آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم
 آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

  


دسویں تراویح

سورۃ الکہف : 18 ویں سورت

سورۃ الکہف مکی سورت ہے، 110 آیات اور 12 رکوع ہیں۔ پندرھویں پارہ کے تیرھویں رکوع سے شروع ہو کر سولہویں پارہ کے تیسرے رکوع تک ہے۔ اس سورۃ مبارکہ میں اصحاب کہف کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ واقعہ رومی بادشاہ ’’دقیانوس‘‘ کے دور میں شہر ’’افس‘‘ میں 250ء میں پیش آیا۔ جائے واقعہ ترکی کے شہر ازمیر کے قریب ہے ’’کہف‘‘ عربی میں غار کو کہا جاتا ہے۔ اسی سورت میں حضرت خضر، ذوالقرنین اور یاجوج ماجوج کا واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے۔ اس سورت کو ہر جمعہ کے روز تلاوت کرنا مسنون ہے۔ روایات کے مطابق جمعہ کے روز سورۃ کہف پڑھنے سے آٹھ دن کے گناہ معاف ہوتے ہیں، رزق میں اضافہ ہوتا ہے اور درجات بلند ہوتے ہیں۔

حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان منکروں کی وجہ سے غم نہ کریں اور اصحاب کہف چند جوان تھے جو مشرکوں سے تنگ آ کر ایک غار میں پناہ گزیں ہو گئے تھے۔ اللہ نے چند سال تک ان کو سلائے رکھا۔ پھر جب وہ بیدار ہوئے تو سب سے پہلے انہوں نے اپنے رب کو یاد کیا اور اپنے ایمان کا اقرار کیا۔ وہ غار ایسا تھا کہ جس میں سورج کی کرن طلوع یا غروب کے وقت کبھی داخل نہ ہوتی تھی۔ اور وہ حضرات اس میں سوتے سوتے کروٹیں بھی لیتے تھے کہ دیکھنے والے سمجھتے تھے کہ وہ جاگ رہے ہیں اور ان کا کتا غار کے منہ پر اپنے دونوں بازو پھیلائے ہوئے اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ گویا وہ کاٹنے کو دوڑے گا اور دیکھنے والے اسے دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوتے۔ وہ لوگ جب بیدار ہوئے تو انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو کھانا لانے کے لئے آبادی میں بھیجا اور تاکید کر دی کہ سب سے زیادہ پاکیزہ کھانا لائے۔ اس طرح لوگوں کو ان کا پتہ چل گیا اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ جس طرح برسوں تک سونے والے بیدار کئے جا سکتے ہیں، اسی طرح مرنے کے بعد بھی لوگ قیامت کے دن زندہ کر دیئے جائیں گے۔ اصحابِ کہف کے متعلق لوگوں میں اختلافات ہوئے۔ پھر اس غار کے دہانے پر ایک مسجد بنا دی گئی۔ اور اللہ ہی کو اصحاب کہف کی صحیح تعداد اور ان کے سوئے رہنے کی مدت معلوم ہے۔ وہی عالم الغیب ہے۔ اور مصاحبت اور دوستی کے لئے مومن اور نیک لوگ جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں، اختیار کئے جائیں۔ چاہے وہ غریب ہوں کہ جن سے امیروں کو اعراض ہوتا ہے۔اب موسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے کہ وہ اور ان کے خادم (یوشع) ایک سفر میں بھنی ہوئی مچھلی، توشہ کے طور پر لیکر روانہ ہوئے۔ راستے میں وہ ایک جگہ سو گئے۔ وہ مچھلی زندہ ہو کر دریا میں چلی گئی۔ بیدار ہونے کے بعد آگے بڑھے اور جب کھانے کا وقت آیا تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے وہ بھنی ہوئی مچھلی طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ میں بتانا بھول گیا تھا کہ وہ پانی میں چلی گئی۔ وہ دونوں واپس آئے تو انہیں اللہ کا ایک خاص بندہ (یعنی حضرت خضرؑ ) مل گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے درخواست کی کہ ساتھ کر لیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ صبر کے ساتھ ہماری رفاقت نہ کر سکیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ انشاء اللہ میں صبر سے کام لوں گا۔ تب انہوں نے فرمایا کہ اچھا چلو،لیکن جب تک کسی معاملے میں کوئی تشریح میں خود نہ کروں، آپ کوئی سوال نہ کیجئے گا۔ اس کے بعد یہ دونوں حضرات چلے اور ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ حضرت خضر ؑ نے کشتی کا تختہ توڑ دیا۔ موسیٰ علیہ السلام بول اٹھے کہ کیا آپ کشتی کے لوگوں کو ڈبونا چاہتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ آپ صبر و ضبط نہ کر سکیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے معذرت کی۔ اور پھر دونوں آگے بڑھے اور ایک لڑکا ملا تو حضرت خضر علیہ السلام نے اسے قتل کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام پھر بول اٹھے کہ آپ نے ایک بے گناہ کو قتل کر دیا۔ خضر علیہ السلام نے پھر فرمایا کہ دیکھئے، آپ پھر صبر نہ کر سکے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا، اچھا، اب اگر کچھ پوچھوں، تو مجھے ساتھ نہ رکھئے گا۔ اب پھر یہ آگے بڑھے اور ایک گاؤں والوں سے کھانا مانگا۔ انہوں نے نہیں دیا۔ اتنے میں گاؤں کی ایک دیوار گرتی ہوئی نظر آئی تو خضر علیہ السلام نے درست کر دی۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ آپ چاہتے تو اس کی مزدوری لے سکتے تھے (تاکہ خوردونوش کا سامان ہو جاتا)۔ خضر ؑ نے کہا کہ اب میری اورآپ کی جدائی ہے، لیکن اپنے کاموں کی مصلحت بتا دی کہ وہ سب اللہ ہی کے حکم سے کیا گیا تھا۔ وہ کشتی چند مسکینوں کی تھی۔ اسے عیب دار کر دیا گیا تھا تاکہ وہاں کا بادشاہ اس پر قبضہ نہ کر لے۔ وہ لڑکا جو قتل کیا گیا تھا مومن اور صالح والدین کا تھا۔ بڑا ہو کر کفر اور سرکشی کرتا اس لئے قتل کر دیا گیا۔ وہ دیوار دو یتیم بچوں کی تھی جس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ مومن صالح تھا۔ وہ دیوار درست کر دی گئی تاکہ ان بچوں کے جوان ہونے تک وہ محفوظ رہے۔ اب ذوالقرنین کا قصہ ہے کہ وہ ایک صاحب حشمت بادشاہ تھے۔ ایک روز مغرب کی انتہائی حدود کو پہنچے تو وہاں ایک قوم ملی جس میں ایماندار اور عمل صالح والے بھی تھے اور کفر والے بھی تھے۔ اسی طرح وہ مشرق کی انتہائی حدود تک پہنچے کہ وہاں سورج کا قرب تھا، پھر وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچے اور ایسے لوگوں کو پایا جو کوئی بات نہ سمجھتے تھے۔ ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے یا جوج و ماجوج قوم کے فساد کا ذکر کیا اور عرض کیا کہ ایسی دیوار بنا دیجئے کہ وہ مفسد قوم ہماری طرف نہ آ سکے، چنانچہ لوہے کی چادروں سے اور پگھلائے ہوئے تانبے سے وہ دیوار مضبوط کر دی گئی تاکہ یاجوج و ماجوج اس پر نہ چڑھ سکیں اور نہ اس میں سوراخ کر سکیں۔ پھر جب قیامت قریب آئے گی تو وہ دیوار پاش پاش کر دی جائے گی۔ اللہ کی باتوں اور کلمات کو لکھنے کے لئے اگر سمندر، سیاہی بن جائیں تب بھی وہ کلمات ختم نہ ہو سکیں گے۔ اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم بظاہر بشر ہیں ،لیکن ان پر وحی آتی ہے جس میں تعلیم ہے کہ اللہ ایک ہے۔ پس جسے اپنے رب سے ملنے کی آرزو ہو تو وہ عمل صالح کرے اور اللہ کا کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔

سورۃ مریم :19ویں سورت

سورۃ مریم مکی ہے ،98، آیات اور 6رکوع ہیں، سولہویں پارہ کے چوتھے رکوع سے شروع ہوتی ہے، اس سورت پاک میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی عصمت کا بیان ہے اور عیسائیوں کے غلط عقائد کی اصلاح کی گئی ہے۔ حبشہ میں نجاشی بادشاہ کے دربار میں جب اہل مکہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے صحابہ کرامؓ کو نکلوانے کیلئے الزامات لگائے تو حضرت جعفر طیارؓ نے شاہ نجاشی (جو کہ عیسائی تھا) کے سوالات کے جواب میں یہی سورت مریم تلاوت کی تھی جس پر نجاشی تنکا اٹھا کر کہنے لگا، ’’اس کے برابر بھی غلط بیانی نہیں ہوئی۔‘‘ سورت کے شروع میں زکریا علیہ السلام کا ذکر ہے کہ وہ بوڑھے ہو چکے تھے اور ان کی اہلیہ بانجھ تھیں ،لیکن انہوں نے اولاد کے لئے دعاکی تو ان کو بیٹے کی بشارت ملی۔ اللہ ہی نے ان کا نام یحییٰ رکھا جن کو بچپن ہی میں نبوت دی گئی۔ وہ بڑے متقی اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والے تھے اور ان پر اللہ کی سلامتی ہے۔ اب مریم ؑ کی پارسائی اور ریاضت کا ذکر ہے کہ ان کے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور بیٹے کی بشارت دی ۔وہ تعجب میں تھیں کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ مریم علیھا السلام پر لوگوں نے بہتان لگایا تو انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے جھولے ہی میں فرمایا کہ ’’ میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے نبی بنایا۔‘‘ یہ بھی فرمایا کہ مجھے اللہ نے مبارک بنایا (تاکہ لوگوں کو نفع پہنچا سکوں) اور مجھے نماز اور زکوٰۃکے لئے تاکید بھی فرمائی۔ عیسیٰ علیہ السلام کو جو لوگ خدا کا بیٹا کہتے تھے ان کی بھی تردید کر دی گئی ہے۔ اللہ کسی کو اپنا بیٹا نہیں ٹھہراتا۔ ابراہیم علیہ السلام نے بھی حق کی دعوت دی تھی۔

