کا تربیتی پروگرام نہیں بنا سکتا۔ ان مخصوص حالات میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی کا کردار بڑا نمایاں ہونا چاہئے۔ صرف نیٹ پریکٹس یا سابق کرکٹرز کے ذریعے کرکٹ کی تکنیک کو بہتر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کرکٹرز کی پختہ عادات اور مخصوص حالات میں پکی ذہنیت کے تحت انتشار پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت کو ختم کرنے کے لئے کوئی غیر معمولی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اوپر کی سطح پر محمد حفیظ کا طرز عمل اور گفتار ایک عمدہ مثال ہے۔ پروفیسر باؤلنگ میں پابندی کا شکار ہو چکے ہیں اور ان کے ساتھی سعید اجمل بین ا لاقوامی پابندی کے بعد کرکٹ سے بے دخل ہوچکے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سابق کرکٹرز کے ساتھ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں نا می گرامی ماہرین پر مشتمل ایک مضبوط اور مثالی فیکلٹی قائم کی جائے، جس کی شہرت لندن کے گور سکول کی طرح قائم ہو،جو ہونہار کرکٹرز اپنے برے طرز عمل اور سوچ کی وجہ سے دنیا بھر میں بدنامی کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان کی اصلاح ہوسکے اور یہ پاکستان کے بہترین کھلاڑی اور سفیر بن کر سا منے آئیں۔

مزید :

کالم -