لیبیا کی قومی فوج کا وسطی علاقے الجفرہ پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ

لیبیا کی قومی فوج کا وسطی علاقے الجفرہ پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ

طرابلس (این این آئی)لیبیا کی قومی فوج نے وسطی علاقے الجفرہ پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق لیبیا کی قومی فوج کی بریگیڈ 12 کے میڈیا دفتر نے ہفتے کے روز الجفرہ کے ائیربیس پر دوبارہ قبضے کی تصدیق کی اور کہا کہ فوج کواب دہشت گردوں کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں ہے۔قبل ازیں لیبی فوج نے الجفرہ میں شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ جنگجوؤں کے زیر قبضہ علاقوں اور ان کے ٹھکانوں سے دو ر رہیں۔لیبی فوج نے مصر کی فضائی مدد سے الجفرہ میں جنگجوؤں کے خلاف یہ کارروائی کی ہے ۔مصرکے لڑاکا طیاروں نے جمعرات کی شب الجفرہ میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر دس فضائی حملے کیے تھے۔دریں اثناء لیبیا کی قومی فوج کے جنگجوؤں کے خلاف ’’ آپریشن وقار‘‘ کے ترجمان احمد المسماری نے کہا کہ عسکری قیادت کے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں بلکہ وہ علاقے سے دہشت گردوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتی ہے۔مسماری کا کہنا تھا کہ الجفرہ کے فوجی ہوائی اڈے پر کنٹرول کے بعد فوج اب قصبے بنی ولید اور مغرب کی جانب پیش قدمی کرے گی۔انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ مصری فضائیہ نے فوج کے ساتھ رابطے کے ذریعے مشرقی شہر درنہ میں جنگجوؤں کے ٹھکانے پر فضائی حملے کیے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’’ درنہ میں دو مصری دہشت گرد موجود تھے۔ان میں ایک ہاشم عشماوی کو مصر کی مسلح افواج سے برطرف کیا گیا تھا اور وہ اب جیش الحر مصری کے نام سے ایک نیا جنگجو گروپ تشکیل دے رہا تھا۔ دوسرے کمانڈر کا نام محمد سرور ہے اور وہ مہا جرین بٹالین کا کمانڈر ہے۔مصر کے جنوبی شہر المنیا میں قبطی عیسائیوں کی بس پر حملے کے بعد مصری لڑاکا طیاروں نے درنہ میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔

قبطی عیسائیوں پر حملے میں انتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے اور سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔مصری حکومت کا کہنا تھا کہ لیبیا میں موجود داعش کے جنگجوؤں نے اس حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

مزید : عالمی منظر