معرکہ برمنگھم اور کرکٹ براڈ کاسٹ

معرکہ برمنگھم اور کرکٹ براڈ کاسٹ
 معرکہ برمنگھم اور کرکٹ براڈ کاسٹ

  

برمنگھم میں آج روایتی حریف پاکستان اور بھارت آمنے سامنے ہوں گے ۔ مجھے پاکستان کی ٹیم اب بھی زیادہ سے زیادہ 250رنز کرنے والی ٹیم دکھائی دے رہی ہے۔ یہ شاید بہت اچھا سکور ہوتااگر پاکستان کا باؤلنگ اٹیک ماضی کی طرح بہترین شمار ہوتا ۔ مدمقابل بھارت دنیا کی پانچ چھوٹی ٹیموں کو شکست دے چکا ہے اس کے ایکس مین اس کے بیٹسمین دھونی سمیت ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ ہماری ٹاپ آرڈر بیٹنگ میں اظہر علی، احمد شہزاد،بابر اعظم، سرفراز، حفیظ اور شعیب ملک وہ شہرت نہیں رکھتے جو کوہلی، روہت، یووراج، کارتک اور ریحانے کے حصے میں آئی ہے۔ پاکستان کے لیے اہم ترین مسئلہ پاوربیٹنگ کا ہے۔ ورلڈ کپ کے پہلے دومیچوں میں جس طریقے سے بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ نے ابتدائی اوورز میں اپنے ٹاپ آرڈر بیٹسمینوں کے ذریعے تیز ترین رنز بنائے۔ اظہر علی، احمد شہزاد اور حفیظ وغیرہ میں وہ دم خم نہیں ۔پاکستان بھارت کے مقابلے میں نسبتاً کمزور ٹیم ہے اور یہی پریشر بھارت پر ہوسکتا ہے۔ موسمیاتی پیش گوئی کے مطابق برمنگھم میں بارش ہوگی۔ چیمپئنز ٹرافی کا دوسرا میچ بارش کی نذر ہوچکا ہے۔ کرکٹ سے ہٹ کر اگر کرکٹ کے اداروں پر نظر ڈالی جائے تو حال ہی میں پی سی بی کو دومحاذوں پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی بورڈنے پاکستان کرکٹ بورڈ سے باہمی کرکٹ کھیلنے سے انکار کیا۔جبکہ حال ہی میں پاکستان کا دورہ کرنے والے افغانستان کرکٹ بورڈ کے سرکردہ عہدے دار نے پاکستان کے خلاف نہ صرف سیاسی بیان دیا بلکہ یہ بھی اعلان فرمایا کہ وہ پاکستان سے کرکٹ نہیں کھیلنا چاہتے۔ بھارتی کرکٹ ٹیم ایک مقبول ٹیم رہی ہے لیکن مکمل تباہ حال افغانستان اور ان کی کرکٹ ابھی بین الاقوامی معیار اور تقاضوں سے کافی پیچھے ہے۔ تاہم اس کے کرکٹ بورڈ کا درجہ بھارتی پشت پناہی کی غمازی کرتا ہے۔ لاہور میں نجم سیٹھی اور شہریار ایم خان کو افغان کرکٹ بورڈ کے صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس نہیں کرنی چاہیے تھی۔ اس سے افغان کرکٹ بورڈ کے صدر اپنی اہمیت کے حوالے سے غلط فیصلہ کربیٹھے اور یوں پاکستان کی کرکٹ کے حوالے سے وہ بیان واغ دیا جس سے ہمارے کرکٹ بورڈ اور قومی مورال پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ برمنگھم میں آج پاکستان بھارت کے خلاف نبرد آزما ہے ۔بھارت کی یہ دوغلی پالیسی ہے اور اس کا تذکرہ پاکستانی میڈیا اور کرکٹرز کو عالمی سطح پر کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں کرکٹ بورڈ ماہرین کرکٹ اور حکومت کی دورائے نہیں ہونی چاہیے۔ بدقسمتی سے کرکٹ کے میدان اور اس کے باہر بھی پاکستان کو پسپائی کا سامنا ہے۔افسوس کہ اس وقت ڈومیسٹک اور بین الاقوامی کرکٹ میں ہمارا معیار اور انتظام پست ترین مقام پر ہے۔ اگر پاکستان جیت گیا تو بھارت کے خلاف آج کی جیت ہماری کرکٹ کو ایک نئی زندگی اورقوت عطا کرسکتی ہے۔ آج بھارت کے خلاف ٹاس اہم ہوگا۔ اس کی بنیاد پر بیٹنگ اور باؤلنگ کا فیصلہ صرف موسمی صورتحال کے مطابق کپتان کریں گے۔ تاہم صبح کے وقت وکٹ کی حالت کو اتنی اہمیت حاصل نہیں ہوگی۔ لگتا ہے آئی سی سی وکٹوں کے حوالے سے بیٹنگ ٹریک بنانا چاہتی ہے تاکہ کرکٹ اپنا دورانیہ مکمل کرے اور پچاس اوور کے کھیل سے تماشائی لطف اندوز ہوسکیں۔ آج بارش میچ کے نتیجے پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

کرکٹ کے فروغ کے حوالے سے ریڈیو پاکستا ن کا کردار بڑا اہم رہا ہے۔ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے براڈ کاسٹنگ حقوق ریڈیو پاکستان نے خطیر زرمبادلہ ادا کرکے حاصل کرلیے ہیں اور اس کے وسیع ترین نیٹ ورک پر کمنٹری نشر کی جارہی ہے جو ملک کے طول وعرض میں سنی جاسکتی ہے۔ عوامی خدمت کا یہ عظیم ادارہ روایت پر کاربند رہنے کی کوشش میں ہے۔ چیمپئنز ٹرافی میں کرکٹ کمنٹری نشر کرنے کے حوالے سے ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان اور کنٹرولر سپورٹس اینڈ مارکیٹنگ وحید شیخ شاندار مبارکباد کے مستحق ہیں۔ امید ہے کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

پاکستان میچ پر اپنی گرفت مضبوط کرسکتا تھا لیکن بدقسمتی سے کپتان نے اس صورتحال میں تجربہ کار کھلاڑیوں سے مشاورت نہیں کی۔ افسوسناک اختتام یوں ہوا کہ عماد وسیم نے آخری اوور میں وکٹ خریدنے کیلئے لمبی لمبی فلائٹس کیں جو بھارت کو تین سے چوبیس تک لے گئی۔ پانڈیو نے ان کی گیندوں پر آخری اوور میں تین چھکے لگائے۔ پاکستان کو ایک اچھا آغاز ملا پینتالیس پر پہلی وکٹ گری مگر اس کے بعد پاکستان کی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ پاکستان کا چیمپئنز ٹرافی کا آغاز مایوس کن ہے۔ کپتان سرفراز مایوس اور شکست خوردہ کھلاڑی اور کپتان کے طور پر نظر آئے۔ ان کے آؤٹ ہونے کا منظر بھی افسوسناک تھا۔ پاکستان کو ابھی دو میچ مزید کھیلنے ہیں بھارت کے خلاف عبرتناک شکست کے بعد آئندہ دو میچوں میں بہتر پرفارمنس کی توقع نہیں ہے۔

مزید :

کالم -