وسیع تر مذہبی اتحاد کیلئے لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں،شاہ اویس نورانی

وسیع تر مذہبی اتحاد کیلئے لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں،شاہ اویس نورانی

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی رہنما اور مرکزی جماعت اہل سنت کے نگران اعلیٰ شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری جدوجہد رنگ لا رہی ہے اور مذہبی جماعتیں ایک دوسرے کے قریب آرہی ہیں اور اس بات کا ادراک پوری شدت سے کیا جا رہا ہے کہ مذہبی جماعتوں کی مشترکہ سیاسی قوت کے آگے سیکولر و لبرل عناصر بے بس تھے، مگر ہم نے خود ہی کمان سیکولر عناصر کے ہاتھوں میں دے دی ، مسجد و مدارس کا گلہ گھونٹنے والوں کو ایوانوں سے ہمیشہ کے لئے فارغ کردینگے، اسلام پسند قوتیں کبھی بھی پاکستان سے مٹائی یا کمزور نہیں کی جا سکتی ہیں، منظم سازش کے تحت مسجد اور مدارس کے خلاف خوف کی فزاں قائم کی گئی تا کہ لوگ نیکی کے راستے کی طرف نہ آسکیں،بلوچستان سے آئے ہوئے خادمین اور مریدین کے اعزاز میں امام شاہ احمد نورانی صدیقی کی رہائش گاہ پر منعقدہ دعوت سحری سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی رہنما اور مرکزی جماعت اہل سنت کے نگران اعلیٰ شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا کہ رمضان المبارک کے بعد مذہبی وسیع تر مذہبی اتحاد کے لئے لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں،دینی جماعتوں کے اتحاد میں غیر مذہبی جماعتوں کی گنجائش ہوگی لیکن ایجنڈا اسلام ہی ہوگا اور مقصد نظام مصطفیﷺ کا نفاذ ہو گا، نیک مقاصد رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو خوش آمدید کہیں گے،مملکت خداداد پاکستان میں کفر کا ایجنڈا نہیں چل سکتا ہے، یہاں اسلام کا پرچم اور قرآن و سنت کے قانون کا نفاذ ہوگا، اسلام پسند قوتوں کا دستور قرآنی ہے اور طریقہ راہ سنت ہے، شریعت محمدی ﷺ کے نفاذ اور اسلام کی بالادستی کے لئے سیکولر اور لبرل بت توڑنے کی ضرورت ہے، گزشتہ الیکشن میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے سیکولر عناصر نے پاکستان کو ذاتی جاگیر سمجھ لیا تھا، سود، الحاد، کفر، سیکولر عقائد، قادیانیت ، گستاخیوں کی ترویج و اشاعت عام کردی گئی تھی، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا، پوری قوت سے ان خرافات کے آگے بند باندھیں گے،،شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا کہ منافع خوروں کے خلاف متعلقہ محکمہ کی کوئی کاروائی نظر نہیں آرہی ہے، کمشنر کراچی کیا کر رہے ہیں؟عوامی بائیکاٹ کا ساتھ دینے سے ان کی ذمہ داری ختم نہیں ہوجاتی ہے،کمشنر کراچی جواب دیں کہ جو پھل یا سبزی منڈی میں 40روپے کلو ملتی ہے وہ کراچی کی مارکیٹ میں آتے ہی 120روپے کی کیسے ہوجاتی ہے، کیوں کہ فوٹ اتھارٹی اور پرائش ریگولیٹری کے ڈیپارمنٹ میں موجود کالی بھیریں سسٹیمٹک بھتہ وصول کر لیتے ہیں اس لئے عوام سے یہ رقوم وصول کی جاتی ہے، مسئلے کا سخت ترین حل ڈھونڈا جائے اور اس لوٹ مار کو بند کیا جائے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر