رمضان پیکیج :خلوص نیت سے عمل درآمد کی ضرورت

رمضان پیکیج :خلوص نیت سے عمل درآمد کی ضرورت
 رمضان پیکیج :خلوص نیت سے عمل درآمد کی ضرورت

  

مہنگائی نے غریب آدمی کے روز مرہ معمولات پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں گذشتہ چند سال سے اشیاء ضروریہ کی قیمتیں جس تیزی سے بڑھی ہیں اس نے عام آدمی کی قوت خرید کو بہت متاثر کیا ہے جس سے روز مرہ ضرورت کی اشیاء اس کی پہنچ سے باہر ہوتی جارہی ہیں ماضی میں حکومتوں کی ناقص پالیسیوں اور حکمت عملی کی وجہ سے افراط زر میں اضافہ ہو ا ہے ۔ اور رہی سہی کسر بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ نے پوری کردی ہے ۔ لو ڈ شیڈنگ کی وجہ چلتی ہو ئی فیکٹریاں اور کار خانے بند ہورہے ہیں جس سے بیروزگاری میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کا گراف بھی نیچے کی طرف جا رہا ہے ۔ اب جب کہ رمضان المبارک کی آمد ہے تو اس کے ساتھ ہی ناجائز منافع خور اور ذخیرہ اندوز حرکت میں آگئے ہیں یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ اکثر مینو فیکچرز اور سپلائرز رمضان المبارک سے دو تین ہفتے قبل اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیتے ہیں اور رمضان المبارک میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کر کے اشیاء کی قیمتوں میں چند روپوں کی کمی کا اعلان کر دیتے ہیں حالانکہ جس شرح سے وہ قیمتیں بڑھاتے ہیں اس شرح سے وہ کم نہیں کرتے اور ان کامنافع رمضان المبارک میں بڑھ جاتا ہے۔ یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ پرچون فروش تھوک کا کاروبار کرنے والوں کو با لخصوص دالوں ، بیسن، چینی اور دیگر اشیاء خوردنی کی قیمتیں بڑھانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہیں کے پیچھے سے مال مہنگا آیا ہے ہم کیا کریں اگر پکڑنا ہے تو منڈی والوں کو پکڑیں ۔حکومت کو چاہیے کہ وہ پر چون فروشوں کے ساتھ ساتھ تھوک فروشوں پر بھی کڑی نگاہ رکھیں اور لا ہور ، سرگودھا ، گوجرانوالہ اور فیصل آباد کی منڈیوں کی قیمتوں کو روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کرے ۔ اسلام میں اشیاء کی مصنوعی قلت پیدا کرنے اور ذخیرہ ا ندوزی کرنے والوں کو ہر گز پسند نہیں کیا گیا اس کی سخت ممانعت کی گئی ہے ۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے !’’جس نے چالیس دن تک غلہ رو کے رکھا اس سے اللہ بر الذمہ ہے ۔ ‘‘ایک اور جگہ ارشاد فرمایا ہے کہ ’’ بازار میں مال درآمد کرنے والے کو رزق دیا جاتا ہے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والے پر لعنت بھیجی جا تی ہے‘‘آپ نے ذخیرہ اندوزی کرنے والے کی نفسیات اس طرح بیان کی ہے ۔ ’’بہت برا ہے وہ بندہ جو ذخیرہ اندوزی کرتا ہے جب ارزاں ہو تی ہے تو برا محسوس کرتا ہے اور جب گرانی ہو تی ہے تو خوش ہو تا ہے ۔‘‘

وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی سربراہی میں حکومت کی اولین ترجیح شہریوں کو روز مرہ استعمال کی اشیاء مناسب نرخوں پر وافر مقدار میں فراہم کرنا اور اشیاء کی مصنوعی قلت ، ذخیرہ اندوازی اور ملاوٹ کرنے والوں کو سختی سے کچلناہے ۔ حکومت نے رمضان المبارک میں عوام کو معیاری اور سستے داموں اشیائے صرف کی فراہمی کے لئے5ارب کا اعلان کیا ہے۔ جس کے تحت آٹا ، چینی ، گھی اور دیگر اشیائے ضرور یہ عوام کو رعایتی نرخوں پر فراہم کی جائیں گی ۔ رمضان المبارک میں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کے استحکام اور معیاری اشیاء کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے 1756پرائس کنٹرول مجسٹریٹس تعینات کئے گئے ہیں ۔ پرائس کنٹرول کمیٹیا ں اور ضلعی انتظامیہ بھی مکمل طور پر متحرک اور فعال ہو گی ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر ماہ مقدس میں قیمتوں کے استحکام اور ان کی مانیٹرنگ کے لئے جامع نظام وضع کیا گیا ہے ۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے کا بینہ کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور رسد کا جائزہ لے گی ۔ رمضان المبارک کے دوران غریب اور مستحق افراد کے لیے 2000مدنی دستر خوان لگائے جائیں گے مدنی دستر خوان کچی آبادیوں ، ہسپتالوں ، صنعتی علاقوں ، بس اڈوں اورمحنت کشوں کی بستیوں میں لگائے جائیں گے ، امسال 2000ہزار دستر خوان کا اہتمام کیا گیاہے ۔اور اس سلسلے میں مخیرحضرات ، عوامی نمائندوں اور ایوان ہائے صنعت و تجارت کی مشاورت حاصل کی جائے گی ۔ ایک صاف ستھرے اور باسہولت ماحول میں روز مرہ استعمال کی معیاری اشیاء مناسب نرخوں پر فراہمی کے لئے ماڈل اتوار بازار بھی قائم کئے جا رہے ہیں ۔

