صدر مملکت کا قومی بیانیہ بارے خطاب ہمارے مؤقف کی تائید ہے‘ ساجد نقوی

صدر مملکت کا قومی بیانیہ بارے خطاب ہمارے مؤقف کی تائید ہے‘ ساجد نقوی

ملتان (سٹی رپورٹر) قائد ملت جعفریہ پاکستان اور اسلامی تحریک کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ صدر مملکت ممنون حسین وفاق کی علامت اور قومی بیانیہ بارے ان کے خطاب کے نکات ہمارے مسلسل موقف کی مکمل تائیدہے۔ فتووں یا علماء سے بیانیے کے بجائے ریاست اپنی(بقیہ نمبر10صفحہ12پر )

ذمہ داری پوری کرے، آئین کے ہوتے ہوئے کسی فتویٰ کی ضرورت نہیں۔البتہ نئے بیانیہ کیلئے کوششیں کیوں کی جا تی رہیں اور فتویٰ حاصل کر نے کے اصل اسباب و علل کیا ہیں؟یہ سوالات اپنی جگہ پر موجود ہے ۔شیعہ علما کونسل پنجاب کے صدر علامہ سبطین حیدر سبزواری سے گفتگو میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ صدر مملکت وفاق پاکستان کی علامت ہیں ،جنہوں نے اپنے خطاب میں انتہاء پسندی کے بچے کچھے اثرات کے خاتمے کیلئے قومی بیانیہ پوری قوت سے پیش کرنے کی ضرورت پر زوردیا، اس مقصد کیلئے حکومت، پارلیمنٹرینز ، سیاسی جماعتوں اور علمی و تحقیقی اداروں کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے، یہی بات ہم نے کچھ عرصہ قبل کہی ۔ صدر مملکت نے اپنے خطاب میں جن اکائیوں کی جانب توجہ دلائی وہ انتہائی سنجیدہ اور مثبت پیش رفت ہے، ریاست کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھائے۔ علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ چند روز قبل اسلام آباد میں ایک سیمینار کے بعد فتویٰ یا بیانیہ جاری کیاگیا اس بیانیہ کو تیار کر نیکی کوشش بارے میں سوال جنم لے رہاہے کہ اس حوالے سے زیادہ دلچسپی کیوں دکھائی دی جارہی ہے اور وہ کون سے علل و اسباب ہیں جس کی وجہ سے اس بیانیہ کی ضرورت پیش آرہی ہے۔ ایسا لگتاہے کہ اس طرح کا بیانیہ جاری کرکے اصل مسئلہ کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی کی گئی جب کی دہشتگردی مذہبی مسئلہ نہیں ہے، اس لئے ہماری دانست میں بیانیہ کاعمل اصل معاملے سے توجہ ہٹانے کے لئے ہے ۔مذکورہ فتویٰ پر بعض ایسے افرادسے دستخط لئے گئے جن کی درجہ بندی کے حوالے سے پوزیشن انتہائی کمزور ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر