روزگارکی فراہمی سے دہشت گردی کم ہو سکتی ہے

روزگارکی فراہمی سے دہشت گردی کم ہو سکتی ہے

میاں محمد منشاء پاکستان کے نامور صنعتکار اور بزنس مین ہیں۔ دہائیوں سے کاروباری دنیا میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑنے والے میاں منشاء کا شمار ان چند افراد میں ہوتا ہے جو ہر سال ریکارڈ ٹیکس جمع کرواتے ہیں۔مالی 2015میں انہوں نے 100ارب ٹیکس جمع کروایاجو اپنی جگہ ایک ریکارڈ ہے۔ میاں محمد منشاء نشاط گروپ کے چیئرمین اور سی ای او ہیں۔

مشہور برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے پاکستان سے جس واحد بزنس مین کے ناشتے کا اہتمام کیا وہ میاں محمد منشاء ہیں۔جبکہ امریکی رسالے Forbesنے انہیں 2010میں دنیا 937واں امیر ترین شخص قرار دیا تھا۔

میاں محمد منشاء لاہور میں ایک چنیوٹی فیملی میں پیدا ہوئے۔ ان کا بچپن فیصل آباد میں گزرا اور بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد فیملی بزنس کو جوائن کیا۔ فیصل آباد سے ہی انہوں نے کاروباری سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ فیصل آباد میں ان کی ٹیکسٹائل مل نشاط ملز چند ایک بڑی ملوں میں سے ایک ہے۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لئے وہ لندن بھی تشریف لے گئے تھے۔ 2013تک ان کے اثاثوں کی کل مالیت اڑھائی ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی۔

نوے کی دہائی میں ہونے والی نجکاری سے ان کے گروپ نے بھرپور فائدہ اٹھایااور یوں وہ ٹیکسٹائل کے علاوہ بینکنگ، انشورنس اور سیمنٹ سیکٹر میں بھی آگئے۔ حال ہی میں انہوں نے لاہور میں ایک بلندوبالا کمرشل پلازہ ایمپوریم کے نام سے بنایا ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک فائیو سٹار ہوٹل بھی تعمیر کر رہے ہیں۔ ایم سی بی بینک نے مے بینک آف ملائشیا کے ساتھ بھی پارٹنرشپ کی ہے۔ اسی طرح وہ انڈونیشیا اور مشرق وسطیٰ میں بھی بینکنگ سیکٹر میں اہم پوزیشنیں لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان کا گروپ ڈیری ڈویلپمنٹ، پاور جنریشن اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بھی فعال ہے۔ ان کی تمام تر کمپنیاں مقامی اور لندن سٹاک ایکسچینج پر لسٹڈ ہیں۔

ایک وقت تھا جب وہ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن میں بہت سرگرم تھے لیکن 2008کے بعد سے انہوں نے ایسوسی ایشن کی سرگرمیوں سے کنارہ کشی کرکے پوری توجہ اپنے بزنس کی جانب مبذول کرلی ہے۔ وہ پاکستان کے مختلف اداروں کے بورڈ ز میں شامل ہیں۔ 23مارچ 2004میں انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔ 2010میں وہ Forbesمیگزین کی دنیا کے امیر ترین اشخاص کی فہرست میں آگئے۔ ان کے علاوہ کسی اور پاکستانی کا اس فہرست میں ذکر کبھی نہیں آیا۔ میاں محمد منشاء جنوبی کوریا کی ہیونڈائی کار مینوفیکچرنگ کمپنی سے بھی گفت و شنید کر رہے ہیں تاکہ پاکستان میں اس کا کار کی اسمبلنگ کا کام دوبارہ سے شروع کیا جا سکے۔

ان کے خاندان کا آپس میں بہت اتفاق رہا ہے ۔ وہ اپنے دادا کے بہت قریب تھے ۔ ان کی پیدائش قیام پاکستان کے وقت ہوئی تھی اس لئے وطن کی مٹی سے محبت ان کے نس نس میں سمائی ہوئی ہے۔ تب ان کے خاندان نے کلکتہ سے پاکستان ہجرت کی تھی۔ انہیں شروع سے دیانتداری سے کام کرنے کا سبق دیا گیااور 1969میں جب ان کے والد کی وفات ہوئی تو اس وقت ان کی عمر 22برس تھی۔ تب سے اب تک وہ فیملی بزنس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ ابتدا میں ناتجربہ کاری کے سبب انہیں کاروبار چلانے میں دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس زمانے میں مشرقی اور مغربی پاکستان میں اختلافات بڑھتے جا رہے تھے ۔ ایسی صورت حال میں ان کے لئے کاروبار کو بغیر تعطل کے چلانا اور بھی مشکل تھا۔

