پھلوں کی بلا جواز مہنگائی کے خلاف مہم کی کامیابی

پھلوں کی بلا جواز مہنگائی کے خلاف مہم کی کامیابی

سول سوسائٹی کی طرف سے رمضان المبارک کے دوران پھلوں کی قیمتوں میں بلا جواز اضافے اور بے انتہا منافع خوری کے خلاف تین روزہ مہم نتیجہ خیز ثابت ہو رہی ہے۔ مہم کے پہلے دو دِنوں میں اِس مہم کی حمایت سندھ اور پنجاب کی حکومتوں اور انتظامیہ نے بھی کر دی، جبکہ پھلوں کی خریداری میں50فیصد کمی نوٹ کی گئی۔ سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں دی گئی افطاری میں پھلوں کو شامل نہ کرنے کی ہدایت کر دی۔ افطار پارٹی میں مہمانوں کو کھجوروں سے روزہ افطار کرایا گیا، جبکہ دہی بھلے اور پکوڑے پیش کئے گئے۔ یہ امر نہایت خوش آئند ہے کہ ناجائز منافع خوری اور مصنوعی مہنگائی کی روک تھام کے لئے عوامی سطح پر مہنگے پھلوں کا بائیکاٹ کیا گیا ہے۔یہ احتجاج پہلی بار کیا جا رہا ہے اور موثر ثابت ہُوا ہے،منڈیوں کے بڑے بڑے آڑھتیوں کی طرف سے ہر سال رمضان المبارک کے موقع پر منہ مانگے داموں پھل فروخت کرنے کے لئے مُک مُکا کر کے روزہ داروں کو مہنگے پھل خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس کے خلاف حوصلہ افزا عوامی ردِعمل سامنے آیا ہے۔احتجاج اور بائیکاٹ کے دوسرے روز ہی پھلوں کی قیمتوں میں واضح کمی نوٹ کی گئی ہے۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ صرف پھل ہی نہیں، کھانے پینے کی دوسری اشیا کی بہت زیادہ مہنگائی پر بھی ایسی ہی مہم عوامی حلقوں کی طرف سے ازخود شروع کرنی چاہئے۔ سبزیوں میں پیاز، ٹماٹر، آلو اور تھوم ادرک وغیرہ کے دام وقفے رقفے سے بہت زیادہ بڑھا دیئے جاتے ہیں۔ اگر لوگ طے کر لیں کہ انتہائی مجبوری کے سوا مصنوعی طور پر مہنگے داموں خریداری نہیں کریں گے تو مہنگائی کا مسئلہ خودبخود حل ہو جایا کرے گا۔ اس سلسلے میں حکومتی سطح پر عوامی حلقوں سے تعاون ضرور کیا جانا چاہئے۔

مزید : اداریہ