جرائم پیشہ افرادسے منسلک کار خاص پولیس اہلکا روں کی چھانٹی کا فیصلہ

جرائم پیشہ افرادسے منسلک کار خاص پولیس اہلکا روں کی چھانٹی کا فیصلہ

لاہور( لیاقت کھرل) صوبائی دارالحکومت کے 86 تھانوں میں بغیر کسی قانون اور ضابطے کے ایس ایچ اوز کے 430 کارخاص اہلکاروں کا انکشاف، تیار ہونے والی خفیہ رپورٹ میں 203 اہلکاروں کا جرائم پیشہ افراد کے ساتھ مبینہ تعلقات،77 اہلکاروں کے خلاف قتل، اقدام قتل اور ڈکیتی جیسے سنگین الزامات ، قائم مقام آئی جی کے حکم پر کارروائی کے لئے شکنجہ تیار کر لیا گیا۔ ’’ پاکستان‘‘ کو ذرائع نے بتایا ہے کہ شہر کے 86 تھانوں میں کسی قانون اور ضابطے کے بغیر ایس ایچ اوز کے سینکڑوں کارخاص اہلکار کئی کئی ماہ سے تعینات ہیں جو کہ شہریوں کے لیے وبال جان بنے ہوئے ہیں اور ان کارخاص اہلکاروں کی تعداد 430 سے زائد بتائی گئی ہے جس میں 30 سے زائد ایسے ایس آئی تھانیدار بھی کارخاص کے طور پر تھانوں میں کام کر رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اس حوالے سے ایک خفیہ ادارے نے رپورٹ تیار کی ہے جس میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ کارخاص اہلکار بغیر کسی قانون اور ضابطے کے تعینات ہیں اور ایس ایچ اوز نے ان کارخاص اہلکاروں کو ڈی آئی جی آپریشن کے دفتر میں اسٹیبلشمنٹ برانچ کے افسران سے مبینہ طور پر گٹھ جوڑ کر کے کئی کئی ماہ سے اپنے ساتھ تعینات کر رکھے ہیں جن میں سے 203 اہلکاروں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کے علاقہ میں جرائم پیشہ افراد سے مبینہ تعلقات ہیں اور جرائم پیشہ افراد سے مبینہ تعلقات کے باعث منظم جرائم کا باعث بھی بن رہے ہیں جبکہ 77 اہلکاروں کا قتل ، اقدام قتل، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرم میں ملوث ہونے کے بارے بھی رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح 150 اہلکاروں کے خلاف اختیارات سے تجاوز اور مبینہ کرپشن اور بدعنوانی جیسے الزامات کے تحت سی سی پی او لاہور اور ایس پی ڈسپلن کے دفاتر میں شکایات پائی گئی ہیں جن میں سے 79 اہلکاروں کے خلاف سنگین الزامات پر کارروائی بھی کی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ قائم مقام آئی جی نے تھانہ کلچر کی تبدیلی کے لئے تھانوں میں کارخاص اہلکاروں کی تعیناتی کا سخت نوٹس لیا ہے اور سی سی پی او لاہور کو کارخاص اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے جس پر کارخاص اہلکاروں کے خلاف شکنجہ تیار کر لیا گیا ہے اور عیدالفطر سے قبل ہی سنگین جرم میں ملوث کارخاص اہلکاروں کے خلاف پینڈنگ کیسوں اور انکوائریوں کومکمل کرکے محکمانہ سزاؤں کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس میں مقدمات میں ملوث کارخاص اہلکاروں کے خلاف کیسوں کواینٹی کرپشن کو بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ تھانوں کو کارخاص اہلکاروں سے پاک کرنے کے لئے متعلقہ ڈویژنز کے ایس پیز کو الگ الگ احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ اس حوالے سے ایس پی سیکیورٹی عبادت نثار نے بتایا کہ سی سی پی او کے حکم پر تھانوں میں کارخاص اہلکار کی تعیناتی غیر قانونی ہے جس پر ایکشن لیا گیا ہے اور تمام کارخاص اہلکاروں کو جلد کھڈے لائن لگا دیا جائے گا۔

مزید : علاقائی