ڈہرکی :نوجوان کے قتل میں ملوث بااثر وڈیرے کو بچانے کیلئے پولیس متحرک

ڈہرکی :نوجوان کے قتل میں ملوث بااثر وڈیرے کو بچانے کیلئے پولیس متحرک

ڈہرکی (نامہ نگار) ڈہرکی میں 13روزقبل وڈیرے کے کہنے پر پو لیس کے ہاتھوں وحشیانہ تشدد کرکے ڈہرکی کے رہائشی کی گردن بازوارٹانگیں توڑکر بے دردی سے قتل ہونے والے نوجوان عبدالرزاق قتل میں ملوث بااثروڈیرے کو بچانے کیلئے ضلعی او مقامی تھانے کا ایس ایچ او قلب شاہ نے ایڑھی چوٹی کا زور لگانا شروع کردیا مقدمہ واپس لینے پر ایک کروڑ روپے دینے کی آفر کو ورثا نے ٹھکرا(بقیہ نمبر44صفحہ12پر )

دی پولیس اور ملزمان کے خلاف مقتول کے بھائی نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ گھوٹکی میں پٹیشن دائر کرادی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے مقدمہ کے انکوائری افسر ڈی ایس پی عبدالقدوس کلوڑ کو عدالت میں فوری طلب کرکے بااثر ملزمان افضل مہر،کملیش،ہریشو اوردیگر کے مقدمہ سے ناموں کو خارج کرنے سے روک دیا اور سیشن جج نے حکم دیا ہے کہ روز کی بنیاد پر اور کسی بااثر کے دباؤ میں آئے بغیرشفاف طریقہ سے انکوائری رپورٹ عدالت میں جمع کرا ئی جائے جس کے بعد بااثر ملزمان نے اپنے ہمدرد ڈہرکی تھانہ کے ایس ایچ اوقلب عباس شاہ اور دیگر کو اپنے بچانے کی زمہ داری سونپ کر انکے زریعے مقتول عبدالرزاق کے بھائیوں دیگر ورثا پر دباؤڈالتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ ڈہرکی قلب عباس شاہ نے حراساں کرنا شروع کردیا ہے اور ورثا سے کہا ہے کہ تم لوگ بااثر وڈیرے اور ہندو بیوپاریوں پر سے درج قتل کا مقدمہ واپس لے لو تو میں اسکے بدلے تمیں وڈیرے افضل مہر،کملیش اور ہریشوں بیوپاری سے ایک کروڑ روپوں کی رقم لیکر دوں گا لیکن ورثا نے ایس ایچ او کی ایسی آفرکوٹھکرادی ہے اور مقتول کے بھائیوں حاجی مشتاق احمد ، گلزار لاڑک اور دیگر لاڑک برادری کے معززین نے کہا ہے کہ ہم وڈیرے کے کہنے پر بے دردی سے قتل ہونے والے اپنے شہید عبدالرزاق لاڑک کے خون کا سودا کرنے کے بجائے قاتلوں کوکیفرکردار تک پہنچائیں گے چاہے ہمیں سپریم کورٹ تک جانا پڑا ہم جائیں گے لیکن قاتلوں کو سزا دلوا کر رہیں گے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر