سرزمین اسلام پر انتہا پسندی اور مذہبی تصادم کی آگ سازش کے تحت بھڑکائی گئی

سرزمین اسلام پر انتہا پسندی اور مذہبی تصادم کی آگ سازش کے تحت بھڑکائی گئی

ملتان (سٹی رپورٹر) اسلامی جمہوریہ ایران کے ثقافتی قونصلر آقائے شہاب الدین دارائی نے کہاہے کہ حضرت امام خمینی نے ساری عمر سورج کی طرح روشنی پھیلائی ان کی زندگی کا عام ترین حاصل انقلاب اسلامی کا تناور درخت ہے جس کے نام اور کام سے آج دنیا کی جابر قوتیں لرزہ براندام ہیں ان خیا لات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز حضرت امام خمینی کی 28ویں برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع ماہر تعلیم پروفیسر حمید رضا(بقیہ نمبر45صفحہ12پر )

صدیقی ، روزنامہ پاکستان کے ریذ یڈنٹ ایڈیٹر شوکت اشفا ق ،ڈاکٹر غضنفر مہدی ، علامہ سید مجاہد عباس گردیزی ، علامہ اقتدار حسین نقوی ، مفتی غلام مصطفی رضوی، سیدہ زاہدہ خانم بخاری ، سید راشد بخاری ، نو ر لامین خاکوانی ، عیسی کریمی ، ثقلین نقوی ، شوذب کاظمی سمیت دیگر نے بھی شرکت اورخطا ب کیا اس موقع پر انہوں نے مزید کہاہے کہ دین اسلام امن محبت بھائی چارے کامذہب ہے جس میں شدت پسندی کی کوئی گنجائش نہی ہے سوچی سمجھی ساز ش کے ذریعے سر زمین اسلام پر انتہاپسندی اور مذہبی تصادم کی آگ کو بھڑکایا گیا انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی قوتیں نے اس دہشت گردی کا راستہ روکنے کی کوئی کو شش نہ کی جس کی وجہ سے آ ج عالم اسلام بے شمار مسائل کا شکار ہے جن کے چنگل سے نکلنا بے حد ضروری ہے انہوں نے کہاہے کہ عالم اسلام کے لئے اسلام ہی اہمیت کا حامل ہے ہمارے عیار دشمن اور نادان دوست جو کہ غفلت کا شکار ہیں اسلام کو تفرقے سے دوچار کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم سب آپس میں بھائی ہیں ہمارا دین اسلام ہے اور علمائے اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں میں اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دیں قبل ازیں سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام نے خظاب کرتے ہوئے کہاہے کہ حضرت امام خمینی باطل قوتوں کے سامنے کلمہ حق بلند کیا اور اپنی ایمانی قوت سے ثابت کر دیا کہ فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے انہوں نے کہاہے کہ انقلاب اسلامی ایران کے بعد ایران دنیا کے نقشہ پر ایک اسلامی قوت بن کے ابھرا اورآج وہ ایک تناور درخت بن چکا ہے انہوں نے کہاہے کہ تمام عالم اسلام کے لئے دراصل اسلام ہی اہمیت کا حامل ہے سب مسلمان سنی ،شیعہ ، حنفی ، شافعی ، مالکی ، اور حنبلی اس کی ذیلی شاخیں ہیں اور یہ ایسی نہریں ہیں جو ایک دریا سے پانی حاصل کرتی ہیں اگر پانی کا اصل منبع خطرے سے دوچار ہو جائے تو تمام نہریں بھی خشک ہونے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ہمیں ان نہروں کی فکر میں پڑنے کے بجائے اصل منبع کی فکر کرنی چاہیے انہوں نے کہاہے کہ جو شیعہ سنی کے خلاف بات کرے وہ شیعہ ہے نہ سنی اس طرح کے سازشی عناصر سے بچنے کی ضرورت ہے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر