6ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعویداروں نے بجلی ہی ختم کر دی :عائشہ گلالئی

6ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعویداروں نے بجلی ہی ختم کر دی :عائشہ گلالئی

سخاکوٹ (نمائندہ پاکستان ) خاتون ممبر قومی اسمبلی اور پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی رہنماء عائشہ گلالئی نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اورچھ مہینوں میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے وعدے کرنے والوں نے بجلی کی وجود ختم کردی ہے ۔ 121میگاواٹ بجلی نشنل گرڈ کو دینے والے ضلع ملاکنڈ میں تین بجلی گھر موجود ہیں اور یہاں طویل بجلی لوڈشیڈنگ آئین سے انحراف ہے کیونکہ آئین کے رو سے جہاں بجلی پیدا ہوتی ہے وہاں کے عوام کو بجلی دینا اولین ترجیح ذمہ داری ہوتی ہے ۔تحصیل درگئی میں غیر قانونی طور پر بننے والے سٹیل ملز اور کارخانوں کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے ۔ سانحہ درگئی کی جوڈیشل انکوائری کے لئے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دونگی تاکہ شہید جاوید طوفان کے ورثاء کو انصاف مل سکے ۔ صوبائی حکومت واقعے میں ملوث آفراد کے خلاف سخت کاروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر میں نامزد اہلکاروں کو فی الفور معطل کریں اور غیر جانبدار تحقیقات کے بعد اصل ملزمان کو سخت سزا دی جائے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بجلی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کے دوران مبینہ طور پر لیویز کے فائرنگ سے شہید ہونے والے انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن درگئی کالج کے صدر جاوید خان طوفان آف یونین کونسل ورتیر کے فاتحہ خوانی کے موقع پر کارکنوں اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ممبر قومی اسمبلی فاتحہ خوانی کے لئے شہید جاوید طوفان کے گھر گئی اور ان کے والدین اور بیوہ سے جاوید طوفان کے وفات پر دلی تعزیت کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر ممتاز سیاستدان اور پی ٹی آئی ملاکنڈ کے رہنماء میاں محمد اسلام بادشاہ ، حاجی محمد حیات خان آف غنی ڈھیرئی ، سابق اُمیدوارصوبائی اسمبلی ڈاکٹر فضل محمد ، ممبر ضلع کونسل تحسین اﷲ خان ،ضلعی سیکرٹری اطلاعات ولایت خان باچہ ، سابق تحصیل جنرل سیکرٹری سلیمان خان ، میاں جمال شاہ ، انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن اور انصاف یوتھ ونگ کے رہنماء محمد زادہ آگرہ ، شجاعت علی ، شہاب شاہ ،سابق نائب ناظم رازق شاہ اور آرشد خٹک ایڈوکیٹ بھی ان کے ہمراہ تھیں ۔ میاں محمد اسلام بادشاہ اور ڈاکٹر فضل محمد نے مرکز ی رہنماء و ممبر قومی اسمبلی کو واقعہ درگئی پر تفصیلی طور پر آگاہ کیا ۔عائشہ گلالئی نے کہا کہ درگئی واقعے کی جوڈیشنل انکوائری کے سلسلے میں صوبائی حکومت اور چےئرمین عمران خان سے بات کرونگی ۔ا نہوں نے کہا کہ شہید جاوید طوفان کا خون رائیگاں نہیں جائیگی جنہوں نے ظلم کے خلاف آواز اُٹھا کر قوم کی خاطر جان کا نذرانہ دیا اور شہادت کا رتبہ حاصل کیا ہے ۔ جاوید طوفان جیسے لوگ ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قانون یا آئین پُر آمن مظاہرین پرڈائریکٹ فائرنگ کرنے کی اجازت نہیں دیتا اس لئے درگئی واقعے میں ڈائریکٹ فائرنگ کی اصل وجوہات سامنے لانے چاہئے اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچا کر انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں تاکہ مستقبل میں کوئی ایسا اقدام کرنے بارے سوچ بھی نہ سکے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت شہید جاوید طوفان کے ورثاء کے ساتھ مالی امدادکریگی اور شہید کے بھائی کو سرکاری نوکری دلائے گی تاکہ کچھ نا کچھ آزالہ ہو سکے ۔ عائشہ گلالئی نے مذید کہا کہ ضلع ملاکنڈ ایک پُر فضا علاقہ ہے لیکن بد قسمتی سے یہاں بھی ٹیکس سے بچنے والوں نے غیر قانونی کارخانے لگا کر یہاں کے ماحول کو آلودہ کردیا ہے اس لئے سپریم کورٹ آف پاکستان تحصیل درگئی میں بننے والے سٹیل ملز کوپانامہ آف شوور کمپنیز کیس میں شامل کرکے اس کی تحقیقات کرائیں کیونکہ خیال کیا جارہا ہے کہ ان کارخانوں والوں کیساتھ بھی میاں براداران کے خاندان کے تعلقات ہیں جنہوں نے ٹیکس سے بچنے کے لئے ٹیکس فری زون ملاکنڈ میں سٹیل ملز کے کارخانے لگائے ہیں ۔

مزید : کراچی صفحہ اول