جو سلوک میرے ساتھ ہوا وہی حسین نواز کے ساتھ ہونا چاہئے،ڈاکٹر عاصم

جو سلوک میرے ساتھ ہوا وہی حسین نواز کے ساتھ ہونا چاہئے،ڈاکٹر عاصم

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا ہے کہ پانامہ کیس میں جے آئی ٹی سے کچھ ثابت نہیں ہوگا، میرے خلاف جو کیس چل رہا ہے وہ جھوٹی شکایت پر چل رہا ہے، جو سلوک میرے ساتھ ہوا اسی طرح سلوک حسین نواز کے ساتھ بھی ہونا چاہئے، چیئرمین نیب نے رشوت لے کر نواز شریف کے خلاف کیس نہیں بنایا، ملک میں انصاف برابری کی سطح پر ہونا چاہئے، عدلیہ کے خلاف بیان بہاری سے دلوایا گیا ہے، اہل زبان سے نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے خلاف کرپشن ریفرنسنز کے معاملے پر احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر عاصم حسین سے جب سوال کیا گیا کہ پانامہ کے معاملے پر پیپلز پارٹی کیوں خاموش ہے تو ڈاکٹر عاصم حسین نے جواب دیا کہ میدان میں جب دو لوگ باکسنگ کر رہے ہوں تیسرے کو باہر انتظار کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میرے حساب سے پانامہ جے آئی ٹی سے کچھ ثابت نہیں ہوگا۔ جے آئی ٹی کے فیصلے سے پہلے بہت ساری چیزیں سامنے آرہی ہیں۔میں تو صرف ایک چیز جانتا ہوں میرے خلاف جو کیس چل رہا ہے وہ جھوٹی شکایت پر چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس شکایت پر کیس بنایا گیا ہے۔ اس میں میرا نام نہیں تھا۔ اس کے باوجود میرا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا۔میرے خلاف جعلی ثبوت پیش کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جو سلوک میرے ساتھ ہوا اس طرح سلوک حسین نواز کے ساتھ بھی وہی ہونا چاہئے ۔جس طرح میرے کیس میں ہوا ،پہلے گرفتار کیا،جے آئی ٹی بنائی جاتی، حسین نواز و دیگر نام بھی ای سی ایل میں ڈالے جائیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چیئرمین نیب قمر الزمان نے رشوت لے کر نواز شریف کے خلاف کیس نہیں بنایا ،نہ جیل میں ڈالا جبکہ نواز شریف اور انکے بیٹوں کے خلاف عمران خان نے شکایت کی تھی۔ چیئرمین نیب پر آرٹیکل 6 لگانا چاہئے۔ ملک میں انصاف برابر کی سطح ہونا چاہئے۔ نواز فیملی کے ساتھ ویسا سلوک کیا جائے، جیسا میرے ساتھ کیا گیام تب میں سمجھوں گا کہ انصاف ہو رہا ہے۔ سینیٹر نہال ہاشمی کے عدلیہ کے خلاف بیان دینے کے سوال پر ڈاکٹر عاصم حسین نے جواب دیا کہ ایسا بیان صرف بہاری سے ہی دلوایا جا سکتا ہے سمجھے ؟ جس پر صحافیوں نے کہا کہ آپ سمجھا دیں ہمیں سمجھ نہیں آیا سوال، جس پر ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا کہ عدلیہ کے خلاف بہاری سے بیان دلوا سکتے ہیں اہل زبان سے نہیں۔

مزید : کراچی صفحہ اول