جمعیۃ علماءِ اسلام کو صدی نہیں بلکہ اکہتر سال ہوئے

جمعیۃ علماءِ اسلام کو صدی نہیں بلکہ اکہتر سال ہوئے
 جمعیۃ علماءِ اسلام کو صدی نہیں بلکہ اکہتر سال ہوئے

  

نامور مزاحیہ شاعر مجید لاہوری ایڈیٹر نمکدان کراچی نے اپنے روائتی مزاحیہ انداز میں اشعار لکھے تھے ان اشعار کا ایک بند یہ بھی تھا :

کنگا تیرا مانگ ہماری ۔۔۔ مرغا تیرا ٹانگ ہماری

تیری پگڑی میری شان ۔۔۔ پاکستان ، پاکستان

کچھ یہی صورتِ حال ہماری مذہبی سیاسی تنظیم جمعیۃ علماء اسلام کی ہے جس کے رہنما امیر جمعیۃ رحیم یار خاں نے اپنے بیان میں قوم کو خوشخبری سنائی ہے کہ آئندہ سال 7 ،8 ،9 اپریل کو جمعیۃ علماء اسلام اپنے قیام کی صدی مکمل ہونے پر ایک بین الاقوامی کانفرنس پشاور میں منعقد کرے گی جس میں جمعیۃ علماءِ اسلام تحریکِ آزادئ ہند کے سلسلے میں اپنے بزرگوں کی عظیم الشان قربانیوں اور علماءِ دیوبند کی قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنے کی تاریخ سے قوم کو روشناس کرائے گی۔جمعیۃ علماءِ اسلام کے قیام کو ابھی اکہتر سال ہوئے ہیں کیونکہ یہ جماعت 1945ء کو مسلم لیگ کے ایماء پر کلکتہ میں مولانا آزاد سبحانی کی صدارت میں قائم ہوئی تھی جس کا مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ جمعیۃ علماءِ ہند کی سیاسی قوّت کے خاتمے اور اس کی مقبولیت کا اثرزائل کرنے کی خاطر جمعیتہ علماء اسلام معرضِ وجود میں لائی گئی ہے جبکہ جمعیۃ علماءِ ہند کے قیام کا فیصلہ نومبر 1919ء کو دہلی میں کیا گیا تھا اور 28 دسمبر 1919ء کو امرتسر میں اس کا پہلا اجلاس مولانا عبدالباری فرنگی محلی کی زیر صدارت منعقد ہوا تھا جسے ستانوے برس ہوگئے ہیں ۔جمعیۃ علماءِ ہند اور جمعیۃ علماءِ اسلام دو الگ الگ تنظیمیں ہیں یہ المیہ ہے کہ جمعیۃ علماءِ اسلام پاکستان میں جمعیۃ علماء ہند کے بزرگوں کی عظیم الشان جدوجہد اور قید وبند کی صبر آزما صعوبتوں کو اپنی تاریخ کا حصہ قرار دے کر تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کررہی ہے اور بقول مجید لاہوری:

’’تیری پگڑی میری شان‘‘

کا مصداق بن رہی ہے ۔’’شیر کی کھال پہن لینے سے کوئی آدمی شیر نہیں بن جاتا‘‘ جبکہ جمعیۃ علماء اسلام کی حالیہ کارگذاری ہدفِ تنقید بنی ہوئی ہے، جمعیۃ علماءِ اسلام کے موجودہ امیر نے کلمۂ حق بلند کرنے کی پاداش میں کبھی جیل خانے کی ہوا کھائی ہے ؟ اور اپنے بھائیوں اور جماعتی رہنماؤں کے لئے وزارتوں ، مختلف محکموں کی چیئرمینی اور ممبر شپ کے حصول کے سو ا انہوں نے کیا خدمات انجام دی ہیں؟ امیر جمعیۃ وفاقی حکومت کی خوشنودی میں ایم کیو ایم کو منانے کراچی جاسکتے ہیں۔ وزیراعظم کا اقتدار بچانے لندن یاترا کرسکتے ہیں۔ کیا انہوں نے اپنی جماعت میں ’’س ، ق ‘‘ کی دھڑے بندیوں، تحریک، تنظیم اور مجلس ختم نبوت کے کئی گروپوں کو اکٹھا کرنے اور امت میں وحدت ومفاہمت کی خاطر بھی کبھی کوئی زحمت اٹھائی او ر ’’اسلام بچاؤ‘‘ کے سلسلے میں بھی کبھی کوئی تحریک چلائی ہے؟جمعیۃ علماء اسلام دو صوبوں (سرحد اور بلوچستان) میں حکمران رہی ہے اور مولانا مفتی محمود ؒ صوبہ سرحد کے بااختیار وزیراعلی اور ملک کے مؤثر مذہبی وسیاسی رہنما رہے ہیں ان کے دورِ حکمرانی میں صوبہ سرحد کا کوئی مختصر نام ’’پختون یا خیبر‘‘ کیوں نہ رکھا جاسکا؟ اور موجودہ امیر کے دورِ امارت میں اربوں کھربوں کی ریل پیل میں جشن منانے پر سرمایہ ضائع کرنے کے بجائے جمعیۃ علماء اسلام کی تاریخ لکھی اور شائع کی جائے تو آیندہ نسلیں بھی استفادہ کرسکتی ہیں، علماء کرام کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیئے جن سے ان کی ذات ہدف تنقید وتضحیک بن جائے اور علماء دیوبند کو خفت سے نگاہیں زمین پر مرکوز کرکے گذرنا پڑے ۔

آج طاغوتی قوّتیں حق وصداقت کے غلبے پر افسردہ اور پیچ وتاب کھا رہی ہیں اور مختلف اخبارات اور برقی میڈیا پر عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے سلسلے میں پاکستان میں کئے گئے اسلامی اقدامات کو ایک سیاسی اقلیت کا غیر مؤثر اقدام قرار دے رہی ہیں۔ پاکستان میں ختمِ نبو ت کے مقدّس نام پر کئی تنظیمیں کام کررہی ہیں جبکہ ختمِ نبوت کا مقصد ہی امتِ مسلمہ کی وحدت ویگانگت ہے، لوگ ختمِ نبوت کے عقیدے کے تحفظ کی خاطر دل کھول کر چندہ دیتے ہیں؛ لیکن آج تک کسی بھی تنظیم نے نہ تحریکِ ختم نبوت کی بابت صحیح معلومات فراہم کی ہیں کہ اس کا آغا ز کہاں سے اور کب ہوا تھا اور نہ ہی کوئی مصدّقہ تاریخ شائع کی گئی ہے۔ عالمی مجلسِ ختم نبوت اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہے ، اس کا کوئی ضابطہ اور قاعدہ قانون وضع نہیں ہے، ایک خاندان کا فرد کئی برس سے قابض ہے۔ مذہبی تنظیموں میں کرپشن روکنے کے لئے الیکشن کمیشن کی زیرِ نگرانی ان کے قوعد وضوابط مرتب کرائے جائیں جس کے مطابق انتخاب عمل میں آئے اور تین سال سے زیادہ کوئی عہدے پر قابض نہیں رہنا چاہیے ۔

جہاں تک اسلامی نظریاتی کونسل کے نئے فیصلے کا تعلق ہے اس کے مطابق عورت اگر مرتد ہوجائے تو اس پر کوئی گرفت نہیں، خدانخواستہ اگر کوئی عورت ہندو، عیسائی اورمنکرینِ ختم نبوت کی جماعت قادیانیت اختیا ر کرلیتی ہے تو اس کو کوئی سزا نہیں دی جاسکتی جو نظریہ اسلام کے خلاف ہے۔ اسلام کے نازک مسائل کی بابت غلط فیصلوں کا اعلان کرنے سے پہلے کسی معتبر اور محقق عالمِ دین مثلاً شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کی زیرِ قیادت محقق علماء کرام کو اسلامی نظریاتی کونسل کے متنازعہ فیصلوں کا جائزہ لے کر قوم کو صحیح اسلامی عقائد ونظریات سے آگاہ کرنا چاہیئے اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سیاسی چیئرمین کو اپنے سیاسی اراکین ہی سے نہیں بلکہ مختلف مکاتب فکر کے جیّد اور محقق علماء کرام ، دانشوروں اور قانون دانوں سے مشاورت کے بعد اسلامی فیصلوں کا اعلان کرنا چاہیئے۔جہاں تک مرد اور عورت کے مرتد ہوجانے کا تعلق ہے اس سلسلے میں مفصل معلومات سے پہلے ایک حوالہ پیش خدمت ہے جس سے متنازعہ مسئلے کی بابت معلومات حاصل ہوسکیں گی۔ علامہ امداد صابری نے یکم جنوری 1944ء کو اپنی کتاب ’’تاریخ جرم وسزا ‘‘ کے صفحہ 142 پر عہدِ عالمگیر کے دور حکومت میں مسلم منکوحہ مرتدہ کی سزا کے زیرِ عنوان لکھا ہے کہ:

’’اگر کوئی منکوحہ عورت مرتد ہوجاتی تو اس کا نکاح اپنے خاوند سے فسخ ہوجاتا تھا لیکن نہ اس حد تک کہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلے بلکہ وہ حقیقی طور پر اپنے پہلے خاوند کی بیوی رہتی ، اور ازروئے شرع اسلام اس کو قید کیا جاتا اور اس وقت تک قید رکھا جاتاتھا کہ وہ توبہ کرلیتی اور دوبارہ اسلام قبول کرلیتی تب اس کے خاوند کے ساتھ اس کے نکاح کی تجدید کی جاتی تھی۔مرتد اسلام کو مسلمان ہونے کی تلقین کی جاتی تھی اس کے شبہات دور کئے جاتے تھے انکار کی صورت میں تین دن تک قید کیا جاتا تھاپھر بھی انکار کرتا تو اسے قتل کردیا جاتا۔جو شخص تین مرتبہ مسلمان ہوکر مرتد ہوجاتا تھا اس کو تلقین نہ کی جاتی تھی بلکہ قتل کیا جاتا تھا۔‘‘ ( تاریخ جرم وسزا ۔صفحہ 142)

مندرجہ بالا حوالے سے یہ بات تو ثابت ہوئی کہ مرتد ہونے والا مرد اور مرتدہ ہونے والی عورت دونوں کو شرع اسلام کی رو سے سزا دی جائے گی لیکن مرد اور عورت کی سزاؤں میں فرق یہ ہے کہ مرد قتل کیا جائے گا اور عورت کو قید میں رکھا جائے گا۔جہاں تک غیر منکوحہ مسلم مرتدہ عورت کی سزا کا تعلق ہے اس کی بابت بھی اسلامی نظریاتی کونسل کو رہنمائی کرنی چاہیئے، اور یہ بتانا چاہیئے کہ تاریخ اسلام میں سجاح نامی عورت کو جس نے یہ کہہ کر نبوت کا دعوی کیا تھا کہ رسول کریم ﷺ نے ’’لانبی بعدی‘‘ فرمایا ہے ’’لانبیۃ بعدی‘‘ نہیں فرمایا ۔ یعنی رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی مرد نبی نہیں ہوگا عورت کا آپﷺ نے کوئی حوالہ نہیں دیا (نعوذ باللہ )۔ اسلامی نظریاتی کونسل کو ان تمام شکوک وشبہات کا اور غیر اسلامی نظریات کا واضح طور پر ازالہ کرکے صحیح رہنمائی کرنا چاہیے۔

مزید : کالم