کراچی اور لاہور میں پانی کی قلت!

کراچی اور لاہور میں پانی کی قلت!

دورحاضر میں بجلی پانی کا چولی دامن کا ساتھ ہے کہ بجلی ہو گی تو ٹیوب ویل اور پمپ چلیں گے اگر بجلی موجود نہ ہوئی تو یہ بھی بند ہو جاتے ہیں اور پھر نتیجہ بھی قدرتی طور پر پانی کی فراہمی میں رکاوٹ ہے، یہی کچھ کراچی میں ہو رہا ہے کہ کے۔ الیکٹرک کمپنی کی ’’مہربانی‘‘ سے کراچی میں بجلی کے بحران پر قابو نہیں پایا جا سکا اور رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں لوگ سحری اور افطاری اندھیرے میں کرنے پر مجبور ہیں۔ شہری مظاہرے بھی کر رہے ہیں لیکن دادرسی نہیں ہو رہی اور اب یہ اطلاع زیادہ پریشان کن ہے کہ پانی کی بھی شدید قلت پیدا ہو گئی واٹر بورڈ حکام کے مطابق بجلی نہ ہونے سے پمپ نہیں چل رہے تو پانی کیسے مہیا کیا جائے ۔ اس صورت حال نے کراچی والوں کا پرانا جاری المیہ اور بھی شدید کر دیا اور وہ ٹینکر مافیا کے ہاتھوں لٹنے لگے ہیں جبکہ دیگر آبادیوں کے باسی برتن اٹھائے دور دور بھٹکتے ہیں۔ سندھ حکومت اپنا بوجھ وزارت پانی و بجلی پر منتقل کر رہی ہے کہ سندھ کے ساتھ بجلی کی سپلائی میں امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔ یوں یہ بیل آپس میں سینگ پھنسائے ہوئے ہیں اور عوام گھاس کی طرح مصیبت میں مبتلا ہیں۔ کے الیکٹرک کمپنی کے حوالے سے وفاقی اور سندھ کی حکومتیں نالاں ہیں لیکن حل کوئی نظر نہیں آ رہا۔ کراچی میں پانی کی قلت تو بجلی اور واٹر بورڈ کی مہربانی سہی لیکن لاہور کے متعدد علاقوں میں یہ تکنیکی وجہ سے ہے کہ واسا کی نو سب ڈویژنوں میں فنی خرابی کے باعث ٹیوب ویل خراب پڑے ہیں اور پانی کی بہمرسانی متاثر ہوئی ہے اس سے اقبال ٹاؤن، مزنگ، گرین ٹاؤن، محمود بوٹی، باغبانپورہ، شالیمار سکیم، اسلام پورہ اور گلشن راوی کے علاقے متاثر ہوئے لوگوں کو پانی نہیں مل رہا، یہ خبر بھی ہے کہ لاہور کے متعدد ڈسپوزل سٹیشنوں پر نصب پمپ بھی پرانے اور مرمت نہ ہونے کے باعث خراب ہیں اور نکاسی آب کا نظام بھی متاثر ہوا ہے۔ یہ صورت حال واضح طور پر محکمانہ غفلت کی غماز ہے۔ کراچی میں کے۔ الیکٹرک کے خلاف تاحال کوئی عملی کارروائی نہیں کی گئی۔ وفاق اور صوبے کو باہم مل کر اس کا سدباب کرنا چاہیے کہ یہ نجکاری کا نتیجہ ہے اسی طرح لاہور میں ان سرکاری افسروں اور اہل کاروں کی سرزنش اور ان کے خلاف کارروائی ضروری ہے جن کی غفلت کے باعث بروقت فنی نقائص دور نہیں کئے گئے اور پانی کی بہمرسانی میں مشکل ہوئی۔ ان حکام کے خلاف کارروائی کی جائے جو ڈسپوزل پمپوں کی بروقت مرمت سے قاصر رہے۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت کو فوراً حرکت میں آنا چاہیے اور محکمانہ کارروائی کے ساتھ ساتھ مرمت اور بحالی کا کام بھی کروانا چاہیے۔

مزید : اداریہ