سورۃ طٰہٰ :20ویں سورت

سورۃ طٰہٰ مکی ہے، 135، آیات اور آٹھ رکوع ہیں، سولہویں پارہ کے نویں رکوع سے شروع ہو کر پارہ کے آخر تک ہے۔ اس سورت میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام بالخصوص حضرت موسیٰؑ کے واقعات بیان کرکے بتایا گیا ہے کہ دشمنوں کی تمام تر دشمنی کے باوجود اللہ کس طرح عظمت عطا فرماتا ہے۔ دین محمدی ؐکے عروج اور رسول پاکؐ کی شان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو نبوت حاصل ہوئی تو اس کا واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے طور پر ایک آگ دیکھی ، وہاں پہنچے تو آواز آئی کہ میں تیرا رب ہوں، یہاں اپنے جوتے اتار ڈال اور میں نے تجھے پسند کیا۔ موسیٰ علیہ السلام کو وحی ہوئی، اللہ کی عبادت اور نماز کے قیام کا حکم ہوا، منکروں سے بچنے کی ہدایت بھی ہوئی۔ اللہ سے پیار کی باتیں ہوئیں کہ اے موسیٰؑ ، یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے۔ عرض کیا کہ یہ میرا عصا ہے۔ اس پر ٹیک لگاتا ہوں اس سے بکریوں کو ہانکتا ہوں (درختوں سے پتے جھاڑتا ہوں) پھر دو معجزے یعنی لاٹھی کا اژدہا اور یدِبیضا عطا فرمائے گئے۔ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ان کے بھائی ہارون علیہ السلام مدد گار کے طور پر پیغمبر بنائے گئے۔ موسیٰ علیہ السلام کے بچپن کا ذکر بھی ہے کہ انہیں کس طرح فرعون سے بچایا اور وہ صندوق کے اندر تھے کہ دریا میں ڈال دیئے گئے۔ پھر باہر آئے اور فرعون نے ان کی پرورش کی اور انہی کی والدہ نے انہیں دودھ پلایا۔ کچھ بڑے ہوئے تو ایک کافر کو قتل کردیا ،لیکن اللہ نے ان کو مواخذہ سے بچایا۔ پھر مدین میں وہ شعیب علیہ السلام کے پاس رہے۔ اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام دونوں کو فرعون کے پاس بھیجا گیا تاکہ اس کی اصلاح ہو اور وہ بنی اسرائیل کو قید و بند سے آزاد کر دے۔فرعون نے ایک دن اپنے جادو گروں کو مقابلہ کرانے کے لئے جمع کیا۔ انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں تو وہ دوڑتے ہوئے سانپ معلوم ہوئیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا ڈالا تو وہ تمام سانپوں کو جو (جادو سے تیار ہوئے تھے) نگل گیا۔ وہ جادو گر سب سجدے میں گر گئے اور ایمان لے آئے۔ فرعون ان پر ناراض ہوا ،لیکن انہوں نے اس کی پروا نہیں کی اور وہ ایمان پرقائم رہے۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کو وحی ہوئی کہ بنی اسرائیل کو (جن پر فرعون ظلم و ستم کر رہا تھا) دریا کے پار لے چلیں اور فرعون کا خوف نہ کریں۔ جب وہ آگے بڑھے تو فرعون نے اپنے لشکر کو ساتھ لے کر ان کا پیچھا کیا تو دریا نے اس کو اور اس کے لشکر کو غرق کر دیا۔ اس طرح بنی اسرائیل نے جب ان لوگوں سے نجات پائی تو انہیں کوہ طور پر تورات دینے کا وعدہ فرمایا۔ من وسلویٰ بھی عطا ہوا اور پاکیزہ چیزیں بھی کھانے کو دی گئیں ۔ موسیٰ علیہ السلام تورات لینے کے لئے طور پر چلے گئے، بقیہ قوم جو ہارون علیہ السلام کے پاس چھوڑ دی گئی تھی، سامری کے بچھڑے کی پرستش میں مبتلا ہو گئی۔ موسیٰ علیہ السلام غصے میں وہاں گئے اور ہارون علیہ السلام پر بھی ناراض ہوئے کہ وہ کیوں اس قوم کو ایسی پرستش سے نہ بچا سکے۔ سامری پر بھی ناراض ہوئے اور اس کو سزا کے طور پر سب سے دور کر دیا۔ ان کی قوم جب سامری کے فساد سے محفوظ ہو گئی تو پھر اس کو تبلیغ کی گئی

مزید : کالم