مرکزی بینک اقتصادی صورتحال کی صحیح تصویر کشی نہیں کرتا

مرکزی بینک اقتصادی صورتحال کی صحیح تصویر کشی نہیں کرتا

اسلام آباد(کامرس ڈیسک) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ مرکزی بینک اقتصادی صورتحال کی صحیح تصویر کشی نہیں کرتا۔ یہ ادارہ بھی حکومت کو خوش کرنے کیلئے اپنی ساکھ خراب کر رہا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان اقتصادی صورتحال کے بارے میں بے لاگ رائے دے ورنہ اس ادارے پر عوام کا اعتماد ڈگمگا جائے گا۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ حال ہی میں مرکزی بینک کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ملک کی معاشی صورتحال کی ایسی تصویر کشی کی ہے جو ناقابل یقین ہے۔ سٹیٹ بینک اب ٹھوس حقائق کے بجائے امکانات اور امیدوں پر زیادہ بات کرتا ہے جوبد دیانتی ہے ۔بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے ، سرمایہ کاری میں کمی اور ترسیلات کے زوال کو وقتی قرار دینا کسی بھی طرح درست نہیں۔اسی طرح بینک کی جانب سے گرتی ہوئی برامدات کیلئے نت نئے جواز گھڑنے سے حکومت کے علاوہ کوئی مطمئن نہیں ہوتا۔ مرکزی بینک نے برامدات میں اضافہ کو یقینی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریفنڈ کی ادائیگی کی یقین دہانی کر دی گئی ہے اور امن و امان و توانائی کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے اسلئے مستقبل میں برامدات بڑھیں گی جبکہ ملک قرضے اتارنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو اقتصادی تجزئیے سے زیادہ سیاسی بیان لگتا ہے۔حقیقت تو یہ ہے زرمبادلہ بڑھانے کے تمام شعبے جن میں برامدات، ترسیلات اور سرمایہ کاری شامل ہیں مسلسل زوال کا شکار ہیں اور مستقبل قریب میں ان میں اضافہ کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی ۔ درامدات مسلسل بڑھ کر زرمبادلہ کے ذخائر کو چاٹ رہی ہیں۔تیل کی قیمتوں میں کمی سے حکومت کو سات ارب ڈالر کی بچت ہوئی ہے جس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچا نہ اقتصادی حالت بہتر ہوئی جبکہ گردشی قرضے نے دوبارہ سر اٹھا لیا جو بد انتظامی کی روشن مثال ہے۔ اس صورتحال میں جو ریکارڈ قرضے حاصل کئے گئے ہیں جنھیں اتارنے کیلئے آئی ایم ایف سے مزید قرضے لینا ہی آخری آپشن ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ عوام کو تسلی دینے والے بیانات کیلئے ملک میں سیاستدانوں کی کوئی کمی نہیں اسلئے مرکزی بینک یہ کام نہ کرے۔

مزید : کامرس