پاکستان کوسعودی عرب ایران میں صلح کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے: رحمن ملک

پاکستان کوسعودی عرب ایران میں صلح کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے: رحمن ملک

کراچی (این این آئی ) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر رحمن ملک نے کہا ہے پاکستان کوسعودی عرب اور ایران کے درمیان صلح کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے، وزیراعظم سب کام چھوڑ کر ایران اور سعودی عرب جائیں اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کرائیں ،اگر یہ صلح نہیں ہوئی تو مستقبل میں مجھے حالات خراب نظر آرہے ہیں، کلبھوشن کا کیس جس طرح عالمی عدالت میں لڑا گیا وہ بہت بھونڈا انداز تھا ، پاکستان اس کیس کو مربوط انداز میں لڑے،پاکستان خارجہ پالیسی نہ ہونے کے باعث تنہائی کا شکار ہو رہا ہے، پاکستان کو مضبوط خارجہ پا لیسی بنانے کی ضرورت ہے،مخالفین میرے وزارت داخلہ کے دور پر تڑکا نہ لگائیں، اگر تڑکا لگائینگے تو تکلیف میں آجا ئینگے ،میں نے کبھی مہاجر قوم کیخلاف کام نہیں کیا ،آصف علی زرداری علاج کیلئے بیرون ملک گئے ہیں اور جلد وطن واپس آجائیں گے،وزیراعظم کے صاحبز ا د ے نے جی آئی ٹی میں پیش ہوکر اچھا قدم اٹھایاہے،وفاقی حکومت حالات کو دھیمے انداز میں لیکر چلے ،جے آئی ٹی پر بھروسہ کرے ،حکومتی لو گ اگر سپریم کورٹ کو نظریں دکھائیں گے تو نقصان (ن) لیگ کو ہی ہوگا،اتوار کو اپنی رہائش گاہ پر افطار ڈنر کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے لندن واقعے کی مذمت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی طرف سے متاثرین سے ہمدردی کا اظہاربھی کیا ، انکا کہنا تھا دا عش کی جب میں باتیں کرتاتھا تو لوگ مذاق سمجھتے تھے،احسان اللہ احسان کا معاملہ سب سے پہلے میں نے اٹھایا تھا،وہ ملالہ سمیت جس بھی واقعے میں ملوث رہاہے اس کا ٹرائل ہوناچاہیے، سعودی عرب میں عالمی کانفرنس میں پاکستان کو جو پزیرائی ملنی چاہیے تھی ،وہ نہیں ملی ، د ہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو سراہا نہیں گیا ، پچاس ملکوں کی موجود گی میں نوازشریف کو ایران اور سعودی کے معاملہ میں کردار ادا کرناچاہیے تھا، مسلم ممالک کے فوجی اتحاد کی تجویز میں نے ایک اہم فورم پر دی تھی،وزیراعظم نواز شریف کو خط لکھا ہے جس میں مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کوسعودی اور ایران کے درمیان صلح کیلئے کردار ادا کرناچاہیے،ثالثی کیلئے جانے سے پہلے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلائیں،مسلم امہ میں اختلافات کا نقصان پاکستان کو بھی ہوگا،وزیراعظم کولکھے گئے خط کے جواب کا انتظارہے ، بھارت کا وطیرہ ہے کہ وہ ہمیشہ پاکستان کو عدم استحکام کرنے کیلئے سازشوں میں مصروف رہتا ہے ، لیکن وہ پاکستان کیساتھ جنگ نہیں کرسکتا ،اس کو پاکستان کی طاقت کااندازہ ہے ،بیرون ممالک میں پاکستان کی لابنگ نہیں ہے ،آج پاکستان دنیا بھر میں پچھلی سیٹوں پر ہے،پاکستان کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں پر مظالم کا مسئلہ عالمی عدالت انصاف میں لے کر جائے،افغانستان میں اگر امن ہوگاتو پاکستان میں امن ہوگا، افغانستان اس وقت بھارت کی گود میں جاکر بیٹھ گیا ہے، حکومت کو اداروں پر اعتماد کرنا چاہیے ، جب میں وزیرداخلہ تھا تو لوگ سب جی حضوری کرتے تھے ،ہرایک کی تفصیلات میرے پاس موجود ہیں لیکن میں سامنے نہیں لانا چاہتا،یہ لوگ میرا نام لے کر تڑکا لگاتے ہیں،میں نے جب تڑکا لگایا تو سب کو پتہ لگ جائے گا،لوگ جیلوں سے چھوٹ کر میرے نام پر نیوز ہیڈ لائن بنواتے ہیں،مہاجر قوم کونقصان پہنچانے کے میرے خلاف ثبوت ہیں تو سامنے لائیں، کچھ لوگ سی پیک کو سیاست زدہ کرناچاہتے ہیں،پاکستان میں حالات خراب کرانے کیلئے افغان انٹیلی جنس اوربھارتی خفیہ ایجنسی را میں گٹھ جوڑ ہوچکا ہے،اس کو روکنے کیلئے مربوط اقدام کی ضرورت ہے۔ رینجرزاور دیگر سکیورٹی اداروں نے کراچی میں امن قائم کیاہے ،ملکی حالات کی بہتری کیلئے کسی کومیری ضرورت ہے تو اپنی خدمات پیش کرنے کوتیارہوں۔

رحمن ملک

مزید : صفحہ آخر