ان کے خیال میں پاکستان کے ٹیکس سسٹم میں بہتری لانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کیونکہ عوام کی اکثریت سرے سے سے ٹیکس ادا ہی نہیں کرتی۔ نتیجتاٌ ہمارے ملک میں بالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمارہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جب تک پاکستانی ٹیکس نہیں دیں گے تب تک پاکستان بطور ایک ملک کے کامیاب ملکوں کی فہرست میں نہیں کھڑا ہو سکے گا۔ ان کے خیال میں ٹیکس کی شرح کم ہونی چاہئے تاکہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس دینے کی جانب راغب ہوں۔ اس ضمن میں وہ روس کی مثال دیتے ہیں جہاں اس ماڈل کو اپنا کر دوگنا ٹیکس اکٹھا کیا گیا۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ جب تک گروتھ پر مشتمل پالیسیاں نہیں اپنائی جائیں گی تب تک پاکستان صحیح معنوں میں ترقی نہیں کر سکے گا۔

میاں محمد منشاء کا فلسفہ یہ ہے کہ کاروبار میں اضافے کا ایک مقصد ہونا چاہئے اور وہ یہ کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع حاصل ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کے لئے روزگار پیدا کرکے ہی ہم دہشت گردی سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔اسی طرح انسانیت کی خدمت بھی ان کی ترجیحات میں سے ایک ہے اور پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں نئے وارڈ کی تعمیر میں انہوں نے خطیر فنڈ فراہم کئے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے اسپتالوں کی مینجمنٹ انہوں نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ نئے کاروباری مواقع پر نظر رکھی ہے اوراس سے بھی بڑھ کر یہ ان پر اللہ کا کرم رہا ہے۔ انہوں نے امپوریم مال اس لئے قائم کیا ہے تاکہ لوگوں کو شاپنگ کے حوالے سے کلی آرام اور سکون کا تاثر رہے ۔ ان کے خیال میں تبدیلی انسان کا خاصہ ہے اور اسی تناظر میں ان کے تمام پراجیکٹس تیار کئے جاتے ہیں۔

جب انہوں نے بینکنگ اور انشورنس کے کام کا آغاز کیا تو انہیں بہت تنقید کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے محنت کو شعار بنا کر یہ نئے میدان مارے اور اسے اپنی بہت بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ اس وقت کل ملا کر ان کے پاس 50,000لوگ کام کرتے ہیں اور ہر نئی کامیابی پر ان کا سر اللہ کے حضور مزید جھک جاتا ہے اور ان کے دل میں کم وسائل والے افراد کی مدد کا جذبہ مزید گہرا ہو جاتا ہے۔

نہ صرف میاں منشاء بلکہ ان کی اہلیہ، ان کی بہو اور بیٹے سب مل کر خاندانی کاروبار دیکھتے ہیں ۔ بلکہ ان کی اہلیہ تو نشاط لینن کے نام سے ایک علیحدہ برانڈ چلا رہی ہیں اور اس فیلڈ میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے بیٹے اپنی اپنی یونیورسٹیوں کے بورڈ کے ممبر بھی ہیں اور نوجوان طلباء کی ہر طرح مدد کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان خوشحال، جمہوری اور تشددد سے پاک ملک کے طورپر جانا جائے اور یہاں ہر کسی کو آگے بڑھنے کا موقع ملے۔ انہیں اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جب بھی بحرانی کیفیت پیدا ہوئی پاکستانیوں نے مثالی اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے اور ناقدین کے اندازوں کو غلط ثابت کیا ہے۔ وہ قائد اعظم محمد علی جناح کے حوالے محمد خان جونیجو، نواز شریف ، شہباز شریف، شوکت عزیز ، یوسف شیرازی اور سید بابر علی سے متاثر ہیں ۔

مزید : ایڈیشن 2