صوبہ بھر میں رمضان بازار 3جون سے فنکشنل ہو گئے ہیں اور رمضان بازاروں میں خریداری صبح 9بجے سے شام 6بجے تک ہو سکے گی ۔ وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے تمام اضلاع کے ڈی سی اوز ہدایات جاری کیں ہیں کہ رمضان بازاروں میں بجلی کے پنکھوں ، بزرگوں کے بیٹھنے کے لیے خصوصی انتظامات ، فسٹ ایڈ اور پارکنگ کے مناسب انتظامات کئے جائیں تا کہ صارفین کو کسی دقت کا اور پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ انہوں نے مزید ہدایات جاری کی ہیں کہ رمضان بازار وں میں سکیورٹی کے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں اور مشکوک افراد پر کڑی نگا ہ رکھی جائے ، رمضان بازاروں میں کنٹرول رومز بھی قائم کئے گئے ہیں تا کہ صارفین کو اگر کسی قسم کی شکایات ہو تو اس کا موقع پر ازالہ کیا جائے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ رمضان بازاروں کی مانیٹرنگ کیلئے صوبائی وزرا تمام محکموں کے سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام کا ڈیوٹی روسٹر جاری کیا جائے۔ اسی طرح صوبہ بھر میں ضلع ، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر 300رمضان بازار لگا ئے گئے ہیں۔ رمضان بازاروں میں محکمہ زراعت فئیر پرائس شاپس بھی لگائے گا جہاں پر پانچ اشیاء دال چنا ، دال ماش، دال مسور ، بیسن اور کھجوریں اوپن مارکیٹ ریٹ سے 10روپے کم قیمت پر فروخت کی جائیں گی جبکہ دیگر اشیا ء آلو ،بھنڈی توری ،سیب پیاز ، کدو ، ٹماٹر ، چنا ، چاول اور کیلا ، ہول سیل ریٹ پر دستیاب ہونگے ۔ زراعت کی فئیر پرائس شاپس پر اشیاء کی قیمتوں کے الیکٹرانک بورڈ نصب کئے جائیں گے ۔ اسی طرح رمضان بازاروں میں یو ٹیلٹی سٹور کے سٹال بھی قائم کئے جائیں گے ۔ رمضان پیکج کے تحت رمضان بازاروں میں 10کلو گرام آٹے کا تھیلا 290روپے میں دستیاب ہوگا ۔ تھیلے کا رنگ سبز ہوگا جبکہ اوپن مارکیٹ میں 10کلوگرام آٹے کا تھیلا جس کا رنگ نارنجی ہو گا 310روپے میں اور 20کلو گرام آٹے کا تھیلا جس کا رنگ نارنجی ہو گا 620روپے میں فروخت ہوگا ۔رمضان بازاروں کے لیے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن 15000ٹن چینی فراہم کرے گی جو مارکیٹ ریٹ سے 6روپے فی کلو گرام کم قیمت پر فروخت کی جائے گی ۔ چینی کے ایک کلو اور دو کلو کے پیکٹ میں فروخت کی جائے گی ۔ پاکستان بناسپتی مینوفیکچرز ایسوسی ایشن گھی اور آئل مارکیٹ ریٹ سے 10روپے کم قیمت پر رمضان بازاروں میں فروخت کرے گی ۔ اسی طرح مرغی کا گوشت کا مارکیٹ ریٹ سے 10روپے کم اور انڈے پانچ روپے فی درجن کم قیمت پر دستیاب ہونگے ۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے چیئر مین پراونشل پرائس کنٹرول کمیٹی بلال یسین کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام اضلاع کا دورہ کرکے ضلعی پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو متحرک کریں اور عوام کو ملاوٹ سے پاک اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ملاوٹ کے خلاف جاری مہم کو مزید تیز کریں اور اس مکروہ دھندے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائے ۔ اشیائے ضروریہ میں ملاوٹ کرنے والے افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے تاجروں سے کہا کہ وہ بھی عوام کو معیاری اشیائے ضروریہ مناسب نرخوں پر فراہمی کے لئے حکومت سے تعاون کریں ۔ انہوں نے کہا کہ جائز منافع ان کا حق ہے مگر کسی کو عوام کے استحصال کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی ۔ اس میں کوئی شک نہیں خادم پنجاب محمد شہباز شریف غریب اور مستحق افراد کی بہتری اور ان کا معیار زندگی بلند کرنے کے لئے دن رات کو شاں ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اشیاء کی کوالٹی کے ساتھ وافر دستیابی ہر صورت یقینی ہو نی چاہیے اور رمضان پیکج کے تحت فراہم کئے جانیوالے ریلیف کے ثمرات عوام تک ہر صورت پہنچنے چاہیءں ۔ اشیاء کے معیار پر کو ئی سمجھوتہ نہیں ہو گا ۔ دالوں کی دستیابی کے ساتھ ان کی مناسب قیمتوں پر فراہمی ہرصورت یقینی بنا نا ہو گی ۔ وزیر اعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ اگر کسی اشیاء کی قلت کا خدشہ ہے تو اسے ابھی سے امپورٹ کرنے کے انتظامات کئے جائیں اور منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ رمضان بازاروں میں سکیورٹی فول پروف انتظامات ہونے چاہئیں ۔ ڈی سی اوز سبزی منڈیوں میں نیلامی کے عمل کی خود نگرانی کریں گے جبکہ صوبائی وزراء اور سیکرٹری صاحبان اشیائے ضروریہ کی کوالٹی ، دستیابی اور قیمتوں کاجائزہ لینے کے لیے رمضان بازاروں کے دورے کریں ۔ اسی طرح کابینہ کمیٹی برائے پرائس کنٹرول روزانہ کی بنیاد پر رمضان بازاروں میں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کی مانیٹرنگ کریں گی۔ حکومت پنجاب نے رمضان المبار ک میں شہریوں کو اشیاء ضروریہ سستے داموں وافر مقدار میں یقینی بنانے کے لئے جامع اور پر کشش رمضان پیکج دیا ہے مگر ضرور ت اس امر کی ہے کہ اس پر خلوص نیت سے عمل درآمد کیا جائے تاکہ اس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچ سکیں ۔ خادم پنجاب جس طرح صوبے کے کونے کونے میں جاکر تمام معاملات کی خود نگرانی کرتے ہیں اسی طرح حکومتی مشینری کو بھی چاہیے کے وہ بھی عوامی خدمات کے جذبے سے کام کریں تاکہ رمضان پیکج سے مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکیں ۔

مزید :

کالم -