فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 111

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 111
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 111

  


انجمن کے کامیاب ہیروئن بننے میں کچھ زیادہ ہی وقت لگ گیا۔ ’’وعدے کی زنجیر‘‘ دو بڑے اداکاروں کی موجودگی کے باوجود کامیاب نہ ہوسکی۔ ایک نئی ہیروئن کیلئے یہ بہت بڑا صدمہ تھا۔ عام طور پر اداکاروں کی قسمت کا فیصلہ ان کی پہلی فلم کی کامیابی یا ناکامی ہی کرتی ہے۔ مگر بعض اوقات اس اصول میں تھوڑی تبدیلی بھی د یکھنے میں آتی ہے اور کئی فنکار ابتدائی ناکامیوں کے باوجود آخرکار کامیابی کی منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اگرچہ یہ معدودے چند ہی ہوتے ہیں۔ انجمن کو بھی اس فہرست میں شمار کیا جاسکتا ہے۔

’’وعدے کی زنجیر‘‘ ایک میوزیکل رومانی فلم تھی مگر انجمن فلم میں اپنے کردار کا بوجھ نہ اٹھا سکی۔ اچھی موسیقی اور دو سپر اسٹار کی بیساکھیاں بھی اسے کھڑا کرنے میں ناکام رہیں۔ دیکھنے والوں کو وہ بہت زیادہ پسند بھی نہیں آئیں۔ مگر یہ غنیمت ہے کہ انہوں نے اسے ناپسند نہیں کیا تھا۔

شباب صاحب کو اپنے انتخاب پر بہت مان تھا۔ انہوں نے ’’وعدے کی زنجیر‘‘ کے بعد انجمن کو دوسری فلم میں پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس بار انجمن کے ساتھ انہوں نے ایک اور سپر اسٹار ندیم کو پیش کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس فلم کا نام ’’دو راستے‘‘ تھا۔ اس فلم کی کاسٹ بھی معمولی نہ تھی۔ ندیم کے ساتھ ایک اور ہیرو شاہد بھی اس فلم میں موجود تھا۔ یہی نہیں ایک اور کامیاب ہیروئن ممتاز بھی اس میں جلوہ گر تھیں۔ یہ دو جوڑوں کی کہانی تھی۔ اس کی بنیاد بھی رومان اور موسیقی پر رکھی گئی تھی۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 110 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’وعدے کی زنجیر‘‘ فروری ۱۹۸۹ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ اپنے دستور کے مطابق شباب صاحب نے برقی رفتاری سے اپنی دوسری فلم مکمل کی اور مئی ۱۹۸۰ء میں اسے نمائش کیلئے پیش کردیا۔ مگر قسمت کے آگے ایک پیش نہ چلی ’’دو راستے‘‘ بھی کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکی۔

کوئی اور ہوتا تو ہمت ہار کر بیٹھ جاتا۔ مگر ان صاحب کا نام شباب کیرانوی تھا۔ شباب صاحب اپنے انتخاب بلکہ حسنِ انتخاب کی یہ بے قدری برداشت نہیں کرسکے۔ انجمن انہیں پسند تھی۔ انہوں نے بڑے اعتماد کے ساتھ اس کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کی تھی۔ اس کی ناکامی انہیں گوارا نہیں تھی۔ اس کی دوسری فلم کے بعد بھی انہوں نے اپنی امیدیں قائم رکھیں۔

انجمن انہیں بنی بنائی ہیروئن نظر آتی تھی۔ پھر وہ کامیاب کیوں نہیں ہوئی؟ یہ جاننے کیلئے انہوں نے تیسری فلم بھی بنا ڈالی۔

یہ ایک کامیڈی تھی۔ اس زمانے میں کامیدی فلموں کا دور نئے سرے سے شروع ہو رہا تھا۔ اس سے فائدہ اٹھا کر شباب صاحب نے بھی ایک ہلکی پھلکی فلم بنانے کا فیصلہ کرلیا۔

’’آپ سے کیا پردہ‘‘ ایک دلچسپ فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم میں ایک بار پھر محمد علی کو انجمن کے ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا۔ کامیاب مزاحیہ اداکار علی اعجاز، صاعقہ اور ڈانسر عشرت چودھری بھی اس فلم کی کاسٹ میں شامل تھے۔ ’’آپ سے کیا پردہ‘‘ اسی سال میں ریلیز کردی گئی مگر یہ فلم بھی سپر ہٹ نہ ہوسکی۔ انجمن کو فلم بینوں نے پسند کیا اور نہ ناپسند۔ جو ہیروئن اپنی ابتدائی تین فلموں میں کامیابی حاصل نہ کرسکے اس کا فلمی صنعت میں بھلا کیا مستقبل ہوسکتا ہے؟ مگر یہ انجمن تھی جس کے مقدر میں کاتب تقدیر نے بہت بڑی کامیابیاں اور کامرانیاں لکھ دی تھیں۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ تقدیر کا لکھا پورا نہ ہوتا۔

کم از کم شباب صاحب انجمن کے بارے میں مایوس ہوگئے تھے یہی وجہ ہے کہ اوپر تلے تین فلموں میں موقع دینے کے بعد انہوں نے انجمن کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لیا۔ مگر یہ بات خود ان کی سمجھ میں بھی نہیں آئی تھی کہ آخرپبلک نے انجمن کو ہیروئن کے طور قبول کیوں نہیں کیا؟ حالانکہ وہ بنی بنائی ہیروئن تھی؟

انجمن کیلئے حوصلہ افزا بات یہ تھی کہ فلم بینوں نے اسے مسترد نہیں کیا تھا۔ اگر فلم ہٹ ہوجائے تو اس کے ساتھ ہر چیز ہٹ ہوجاتی ہے۔ انجمن کی فلمیں ہٹ نہ ہوسکی تھیں مگر انجمن فلاپ بھی نہیں ہوئی تھی۔ دیکھنے والوں کو اس کا دلنواز سراپا اور پرکشش چہرہ اچھا لگا تھا۔ تو پھر کمی کس بات کی تھی؟ اس بار انجمن کو ایک اور بڑے اور تجربہ کار ہدایت کار نے آزمانے کا فیصلہ کیا۔ یہ پرویز ملک تھے۔ پرویز ملک بہت سی کامیاب فلمیں بنا چکے تھے۔ ذہین ہدایتکاروں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ سوچ سمجھ کر فلمیں بناتے تھے۔ انہوں نے ایک نئی فلم ’’رشتہ‘‘ کا آغاز کیا تو انجمن کو بھی اس فلم کی کاسٹ میں شامل کرلیا۔ ’’رشتہ‘‘ کوئی معمولی کاسٹ کی فلم نہ تھی۔ سپراسٹار ندیم اور مقبول ترین ہیروئن شبنم بھی اس کی کاسٹ میں شامل تھے۔ اور بھی کئی بڑے فنکار اس میں جلوہ گر تھے۔ مثلاً صبیحہ خانم، نجمہ محبوب، ساقی، علاؤالدین وغیرہ۔ مگر قدرت کو تو انجمن کو پنجابی فلموں کی مایہ ناز ہیروئن بنانا تھا۔ پھر وہ کسی اردو فلم میں کامیابی سے کیوں کر ہم کنار ہوسکتی تھی؟

ضرور پڑھیں: "ہم ایک ہیں"

’’رشتہ‘‘ بھی ہٹ نہ ہوسکی اور وقتی طور پر انجمن کو بھی یہ احساس پیدا ہوگیا کہ شاید اس کے اندر ایک مقبول اور کامیاب ہیروئن بننے والی صلاحیتیں اور خوبیاں موجود نہیں ہیں۔ شباب کیرانوی اور پرویز ملک جیسے ہدایتکاروں اور محمد علی، وحید مراد، ندیم اور شاہد جیسے اداکاروں کے ساتھ کام کرنے کے باوجود وہ ایک کامیاب اور مقبول ہیروئن نہیں بن سکی تھی۔ انجمن نے فلموں میں اداکاری تو شروع کردی تھی مگر اس کے ساتھ ہی اپنے پرانے پیشے کو بھی مکمل طور پر خیرباد نہیں کہا تھا کہ عقل مندی اور مصلحت کا تقاضا یہی تھا کہ وہ محتاط رہے اور اپنے تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں نہ ڈال دے۔ چار فلموں میں وہ قسمت آزمائی کرچکی تھی۔ بڑی بڑی، کامیاب اور مقبول ہیروئنوں کے ہوتے ہوئے کیا کوئی فلم ساز یا ہدایتکار اس کو ایک اور موقع دے گا؟ یہ سوال انجمن کیلئے خاصا پریشان کن تھا۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی خوداعتمادی اور شوق میں ذرا بھی کمی نہیں آئی تھی۔ وہ پہلے دن کی طرح پر امید تھی۔

*****

روشن آرا بیگم کا نام ہم نے جب بھی کسی کو لیتے ہوئے سنا انتہائی ادب و احترام کے ساتھ ہی سنا۔ وہ کلاسیکی موسیقی میں نہایت بلند مقام رکھتی تھی اور ابتدائی عمر میں پکّے کانوں سے ہمیں زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ملکہ موسیقی روشن آرا بیگم کی جگہ ملکہ ترنم نور جہاں کو زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ مگر جب آہستہ آہستہ شعور پیدا ہوا تو روشن آرا بیگم کی قدر و قیمت اور اہمیت کا بھی اندازہ ہوا۔ برصغیر کی کلاسیکی موسیقی میں روشن آرا بیگم ایک بہت بڑا نام اور ہمیشہ رہیں گی۔ ان کی گائیکی میں ایک انفرادیت اور انوکھا پن تھا اور آواز کی نغمگی تو سبحان اللہ۔ ہر راگ پر انہیں عبور حاصل تھا۔ ٹھمری جس سہولت اور ٹھاٹ سے گاتی تھیں دادرا بھی اسی آسانی اور نزاکت سے گا جاتی تھیں۔

روشن آرا بیگم کو ہم نے پہلی بار شاہ نور اسٹوڈیو میں ایک گانے کی صدا بندی کے سلسلے میں دیکھا۔ ایک دوست نے بڑے پرجوش انداز میں خبر دی کہ نذیر اجمیری صاحب، جو اس زمانے میں نئے نئے بمبئی سے لاہور آئے تھے، فلم ’’قسمت‘‘ کیلئے روشن آرا بیگم کی آواز میں ایک گانا ریکارڈ کر رہے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمیں اس وقت تک روشن آرا بیگم کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں اس لے ان کی عظمت اور اہمیت سے بھی ناواقف تھے۔(جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر 112 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