سعودی عرب اور مصر سمیت 4ممالک نے سیکیورٹی وجوہات پر قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے

سعودی عرب اور مصر سمیت 4ممالک نے سیکیورٹی وجوہات پر قطر سے سفارتی تعلقات ...
سعودی عرب اور مصر سمیت 4ممالک نے سیکیورٹی وجوہات پر قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے

  


ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن ) سعودی عرب سمیت چار ممالک نے قطر کیساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیے ۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مصر نے سیکیورٹی وجوہات کی بناءپر قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیے ۔ بحرین نے قطر کے شہریوں کو 14رو ز میں ملک چھوڑنے کی ہدایت بھی کر دی ہے جبکہ سعودی عرب نے قطر کیساتھ زمینی ، فضائی اور بحری رابطے بھی ختم منقطع کرنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ قطر انتہا پسندی اور دہشتگردی کو تحفظ دیتا ہے۔چاروں ممالک کی جانب سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے بعد یمن جنگ میں مصروف سعودی اتحاد میں شامل قطر کے فوجی دستوں کو واپس بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

مزید خبریں پڑھیں، بلآخر وہ خبر آگئی جس کا ہر پاکستانی کو انتظار تھا 

غیر ملکی خیر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے قطر کے ساتھ سرحدیں بھی بند کر دی ہیں جو ممکنہ طور پر سیکیورٹی صورت حال بہتر ہونے تک بند رہے گی اور قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی بحال نہیں کیے جائیں گے ۔اس کے علاوہ یمن میں سعودی اتحاد میں شریک قطری فوجی دستوں کو نکال دیا گیا۔بحرین نے اندرونی معاملات میں مداخلت پر قطر کیساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ مصر نے سیکیورٹی خدشات کے باعث قطر کیساتھ سفارتی تعلقات منقطع کیے ہیں۔چاروں ممالک نے قطر پر خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

پاکستان کے ہمسایہ ملک میں خوفناک حادثہ ، ہلاکتیں

چاروں ممالک کی جانب سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے بعد یمن جنگ میں مصروف سعودی اتحاد میں شامل قطر کے فوجی دستوں کو واپس بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ مزید برآں سعودی عرب نے قطر کے ساتھ ملحقہ سرحدیں بھی بند کردی ہیں، جب کہ زمینی، فضائی اور سمندری رابطے بھی منقطع کردیئے۔

سعودی حکام کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق، 'قطر نے خطے کے امن و استحکام کو متاثر کرنے کے لیے مسلم برادرہڈ، داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گرد اور فرقہ وارانہ گروپوں کی حمایت کی اور میڈیا کے ذرہعے ان کے پیغامات اور اسکیموں کی تشہیر کی'۔

سعودی اتحادی ممالک نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر اندرونی معاملات میں مداخلت اور دہشت گردی کو پروان چڑھا رہا ہے، عرب اتحادیوں کی جانب سے قطر پر القاعدہ اخوان اور داعش کی سرپرستی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

دوسری جانب قطر کے حکام کی جانب سے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی موقف سامنے نہیں آسکا، تاہم وہ ماضی میں دہشت گردوں یا ایران کی حمایت اور مدد کے الزامات کی ترید کرتا آیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب قطر نے گذشتہ ماہ مئی کے آخر میں الزام عائد کیا تھا کہ ہیکرز نے اس کی سرکاری نیوز ایجنسی کو ہیک کرکے حکمران امیر کی جانب سے ایران اور اسرائیل کے حوالے سے جعلی کمنٹس پبلش کیےجس کے بعد خلیجی عرب ریاستوں نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے مشہور سیٹلائٹ نیوز نیٹ ورک الجزیرہ سمیت قطری میڈیا پر پابندی عائد کردی تھی۔ 

مزید : عرب دنیا /اہم خبریں